Header Ads

Breaking News
recent

پہلے ایک فیصد پھر 99 فیصد

دن مہینے کتنی جلدی گزرتے ہیں، پتا ہی نہین چلتا ۔ ابھی کل اگست مین جشن آزادی کی دھوم دھام تھی، ستمبر کا پتہ 6 ستمبر کے جشن سے چلا۔ اب ستمبر بھی گیا۔ اکتوبر نومبر بھی اسی طرح لمحوں میں گزر جائیں گے۔ پھر دسمبر آئے گا۔ پت چھڑ کا اداس موسم۔ یہی دن تھے جب مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنایا گیا۔ یہی وہ دن تھے جب اندرا گاندھی نے سیکولرزم کا منافقانہ لبادہ اتار پھینکا تھا اور مالی مائی کی طرح برہنہ تن ڈکرائی تھی کہ ہم مسلمانوں سے ایک ہزار سال کی ذلت کا بدلہ لے لیا اور نظریہ پاکستان کو سمنمین غرق کر دیا۔

ستمبر مین کچھ عجیب محسوس ہوا۔ جشن منانا بالکل ٹھیک کہ لاہور اور سیالکوٹ پر قبضے کا بھارتی خواب چکنا چور کر دیا گیا اور پاکستان فوج اس بےجگری سے لڑی کہ دنیا میں اس کی مثالیں تو مل جائیں گی لیکن بہت کم۔ اگرچہ بھارتی حملے پسپا کرنے کی ہمیں بھاری قیمت دینا پڑی لیکن اس نقصان کی وجہ نہ تو پاکستنی فوج کے نظام میں خرابی تھی نہ لڑنے کی صلاحیت میں کمزوری ۔ بھارت ڈویژن بھر بھر کے فوج لایا اور ہمارے ٹکڑیوں میں بٹ؁ ہوئے دستوں نے اپنی بےجگر سے انکا منہ پھیر دیا لیکن یہ ایک محیر القول واقعہ تھا۔ عام طور پر ایسی صورت حال میں جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ اسلحہ ہمارے پاس کم تھا اور ناقص۔

فوج کے جوان جسم پر دستی بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے آگے نہ لیٹ جاتے تو کیا ہوتا۔
بات جشن کی ہو رہی تھی، ستمبر یاد رکھنا بالکل ٹھیک اور بہت ضروری لیکن دسمبر کو یاد رکھنا اس سے بھی ضروری ۔ دسمبر ہماری غلطیوں سے ہوا لیکن دشمن نے اس پر جو جشن منایا اسکا حساب ایسا قرض ہے جو ہر صورت واجب ہے اور قرض چکانے کا مطلب یہ تو بالکل نہیں کہ ہم بھارت پر چڑھ دوڑیں بلکہ یہ ہے کہ اسکی سازشیں ناکام بنا دیں جو فاترالعقل جنونی مودی کی حکومت میں آںے کے بعد بڑھ گئی ہیں۔ ترقی کے راستے کھول دیں اور بھارت سے آگے نکل جائیں کہ بھارت کا پرغور احساس برتری کچھ ڈی سائز ہو چکے۔ جو پاکستان 1947ء میں بے سروسامانی کے باوجود 1958ء تک حیرت انگیز ترقی کر سکتا ہے وہ اب کیوں ترقی نہیں کر سکتا۔ دسمبر ہمیں یاد ہے کہ نہیں، دو مہینے بعد پتا چل ہی جائے گا۔

بھارت کا ذکر چلا ہے تو ایک غیر متوقع قسم کی خبر بھی پڑھ لیجئے۔ بھارت نے بوجوہ نیپال کی ناکہ بندی کردی ہے جسکے ردعمل میں نیپال نے بھارتی فلمیں دکھانے والے 44 چینلز بند کر دیئے ہیں۔ سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش بھی بند کر دی گئی ہے۔
یہ خبر غیر متوقع اسلئے ہے کہ نیپال ایک ہندو ملک ہے۔ پونے تین کروڑ آبادی والے اس ملک میں جو ہمالیہ کے دامن میں مشرق سے مغرب تک لمبائی میں پھیلا ہوا ہے ، پہلے بادشاہت تھی اور بھارت سے اسکے تعلقات بھی اس لئے اچھے تھے کہ یہ ایک طرح سے بھارت کا باجگزار ملک بنا ہوا تھا اور بھارت ہمیشہ اسے اپنا صوبہ سمجھتا رہا۔ پھر جمہوریت آئی تو حکومت ملک کو خودمختار بنانے پر تل گئی اور اسے بھارتی سائے سے نکال لیا۔ اس پر بھارت برہم ہوا اور مودی کے آںے کے بعد یہ برہمی جنون بن گئی۔ یہاں 5 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے۔

