Header Ads

Breaking News
recent

یہ ہے شائننگ انڈیا

دنیا کی سب سے بڑی انگلش سپیکنگ جمہوریہ کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے راجیہ سبھا کی دہلیز پر گجندر سنگھ کی لٹکتی لاش اب کسے یاد ہوگی؟ راجستھان کے اس بے بس، کسان کی آتما ہتیا کا لائیو منظر تو اب مہان بھارت میں بھی کسی کو یاد نہیں۔ پاکستان میں کس کو معلوم ہوگا کہ خون رائیگاں کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عام آدمی پارٹی کے مکھ منتری اروند کجریوال جلسہ عام سے خطاب فرما رہے تھے۔ کسانوں کے حقوق کیلئے جاری یہ جلسہ کسان کی موت پر بھی نہ رکا۔
جب قرضوں کے بوجھ تلے دبے، فاقوں کے مارے، سرکاری بینک اور ساہوکار کے ہاتھوں ذلیل و خواب کاشتکار کی موت خبر بن کر بھولا بسرا آرکائیو بن چکی تو لال سنگھ کی بپتا کون سنتا۔ مدھیہ پردیش کا لال سنگھ جس نے 60 ہزار روپے کا قرض اتارنے کے لئے دو بیٹے گڈریئے کے پاس گروی رکھ دیئے۔ تو یہ ہے مہان بھارت، شائننگ انڈیا۔ فلمی دنیا کی چکاچوند سے بھرپور ہندوستان۔ اک عالم جس کے طلسم کا شکار ہے۔ وہ انڈیا جس میں اب کوئی فلم اربوں روپے سے کم کی لاگت میں تیار نہیں ہو پاتی۔ اداکاروں، فی میل آرٹسٹوں کی ذات پر اربوں روپے انویسٹ ہوتے ہیں۔

ان آرٹسٹوں کو چھینک بھی آ جائے تو سیٹھوں کے دل دھڑکنا بھول جاتے ہیں۔ اس بھارت میں آئی پی ایل کا میلا سجتا ہے تو دنیا بھر کی چیئر لیڈرز اپنے خزانہ حسن کے تمام جاں لیوا عشوے، غمزے اور اداؤں کے ہتھیار لیکر بھارتی سرزمین پر لینڈ کرتی ہیں۔ آئی پی ایل میں کھلاڑی لاکھوں ڈالر میں بکتا ہے۔ سیزن آف ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک رن، ایک وکٹ، ایک کیچ ہزاروں ڈالر میں پڑا۔ دنیائے کرکٹ کے مہان بلے باز، فاسٹ باؤلر، سپن بالنگ کے جادو گر اور برق رفتار وکٹ کیپر دعائیں مانگتے ہیں کہ کاش ان کی بھی بولی لگے۔ مقدر کا دھنی ہر کوئی تو نہیں ہوتا۔ اسی چمکتے دمکتے بھارت میں 1995ء سے لیکر 2015ء کے آغاز تک 3 لاکھ کسانوں نے موت اور ذلت کی زندگی میں سے ’’خودکشی‘‘ کی تھرڈ آپشن کا انتخاب کیا۔

مدھیہ پردیش کا لال سنگھ کو جگر گوشوں کو ظالم گڈریئے کے حوالے کر کے خود نشے کی فریبی دنیا میں پناہ لے چکا۔ موسم بہار کے آغاز میں گجندر سنگھ نے احتجاجی مظاہروں کے لئے معروف جنتر منتر میں احتجاجاً لائیو خودکشی کی۔ بھارت جو منی سپر پاور بن چکا۔ وہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ اس بھارت میں موت کسان کا مقدر ہے۔ بھارتی نیتا سمجھتے ہیں کہ زرعی زمینیں کسانوں سے چھین کر بڑے صنعتی گروپوں کے حوالے کر دی جائے تاکہ مینوفیکچرنگ کے میدان میں بالادستی قائم ہو۔ اس مقصد کے لئے حصول اراضی بل کی منظوری کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کسانوں کا معاملہ صرف یہی نہیں۔ مودی سرکار یہ بل پاس کرا کے ہی رہے گی۔

