Header Ads

Breaking News
recent

جنرل راحیل شریف کامتاثر کن دورۂ ترکی

 چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف دورہ ترکی پر تشریف لائے
تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ جنرل راحیل شریف کی شہرت اُن کی آمد سے بہت پہلے ہی ترکی پہنچ چکی تھی اور ترکی کی تمام اعلیٰ سرکاری ، سویلین اور فوجی شخصیات نے اپنے پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے ان سے ملاقات کرنے کو ترجیح دی۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے تین روزہ سرکاری دورے کا باقاعدہ آغاز جدید جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قبر پر پھول چڑھانے سے کیا ۔ انہوں نے مزارِ اتاترک کے میوزیم میں رکھی گئی وزٹنگ بک میں تاثرات قلم بند کرتے ہوئے عظیم رہنما اتاترک کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

بعد میں وہ ترک لینڈ فورسز ہیڈ کوارٹر پہنچے تو کمانڈر آف دی ٹرکش لینڈ فورسز ، جنرل صالح ذکی چولاک نے ان کا استقبال کیا اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ بری فوج کے ہیڈ کوارٹر ہی میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو ترکی اور پاکستان کی مسلح افواج کو زیادہ قریب لانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے اعتراف کے طور پر ’’ ٹرکش میرٹ آف لیجنڈ‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک بری فوج کے سربراہ جنرل صالح ذکی چولاک نے کہا کہ ’’ جنرل راحیل شریف کے دور میں دونوں ممالک کی مسلح افواج کو ایک دوسرے کے قریب لانے ، مشترکہ فوجی مشقوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ فوج کے مختلف شعبوں میں تعاون کے جن نئے دروازوں کو کھولا گیا ہے ان میں جنرل شریف نے بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے اور خاص طور پر ان کے دور میں شروع کئے جانے والے ’’ضرب ِ عضب آپریشن‘‘ سے پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے پاکستان جلد ہی دہشت گردی سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ "

جنرل راحیل شریف نے ترک مسلح افواج کی جانب سے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز’’میرٹ آف لیجنڈ‘‘ دئیے جانے پر اپنے ترک ہم منصب اور ترک مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ’’پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے میں اب تک جو کامیابی حاصل کی ہے وہ اپنے ان تجربات سے اپنے برادر ملک ترکی کی مسلح افواج کو بھی مستفید کرنے کے لئے تیار ہے۔‘‘ اس تقریب میں بری افواج کے اعلیٰ افسران کے علاوہ پاکستانی سفیر اور راقم کو بھی مدعو کیا گیا تھا ۔ تقریب کے بعد ترک بری فوج کے سربراہ جنرل صالح ذکی چولاک نے تمام شرکاء کے لئے لنچ کا بھی اہتمام کیا تھا۔
لنچ کے موقع پر راقم کو ترک مسلح افواج کے اعلیٰ افسران سے بات چیت کرنے کا موقع بھی ملا اوراس بات سے بھی آگاہی ہوئی کہ جس طرح دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گہرے تعاون کا سلسلہ جاری ہےاسے دوسرے شعبوں تک بھی منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان یہ تعلقات دیگر اسلامی ممالک کے لئے بھی قابلِ تقلید ہیں کیونکہ اسی طریقے سے مسلم دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو دیئے جانے والے ’’ میرٹ آف لیجنڈ‘‘ ایوارڈ کے بعد سب سے اہم تقریب انقرہ کے علاقے’’ کے چی اؤرین‘‘ میں منعقد ہوئی جہاں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے ایک سوپینتالیس شہدا کی یاد میں ایک یادگار قائم کی گئی ہے۔ اس یادگار کا افتتاح جنرل راحیل شریف نے کیا۔ ’’ کے چی اؤرین‘‘ پہنچنے پر ان کا استقبال علاقے کے میئر مصطفےٰ آق اور سفیر پاکستان سہیل محمود نے کیا۔

اس یاد گاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ’’کے چی اؤرین‘‘بلدیہ کے میئر مصطفےٰ آق نے کہا کہ ’’ترک عوام کے دلوں میں آج بھی سانحہ پشاور کے شہید 145 بچے اور اساتذہ زندہ ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اِن بچوں کی یاد میں ایک یادگار قائم کی ہے۔ یہ بچے ہمارے بچے ہیں اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ ہم نے ان تمام پاکستانی بچوں کے نام پر ایک ایک درخت لگایا ہے اور ہر درخت پر شہید بچے کے نام کی پلیٹ بھی آویزاں کی ہے علاوہ ازیں ہم نے اس یادگار ہی پرایک تختی بھی لگائی ہے جس میں پشاور آرمی پبلک اسکول کے تمام شہدا کے نام کنندہ ہیں۔‘‘ اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے انقرہ میں دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کی اور پاکستان کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جدو جہد میں ترکی کا بھر پور ساتھ دیتے رہیں گے۔ پاکستان کو بھی اسی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اس لئے ہم ترکی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ،ہم اپنے ترک بھائیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم نے ماضی میں بھی ترکی کے ساتھ تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی اس تعاون کو جاری رکھیں گے۔‘‘ خطاب کے بعد جنرل راحیل شریف، مئیر مصطفےٰ آق اور سفیر پاکستان سہیل محمود نے مشترکہ طور پر اس تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے اپنے اور اپنے بہادر بھائی شہید میجر شبیر شریف کے نام سے دو پودے بھی لگائے۔

جنرل راحیل شریف، مئیر مصطفےٰ آق کی جانب سے ان کے بھائی شہید میجر شبیر شریف کے نام سے بھی ایک پودا لگانے کا اہتمام کئے جانے پر بہت متاثر ہوئے اور اسے میئر مصطفےٰ آق کی جانب سے ایک بہت بڑا Gesture قرار دیتے ہوئے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ جنرل راحیل شریف نے میئر مصطفےٰ آق کو دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی جسے انہوں نے بخوشی قبول کرلیا۔ اس موقع پر جنرل راحیل شریف اور مئیر مصطفےٰ آق نے باہمی طور پر شیلڈز پیش کیں۔ جنرل راحیل شریف نے یادگار پر ان کے استقبال کے لئے آئے ہوئے پاکستانی طلبا و طالبات سے بھی بات چیت کی اور ا نہیں اپنی تعلیم میں گہری دلچسپی لینے اور پاکستان کا نام ترکی اور دنیا بھر میں بلند کرنے کی تلقین کی۔

بعد ازاںجنرل راحیل شریف نےانقرہ میں صدر ایردوان اور وزیراعظم احمد داؤد اولو سے الگ الگ ملاقات کی ۔ان ملاقاتوں میں انہوںنے انقرہ میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی فوج اور عوام کے گہرے دکھ اور افسوس سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے معاملات پر غور کیا گیا اوراس پر قابو پانے کے لئے باہمی قریبی تعاون کو جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔آرمی چیف نے وزیر دفاع وجدی گیونل ، وزیر خارجہ فریدون سینرلی اولو اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل حلوصی آقار سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ترک قیادت نے خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔آرمی چیف نے وار اکیڈمی میں اعلیٰ فوجی افسران سے ملاقات کے دوران ترک قیادت کو یقین دلایا کہ ترکی کو درپیش سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پاکستان ہر قسم کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔

ڈاکٹر فرقان حمید

No comments:

Powered by Blogger.