Header Ads

Breaking News
recent

جاگتے کو کیسے جگاؤں ؟...وسعت اللہ خان

انی میڈیا اور کسی سبب جان دے تو دے مگر خبروں کی قلت سے کبھی بھوکا نہیں مرنے کا۔جب تک ازقسمِِ زرداری، نثار علی، خواجہ آصف وغیرہ سلامت میڈیا کو مصالحوں کی کیا کمی۔

جب سے مسٹر ریکنسیلیشن پھٹے ہیں ان کے بیان میں سے ادلے کی بوٹیاں چن کے ہر کوئی دوڑ پڑا ہے۔ کچھ پاکستانیت کے سرٹیفکیٹس کی پنکھی سے انگارے جھل رہے ہیں ، کچھ مسٹر ری کنسلییشن کے بیان کو سلاخ میں پرو کے بار بی کیو بنانے کے چکر میں۔کچھ نے راگ دھیرج کا الاپ شروع کردیا ہے۔اور مجھ جیسے سوچ رہے ہیں کہ ایک آصف (زرداری ) نے فوجی قیادت کے بارے میں ایسا کیا نیا کہہ ڈالا جو دوسرے آصف ( خواجہ ) کے نو برس پرانے دھواں دار خیالات سے مختلف ہو۔

میں تو آصف زرداری کے بیان سے زیادہ خواجہ آصف کی جانب سے مذمت کا لطف اٹھا رہا ہوں۔ایک نے فوجی قیادت کو رگیدا تو وزارتِ دفاع پائی اور دوسرے نے اس کا آدھا بھی نہیں رگیدا تو سب تھو تھو کرنے لگے۔ دیگران میں عمران خان نے بھی آصف زرداری کے بیان کی مذمت کی۔لگتا ہے یو ٹیوب سے وہ ویڈیو ہٹ چکی ہے جس میں عمران خان کارکنوں کی ایک میٹنگ میں عوامی لفظیات کا استعمال کرتے ہوئے جنرلوں کی نفسیات پر کما حقہہ روشنی ڈال رہے ہیں۔
اور یہ بھی خوب ہے کہ یہ وقت ایسے غیر ذمے دارانہ بیانات کا نہیں جب ملک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ایک جانب بھارت دھمکیاں دے رہا ہے اور را ملکی معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔دوسری جانب فوج دھشت گردی سے نبردآزما ہے۔تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آصف زرداری نے جو باتیں کہیں وہ تو ٹھیک ہیں مگر وقت غلط چنا۔یا پھر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ باتیں ہی سرے سے غلط ہیں۔
یا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خود بیان دینے والا بھی دودھ کا دھلا نہیں لہذا ایسی آتش بیانی سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اس پورے عالمِ ہاؤ ہو میں کوئی بھی نہیں بتا رہا کہ سندھ کی حکومت اگر واقعی اتنی کرپٹ ہے کہ وہاں ہر با اختیار ’’ مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے’’ کی دھن پر ناچ رہا ہے تو پھر ایسی حکومت کو آپ اب تک برداشت کیسے کررہے ہیں۔

اسے گھر بھیج کے گورنر راج کیوں نہیں لگا دیتے۔اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت اب بھی اس قابل ہے کہ سدھر سکے تو اسے ایک غیر اعلانیہ متوازی ڈھانچے کے ذریعے مزید لولا کیوں کر رہے ہیں۔یہ کون سا تیسرا نظام ہے کہ آپ نے صوبائی حکومت بھی برقرار رکھی ہوئی ہے اور اس کی سائیکل بھی پیچھے سے پکڑے ہوئے ہیں۔تو کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ پرلے درجے کی کرپٹ اور نااہل حکومت اپنی ہی چربی میں دو ہزار اٹھارہ تک پکتی رہے حتی کہ ووٹر اسے ہانڈی سمیت سیاسی چولہے سے اتار پھینکیں؟ اور اس پوری گیم میں خود میاں نواز شریف کہاں ہیں؟کیا ان کا بس یہی شوق ہے کہ ہر بار بھاری مینڈیٹ لے کر اپنی حکومت کو آٹو پر لگا دیں کہ جو چاہے سنگل ٹائر کی طرح ڈنڈے سے بھگاتا جہاں تلک لے جائے۔

موقع محل اور بقائی لحاظ سے بھلے یہ اچھی حکمتِ عملی سہی کہ نواز شریف نے آصف زرداری کے غصیلے بیان سے فاصلہ دکھانے کے لیے ان سے شیڈولڈ ملاقات موخر کردی۔مگر آصف زرداری اور سندھ حکومت تو سات ماہ پہلے بھی اتنے ہی نا اہل اور کرپٹ تھے۔تو پھر عمران خان کے اسٹیبلشمنٹی محاصرے میں پھنسے پریشان حال رنگ فق میاں صاحب نے بھرپور حمایت کا سندیسہ لے کر رائے ونڈ آنے والے آصف زرداری کو کیوں جھپی ڈال کے اپنے اس پیارے بھائی کو بااصرار پرتکلف کھانا کھلایا۔

