Header Ads

Breaking News
recent

دولت سے کھیلنے والا 'کنگ' فٹ پاتھوں پرسونے پر مجبور..

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ سرمایہ کرنے والے کروڑ پتی بروکر کی 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے کی عبرتناک کہانی ان دنوں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہے جسے پڑھ کر کے زمانے کے الٹ پھیر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اپنے دور کے کامیاب سرمایہ کار اور اسٹاک بروکر ولیم پرسٹن کنگ چند سال پہلے تک امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اپنے دوست گورڈن بلفورٹ کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے شیئر ہولڈر تھے۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی حال ہی میں فلم بنائی گئی ہے۔ اسی (80) کی دہائی میں اس زیرک سرمایہ کار اور مالدار شخصیت کا طوطی بولتا تھا۔

لیکن آج وہی ولیم پرسٹن نیویارک کی سڑکوں پر پبلک مقامات، بلند و بالا عمارتوں کے تھڑوں اور پارکوں کے بنچوں پر زندگی کے دن گذارنے پر مجبور ہے۔
ماضی میں ولیم پرسٹن کنگ نیویارک کے پوش علاقے مین ہٹن میں ایک عالی شان محل کے مالک تھے۔ بنکوں اور اسٹاک مارکیٹ میں اس کے پیسے کی ریل پیل تھی اور وہ خود  جیسی لگژری اور دنیا کی مہنگی کاروں میں سفر کیا کرتا تھا۔

باون سالہ ولیم پرسٹن کنگ کی زندگی کے نشیب و فراز بہت سوں کے لیے عبرت آموز ہیں
اخبار"نیوریارک پوسٹ" نے امریکی دولت مند کے 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے کی روداد بیان کی ہے ۔
اخبار نے اپنی میگزین رپورٹ میں فٹ پاتھوں پر سونے والے سابق امریکی کروڑ پتی کی کچھ تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ ان میں ایک تصویر میں انہیں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر چمڑے کا ایک بیگ سرہانے رکھے اور اینٹ کا تکیہ بنائے سوئے دکھایا ہے۔ دوسری تصویر میں وہ ایک پارک کے بنچ پر عالم مدہوشی میں ہے۔

فٹ پاتھوں اور پارکوں میں ایک آوارہ شخص کی طرح سونے والے اس سابقہ دولت مند کے بارے میں امریکیوں کو کم ہی خبر ہوتی ہے کہ موصوف کون ہیں۔ کیونکہ وہ پچھلے ایک سال سے اپنے خاندان کو بھی خیرباد کہہ کر روپوشی کی زندگی اختیار کر چکا ہے۔

امریکی اخبار نے 'لکھ پتی سے ککھ پتی' بننے والے امریکی بیوپاری کے اہل خانہ سے بھی رابطے کی کوشش کی۔ اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ولیم پرسٹن کنگ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب اس نے بے دریغ پیسہ فضول خرچ کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی قسمت کی دیوی اس پر ناراض ہوئی اور اس وہ اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل گھاٹے کے سودے کرنے لگا۔ جب اسے پے درپے کئی مواقع پر غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا تو اس نے منشیات کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ اس کا تمام سرمایہ ڈوب گیا اور وہ کنگال ہو گیا۔ آج وہ فٹ پاتھوں پر دن رات بسر کرنے اور لوگوں کے سامنے ایک ایک لقمے کے لیے دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہے۔

"نیویارک پوسٹ" کے نامہ نگار نے پرسٹن کی ہمیشرہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے بتایا کہ "ایک وقت تھا کہ میرا بھائی جو چاہتا خرید سکتا تھا لیکن آج اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ پچھلے سال جنوری میں اس نے اپنے خاندان کی کفالت سے انکار کر دیا اور گھر سے نکل گیا۔ اس نے میری بھی کچھ رقم چوری کی اور غائب ہو گیا"۔

اس کے ہم دم دیرینہ گورڈن بلفورٹ نے پرسٹن کی اس حالت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ جب اس نے اپنے دوست کی فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے تصاویر دیکھیں تو بہت رنجیدہ ہوا اور کہا کہ اس کے خاندان کو اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ تاہم دوست نے اس کے ماضی کے بارے میں کوئی زیادہ تفصیلی بات نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ کنگ سنہ 1980ء میں وال اسٹریٹ کا مشہور بروکر ہوا کرتا تھا۔ 52 سالہ ولیم پرسٹن کنگ کی زندگی کے نشیب و فراز بہت سوں کے لیے عبرت آموز ہیں تاہم کیا وہ دوبارہ اپنےکھوئےہوئے مقام کو پا سکے گا۔ اس کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

لندن ۔ کمال قبیسی

No comments:

Powered by Blogger.