بھارت نیپال پر حملہ نہیں کر سکتا کہ دنیا کے اہم ترین سیاحتی ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے دنیا یہ حملہ برداشت نہیں کرے گی۔ چنانچہ اس نے نیپال کی معاشی ناکہ بندی کر دی ہے جس کا نتیجہ کیا نکلے گا سوائے اسکے کہ نیپال کا سارا انحصار چین پر ہو جائے گا جس کے ساتھ اسکی وسیع شمالی سرحدیں ملتی ہیں۔ اب دیکھئے پاکستان میں کیا ہے ایک آدھ چینل کو چھوڑ کر سارے عملا بھارت کے ثقافتی سفیر بنے ہوئے ہیں ۔ ہمارے اخبارات کے شوبز صفحات پر بڑی تصویر ہمیشہ بھارتی اداکارہ کی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بھارتی فلموں کی نمائش بھی شروع ہو چکی ہے، ہر بھارت فلم خواہ اسکا نام نور اسلام ہی کیوں نہ ہو، ہندو دیوتاؤں کے عکس امیتابھ بچن کے شو دکھا رہا ہے۔ اس شو کا مقصد بھارت سے اردو کو ختم کر کے شدھ ہندی کو مقبول کرنا ہے۔ بھارت میں تو ایسا ہو نہیں سکا، امید ہے ہمارے ہاں ہوجائے گا۔

ہماری بھارت سے دوستی ہو جائے اس سے اچھا بات کیا ہوگی لیکن اس سے پہلے بھارت کو اپنی شرارتیں روکنا ہوں گی، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان بھارت کا دشمن بالکل نہیں بلکہ یہ بھارت ہے جو پاکستان کا دشمن ہے۔
خودمختاری اور عزت نفس کے لیے نیپال کی حکمت عملی نیپال کو مبارک، ہم تو پاکستانی ہیں، ہم تو ایسے ہی رہیں گے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کرپشن کے خلاف نیب کی مہم پر دھواں دار تنقید کی ہے۔ رضا ربانی کی بطور چیئرمین سینیٹ تقرری پر چرخ گرداں پہلے ہی نامہرباں ہے۔ اس حالیہ تقریر سے اسکا عتاب ہوا ہوگا۔ رضا ربانی کو اندازہ تو ہوگا۔ رضا ربانی برہم تھے کہ کرپشن کے الزامات کے تحت ساری کارروائی سیاستدانوں ہی کے خلاف کیوں ہو رہی ہے جبکہ کرپشن میں سیاست والوں کو حصہ صرف ایک فیصد ہے۔ باقی 99 فیصد کرپشن دوسروں نے کی ہے۔ انہوں نے کہ کہ سول اور ملٹری بیوروکریسی پاک صاف نہیں۔
نیب پر انکی برہمی باجواز ہونے کے باوجود بےجواز ہے اس لئے کہ نیب آزاد ادارہ ہے ۔ ہمارے ہاں آزاد پابند کو کہا جاتا ہے مثلا ہمارے ہاں میڈیا کو بھی آزاد کہا جاتا ہے۔ یہ آزاد نام کا کوئی وجود ہوتا تو مارے ہنسی کے اسکی جان نکل جاتی۔ جس طرح میڈیا حکم کا غلام ہے ویسے ہی نیب بھی۔ وہ تو وہی کرے گا جو اسے کرنے کو کہا جائے گا اور اسی کو پکڑے گا جسے پکڑنے کو کہا جائے گا اور وہی چارج شیٹ اسکے خلاف جاری کرے گا جو اسے تھمائی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹ پھر سے غور کر لیں کہ کیا نیب پر تنقید جائز ہے۔ یہ تو وہی بات ہوگی کہ کسی کو گولی لگ جائے تو وہ بندوق پر تنقید کرنا شروع کر دے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ گولی بندوق نے نہیں چلائی بلکہ اس نے چلائی جس نے بندوق چلائی۔