منی سپر پاور کی دھرتی پر سانس لیتا کسان کئی طرح سے مجبور محض ہے۔ وہ بینکوں کے قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ بیجوں، زرعی آلات خریدنے کے لئے مہاجن کا محتاج ہے۔ بیٹی کی شادی بھی ادھار لیکر کرتا ہے۔ سیکولر بھارت میں بیٹی بھاری بھر کم جہیز کے بغیر رخصت نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا اس کے پاس موت کو گلے لگا لینے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
اعداد و شمار نہ صرف شرمناک بلکہ لرزہ خیز بھی ہیں۔ بھارتی میڈیا کو کھنگالنے کے بعد معلوم ہوا ماہ مارچ کے دوران 67 بھارتی کسانوں نے حالات کے آگے سپر ڈالتے ہوئے موت کو گلے سے لگا لیا۔ ان میں سے 54 کا تعلق ایک ہی علاقے بندھیل کھنڈ سے تھا۔ یکم جنوری سے مارچ 2015ء تک مہاراشٹرا میں 135 کسانوں نے خودکشی کی۔ مہاراشٹرا بی جے پی کا مضبوط ترین علاقہ ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2012ء میں تصدیق شدہ ایک لاکھ سینتیس ہزار سات سو ستاون اور 2013ء میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کسان چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایک اور رپورٹ بتاتی ہے کہ نامساعد حالات، خشک سالی، قرض اور فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر روزانہ 4 افراد اوسطاً آتما ہتیا کرتے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ خودکشیوں کا مرکز وہ ریاستیں ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کی خوشحالی کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔
کیرالہ، جسے دیوتاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ تامل ناڈو جو کہ علاقائی زبانوں کی فلمی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آندھرا پردیش، جس کا دارالحکومت حیدر آباد ایسا آئی ٹی کا مرکز شہر ہے۔ کرناٹک، ٹیپو سلطان کی جنم بھومی، جہاں بنگلور واقعہ ہے جسے بھارتی سیلی کون ویلی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ ریاستیں ہیں۔ جہاں معاشی ترقی کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ لیکن سوا سو کروڑ آبادی کو خوراک فراہم کرنے کے ذمہ دار کسان اجتماعی خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی معاشرہ گلیمر اور غربت کی دو انتہاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ اسی معاشرہ میں نیو ائیر نائٹ پر صرف 4 منٹ کی ڈانس پرفارمنس پر پریانیکا چوپڑہ کو 5 کروڑ معاوضہ ادا کیا گیا۔ عالمی فرم ’’ویلتھ انسائٹ‘‘ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اگلے چند سالوں میں امیر خاندانوں کی دولت میں 44 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس دولت کی کل مالیت دو ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ پرائیویٹ جیٹ جہازوں کی ملکیت میں بھارت کا حصہ بارہ فیصد ہے۔ اگلے چند سالوں میں بھارتی باشندوں کے پاس 1215 لگژری نجی طیارے ہوں گے۔

بھارت میں سیٹھوں کی ملکیت لگژری بوٹس کی کل مالیت پندرہ ارب ڈالر تک ہے۔ دنیا کی پرتعیش کشتیوں میں سے ایک انڈین ایمپریس ہے جس کی مالیت 9 ملین ڈالر ہے یہ 312 فٹ لمبی کشتی وجے مالیا کی ملکیت ہے۔ 66 فیصد، کروڑ اور ارب پتی سال میں تین مرتبہ نجی پرتعیش دوروں پر جاتے ہیں۔ ان کے خاندانوں کا ہر فرد چالیس ہزار ڈالر فی دورہ خرچ کرتا ہے۔ مہنگی شرابیں، ذاتی جہاز، گھوڑوں کے فارم، سیون سٹار ہوٹل ان بھارتیوں کا لائف سٹائل ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مہنگی ذاتی رہائش گاہ بھی امبانی خاندان کی ملکیت ہے۔

شائننگ انڈیا کی یہ تصویر بہت بھیانک ہے۔ ایک رپورٹ تو ایسی دل دہلا دینے والی ہے کہ اس پر یقین نہیں آتا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ خودکشی کرنے والے شخص کے ورثا کو ایک لاکھ روپیہ بطور زرتلافی ادا کرتی ہے۔ عزت نفس کے مارے صرف ایک لاکھ کیلئے پھندے سے جھول جاتے ہیں۔ ایک لاکھ روپیہ کا چیک ملے گا تو ساہوکار کا قرض ادا ہو جائے گا۔ کوئی یتیم بچوں کے گلے میں قرض کا طوق تو نہیں ڈالے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.