Header Ads

Breaking News
recent

روہنجیا پر مظالم، آنگ سان سوچی خاموش کیوں؟


گذشتہ دو دہائیوں میں کسی نے شاید آنگ سان سوچی پر یہ الزام نہیں لگایا ہوگا کہ وہ اصول پسند یا جرات مند نہیں۔
90 کی دہائی کے آغاز سے 2010 میں ان کی رہائی تک وہ ظالم فوجی آمر کے خلاف ثابت قدمی کی علامت تھیں۔
دنیا بھر کے طالب علموں کے کمروں میں ان کے پوسٹر تھے اور معروف گلوکار بونو نے ان کے لیے ایک گانا بھی لکھا۔ وہ ساری دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی علم بردار کے طور پر جانی جاتی تھیں۔

اب جبکہ وہ ایک انتہائی مختلف برما میں آزاد زندگی گزار رہی ہیں، انھیں اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی ہے۔ تاہم وہ مختلف مقاصد کے لیے اپنے نام کو استعمال کرنے کے بارے میں احتیاط سے کام لیتی ہیں۔
پارلیمان میں حزبِ اختلاف کا حصہ ہیں اور 69 سالہ سوچی اکثر اصلاحات کرنے میں سست روی کے لیے حوالے سے حکومت پر تنقید کرتی ہیں۔

تاہم برما میں اقلیت روہنجیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں وہ خاموش ہیں۔
کئی دہائیوں سے لاکھوں روہنجیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب برما کی ریاست رخائن میں بستے ہیں۔ اگرچہ ان کی درد بھری کہانی حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہے تاہم بہت عرصے سے نہ انھیں شہریت کا حق تھا اور نہ ہی آزادیِ نقل و حرکت کا۔ ان کے مسائل کوئی نئے نہیں۔
اس بات پر بہت تنازع ہے کہ یہ لوگ وہاں پہنچے کیسے اور کہاں سے ان کا تعلق ہے۔

تو چلیں ہم تاریخ کی پیچیدگی کو ایک طرف رکھ کر دیکھتے ہیں۔ صرف ایک انسانی سطح پر سوچا جائے تو مغربی برما میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں اور انھیں اپنی پیدائش کے سبب امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔وہ اپنی غربت اور بے بسی کی وجہ سے اکثر انسانی سمگلنگ کی تنظیموں کا نشانہ بنتے ہیں۔

صرف انسانی حقوق کی نظر سے دیکھا جائے تو ایسا جاری رہنا ہم سب کے لیے شرم کا باعث ہونا چاہیے۔
تو پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر سے آواز اٹھانے کے مطالبے کے باوجود نوبل امن انعام یافتہ سوچی اس بارے میں خاموش ہیں؟
اس سوال کا سب سے آسان جواب تو شاید یہ ہوگا کہ ہمیشہ سے حقیقت پسند سیاستدان ہیں اور انسانی حقوق کی کارکن نہیں۔

روہنجیا مسلمانوں کی حمایت کرنے سے وہ فوری طور پر طاقتور بدھ مت قوم پسند گروہوں کی مخالفت مول لے لیں گی، جس سے اس سال ہونے والے اہم انتخابات کا پانسا پلٹ سکتا ہے۔ ان انتخابات کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی کرنا پہلے سے مشکل ہے اور پھر اس میں مذہبی اور نشلی رنگ بھی آ جائے گا۔
آنگ سان سوچی اس وقت عام انتخابات کی مہم چلا رہی ہیں اور اس سال کے آغاز میں ان کے احتیاطی انداز کے کچھ شواہد ملے تھے جب اقوام متحدہ کی مندوب یانگھی لی نے ملک کا دورہ کیا تھا۔

جب یانگھی لی نے روہنجیا مسلمانوں کے مسائل پر بات کی تو بدھ راحب ایشن وراتھو نے انھیں انتہائی نازیبا الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے امور کے سربراہ نے برما کی عوام اور رہنمائوں سے اس راحب کی مزحمت کرنے کے لیے کہا۔ آنگ سان سوچی اس موقعے پر خاموش رہیں۔
سوچی کے حامی کہتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں اس کا خیال نہیں بلکہ وہ یہ جانتی ہیں کہ ایسا معاملہ ایک مشکل جال ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ روہنجیا مسلمانوں کی حمایت کرنے سے ایک دو لوگوں کو دھچکا تو لگایا جا سکتا ہے تاہم اس سے زمینی حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ان کا خیال ہے کہ سوچی کے لیے زیادہ اہم اس وقت نومبر میں انتخابات جیت کر اقتدار سنبھالنے کے پیچیدہ مذاکرات میں کامیاب ہونا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ نسلی اقلیتی جماعتیں اسمبلی میں سیٹوں کا ایک بڑا حصہ حاصل کر لیں گی اور ایک چوتھائی سیٹیں فوج کے لیے مخصوص ہیں چنانچہ آنگ سان سوچی کی جماعت کو نسلی طور پر بامار اکثریت والے حلقوں میں بڑی کامیابی لینا ہوگی۔
اور اس کے لیے انھیں بدھ مت مذہبی حلقوں کی حمایت چاہیے ہوگی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.