کرپشن صرف سیاستدان اور بیوروکریٹ ہی نہیں کرتے۔ نجی اداروں نے بھی اندھیر مچا رکھا ہے۔ اور نجی اداروں میں زیادہ کرپشن کرنے والے مختلف مافیا اور کارٹل ہیں مثلا بلڈرز مافیا، ہاؤسنگ مافیا، شوگر ملز سمیت بہت سے کارخانوں کے مالکان۔ دواؤں کی صنعت ، ملاوٹ ہی کرپشن کی واحد قسم نہیں۔ ناجائز منافع خوری جیسے کہ زرداری صاحب کی حکومت میں آتے ہی شوگر مافیا نے اپنے ایک شفاف ترین لارڈ کی قیادت میں اربوں کھرپوں کی کرپشن کی۔ کوئی نجی کاروباری ادارہ ہے جس کرپشن نہ کرتا ہو؟ احرام مصر کیسے تعمیر ہوئے اسکا راز کھل گیا تو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا اور یہ ساری کرپشن بیوروکریسی کی ملی بھگت سے ہوتی ہے۔ ہر کوئی بہتی گنگا مین ہنا رہا ہے۔ اور 18 کروڑ شودر دن رات خود کشتی کے آسان راستے ڈھونڈتے ہیں۔
ٹھیک ہے فی الحال ساری کارروائی ایک فیصد کے خلاف ہو رہی ہے لیکن یقین کیجئے قیامت سے پہلے پہلے نیب باقی 99 فیصد کے خلاف کارروائی اگر نہ بھی کرے تو کرنے کی سوچے گا ضرور!

ایران نے یہ دلچسپ دعویٰ کیا ہے کہ داعش کو صرف بشار الاسد کی حکومت ہی شکست دے سکتی ہے۔
اس دعوےٰ کا مزا سب نے لیا ہوگا۔ ایسی حکومت جسکا دائرہ اقتدار صرف 14 فیصد لوگوں پر رہ گیا ہے یعنی ایسی پتلی سی پٹی جو لطانیہ سے جنوب کو آتی ہوئی حمص شہر سے گزرتی ہوئی دمشق کے کچھ جنوب پر ختم ہوتی ہے، وہ داعش کا مقابلہ کیسے کرے گی اور یہ پٹی بھی پوری طرح محفوظ نہیں ہے۔ اور روس اپنا لاؤ لشکر لے کر شام آیا ہے تو اسی پٹی کو بچانے کیلئے باقی شام پر وہ بشار کا اقتدار بحال کرا سکتا ہے نہ اسکے لئے آیا ہے۔ اب تو وہ خط بھی جاری ہو گیا ہے جو بشار نے روس کے صدر وپتن کو لکھا تھا اور اسکا مشن تھا، چھیتی بوھڑیں وے پوتنا نہیں تے میں مر گئی آن ۔۔ روس کی پہلی بمباری ہی سے درجنوں عام شہری مارے گئے، فرانس نے بھی اپنی فضائیہ جھونک دی ہے ۔ امریکہ ، برطانیہ ، اردن، آسٹریلیا اور ایران کی فضائیہ پہلے ہی دن رات بمباری کر رہی ہے۔ بہت اچھی بات ہے، داعش کے خلاف اتحاد کو مزید وسعت ملنی چاہیے جیسا کہ امریکہ نے پاکستان کو بھی بلا لیا ہے لیکن حیرت ہے کہ جس بشار الاسد کی فضائی کے بیرل بموں نے دو لاکھ سے زیادہ شہریوں کی جان لی ہو، (مرنے والے سرکاری اور اپوزیشن فوجی انکے علاوہ ہیں) اور اسی ہزار سے زیادہ بچے زندہ جلائے ہوں اور آدھے ملک کو باہر دھکیل دیا ہو، اس پر امریکہ سے فرانس تک کسی نے ایک بھی حملہ نہیں کیا۔

عبداللہ طارق سہیل
بہ شکریہ روزنامہ  جہان پاکستان 

No comments:

Powered by Blogger.