سندھ میں تو اب سے چار ماہ پہلے بھی ملک زرداری سائے میں اربوں کی زمینوں پر مالِ مفت دل بے رحم کا دھمال برپا تھا اور گوٹھ کے گوٹھ لینڈ مافیا کے ہاتھوں فتح ہو رہے تھے لیکن نیشنل ایکشن پلان اور فوجی عدالتوں کی تشکیل کے لیے اکیسویں آئینی ترمیم کی خاطر آصف زرداری کی پارلیمانی حمایت بھی بہرحال اہم تھی۔ آج وہی دلارا زرداری سیاسی خود کشی پر مائل عاقبت نا اندیش قرار دیا جارہا ہے کہ جس کے بیان اور نریندر مودی کے بیانات میں بہت سوں کو کوئی فرق نہیں لگ رہا۔

اسٹاف کالج کے کورسز میں جو ماہرینِ حربیات پڑھائے جاتے ہیں ان میں چینی عسکری فلاسفر سن ڑو بھی شامل ہے۔مثالی جنگی حکمتِ عملی کے باب میں ایک جگہ کہتا ہے ’’ جب دشمن فاش غلطی کررہا ہو تو ڈسٹرب نہ کرو ’’۔اگر میں کسی فیصلہ کن شطرنجی بساط پر ہوتا تو سن ڑو کے اس جنگی اصول کے تحت آصف زرداری کو کم ازکم اس وقت ڈسٹرب نہ کرتا۔

جو کام ضیا الحق تمام تر ریاستی جبر کے باوجود نہ کرپایا۔جو کام حمید گل اور اسد درانی کی آئی ایس آئی مکمل نہ کرسکی وہ کام آصف زرداری نے تنِ تنہا ساڑھے سات برس میں کردکھایا۔ اس عرصہِ مختصر میں گلگت تا کراچی عام انتخابات سے کنٹونٹمنٹ بورڈز کے مقامی انتخابات تک پیپلز پارٹی کو مسلسل تیسرے نمبر پر برقرار رکھنا بھلا کوئی آسان کام تھا ؟ اتنی تیز رفتاری سے تو قندھار تا دکن اور گجرات تا بنگال پھیلی مغلیہ سلطنت بھی دلی تک نہ لپٹی تھی جتنی تیزی سے صرف ساڑھے سات برس میں پیپلز پارٹی چترال کی اونچائی سے پھسلتی پھسلتی اوباڑو تک آن پہنچی۔یہ معجزہ پاگل جیالوں کے بس کا نہ تھا۔اس کے لیے ایک نئی پی پی پی درکار تھی (پسر۔ پدر۔ پھوپھی کارپوریشن)۔ اس کے لیے پارٹی کا بنیادی فلسفہ بدلنے کی ضرورت تھی چنانچہ روٹی کپڑے اور مکان کو نوٹ نوٹ بس نوٹ ہی نوٹ سے بدل دیا گیا۔

ہاں پیپلز پارٹی پہلے کی طرح پھر کپڑے جھاڑ کے کھڑی ہوسکتی ہے۔آج جتنی بھی گئی گذری سہی لیکن ہے تو عوامی گارے سے بنی ہوئی۔لیکن یہ پارٹی نہیں اٹھ سکتی جب تک اسے کوئی کل وقتی آزاد چیر پرسن نصیب نہیں ہوتا بھلے آپ اس کی لگام بظاہر بلاول ، اعتزاز اور رضا ربانی کو ہی کیوں نہ تھما دیں۔لیکن یہ کام تو خود پارٹی والے ہی کرسکتے ہیں۔پارٹیاں اگر باہر سے ٹوٹا کرتیں تو پیپلز پارٹی انیس سو ستتر میں ہی غتربود ہو جاتی۔

جہاں تک سندھ حکومت کا معاملہ ہے تو اس کے ساتھ جو بھی سختی نرمی کرنی ہے وہ سیاسی حکومت کو ہی کرنی چاہیے۔ورنہ اگر سندھ حکومت کی اینٹ کسی نادیدہ غیر سیاسی ہتھوڑی سے یہ سوچ کے نکالی گئی کہ ایک اینٹ نکلنے سے بھلا دیوار کو کیا فرق پڑے گا تو پھر اس کارِ ذہانت سے پہلے کسی بھی راہ چلتے مستری سے پوچھ لیجیے گا کہ بارشوں کے موسم میں غلط جگہ سے جب ایک اینٹ نکالی جائے تو دیوار کا کیا ہوتا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ سیانوں کو سمجھانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔بقول میری نانی ’’ سوتے کو تو جگا لوں، جاگتے کو کیسے جگاؤں ’’۔۔۔۔۔

وسعت اللہ خان
بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

No comments:

Powered by Blogger.