Header Ads

Breaking News
recent

ایم کیو ایم اور مشکلات کا حصار


کراچی میں ایک بار پھر خوف اور دہشت کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ملک کے اس بڑے اور اہم شہر کے لئے اگرچہ یہ صورت حال نئی نہیں کیونکہ برسہا برس سے اس شہر کے باسی ایسی تکلیف دہ صورت حال سے گزر رہے ہیں ۔ کراچی کے لئے امن کی کوششیں، آپریشن، اقتدار میں حصہ داری وغیرہ کے فارمولے بھی وقتی علاج ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کبھی کبھی جغرافیہ کے اثرات بھی تاریخ پر پڑتے ہیں۔ کراچی کے محل وقوع نے اس شہر کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔

متحدہ کے مرکز نائین زیرو پر چھاپہ، وہاں سے بعض مجرموں کی گرفتاری، اور اسلحہ کا برآمد ہونا، ان باتوں نے ملک کی ایک بڑٰ ی پارلیمانی پارٹی کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ان پر جو الزامات ماضی میں لگتے رہے ان سے ہٹ کر جو نئے الزامات آئے ہیں ان کو کلیئر کرنا اس پارٹی کے لئے ضروری ہو جائے گا۔ اس جماعت کے اندر مختلف رجحانات اور گروپ ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں جن کا اظہار وقت بوقت مختلف شکلوں میں ہوتا رہا ہے۔
جس روز یہ چھاپہ پڑا اس روز وزیراعظم نواز شریف کراچی میں تھے، اور گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ان کے ساتھ تھے۔ وزیراعظم نے اس پوری صورت حال پر کوئی بات نہیں کی۔ بعد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے یہ ضرور کہا کہ یہ چھاپہ انٹلی جنس اداروں کی رپورٹ پر ڈالا گیا اور قانون کے مطابق ہے۔

 ایم کیو ایم سے علیحدہ ہونے والے عامر خان نے دوبارہ ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی ہوئی ہے۔ وہ ابھی حراست میں ہیں۔ ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آئندہ چند روز میں مختلف انکشافات ہونے والے ہیں جو کہ ایم کیوا ایم کے سیاست اور الطاف حسین کے مستقبل کے بارے میں اہم ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الطاف حسین بار بار پارٹی قیادت سے دستبردار ہونے کے اعلانات کرتے رہے ہیں اور پھر پارٹی کے اصرار پر واپس بھی لیتے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پارٹی کی قیادت کسی اور کے حوالے کرناچاہ رہی ہے۔

ماضی میں تین چار مرتبہ اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں جن سے سیاسی مبصرین اس نتیجے پر پہنچے کہ پارٹی کی قیادت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق لیکن پارٹی کے اندرموجود ایک سخت گیر گروپ موجود ہے جو اس طرح کی کوششوں کو کامیاب ہونے نہیں دیتا۔ ایم کیو ایم کی قیادت میں تبدیلی کے حوالے سے برسوں سے سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ لگتا ہے کہ یہ اس تبدیلی کی شکل میں اب قریب آپہنچی ہیں۔ کیونکہ چار پانچ گروپوں میں تکرار شدید ہے۔ آئندہ قائد کون ہوگا؟

الطاف حسین کی زندگی میں یہ خطرہ مول لینے کو کوئی تیار نہیں۔ حالیہ آپریشن دہشتگردی کے خلاف ہو رہا ہے لیکن اس کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ اس کے اثرات ایم کیو ایم پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اور شدت پسند گروپ کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں باقی گروپ کوسپیس مل رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گورنر عشرت العباد ، کمال مصطفیٰ تک اور خالد مقبول اور عامر خان تک اس بڑے عہدے کو سنبھالنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ لیکن کوئی بھی کھل کر اس اظہار کے ساتھ سامنے نہیں آرہا۔ شاید اس لئے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی سربراہی میں اول اسٹیبلشمنٹ اور بعد میں عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے ملک کے اہم ترین شہر سے لے کر 
اقتداری ایوانوں میں جوڑ توڑ میں ایسی اہمیت بنا لی ہے۔

یہ طاقت اسی طرح سے جس طرح بعض اوقات وفاق میں فاٹا کے ممبران اہم ہو جاتے ہیں اور ’’ میک اور بریک‘‘ کی طاقت رکھتے ہیں۔ لیکن ایم کیو ایم نے سندھ میں اپنی پوزیشن فاٹا کے ان ممبران سے بھی زیادہ اہم اور ہر موقع پر قابل استعمال بنا لی ہے۔ جس کی قیادت الطاف حسین کر رہے ہیں۔کی قیادت کو چیلنج کرنے کے لئے تیار نہیں۔

اقتدار کی بارگیننگ اور رسہ کشی میں جتنا تین عشروں کے دوران ایم کیو ایم نے فائدہ اٹھایا ہے اور اپنی طاقت کو تنظیمی، ملکی اور عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے اس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ہر فریق کے ساتھ بیٹھنا اور بعد میں اس سے علیحدہ ہو جانا، مطالبات اور فرمائشوں کی نہ ختم ہونے والی لسٹ وغیرہ کی وجہ سے ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ اس کی طاقت کمزور ہو تاکہ دوسرا فریق اس اہم علاقہ میں اپنی اہمیت بنا سکے۔

ایم کیو ایم کے مرکز سے صحافی ولی بابر کے قتل کے سزا یافتہ شخص یا دوسرے ملزمان اور بڑے پیمانے پر اسلحہ کی برآمدگی یا عدالت سے موت کی سزا پانے والے صولت مرزا کے ڈیتھ وارنٹ کا اجراء بہت اہم اقدام ہیں ۔ صولت مرزا کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کئی سال سے رکا ہوا ہے۔ اگر صولت مرزا پھانسی چڑھ جاتا ہے تو خوف کی علامت ٹوٹ جائے گی۔ اور ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں کے خلاف جو مقدمات التواء میں پڑے ہوئے ہیں وہ بھی آگے بڑھیں گے ۔ آج ایم کیو ایم صولت مرزا، فیصل موٹا، اور دیگر چار پانچ افراد جو نائین زیرو سے گرفتار ہوئے ہیں ان کا دفاع نہیں کر پارہی کل وہ دوسرے اس طرح کے لوگوں کا بھی دفاع نہیں کر پائے گی۔

ایم کیو ایم اپنی سٹریٹ پاور اور اسمبلیوں میں پاور کے ذریعے ایسی کسی بھی کوشش کو وقت سے پہلے ڈی فیوز کرتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ صورت حال مشکل ہے۔ کیونکہ ملک میں ملٹری کورٹیں قائم ہو چکی ہیں۔ بلدیہ گارمنٹ فیکٹری میں زندہ مزدوروں کو جلانے والے مقدمے کے کچھ اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ مقدمہ بھی فوجی عدالت میں چلے گا۔ صولت مرزا کے بعد فیصل موٹا بھی بچ نہیں سکے گا۔ اس طرح پارٹی پر کریمنل کا لیبل پکا ہو جاتا ہے تو قیادت کا بحران مزید شدت اختیار کر لے گا۔ جو خطرناک شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ساتھ سندھ حکومت میں شمولیت کے حوالے سے چالیس اور ساٹھ فیصد فارمولے کے تحت جو معاملات طے ہوئے ہیں وہ بھی بگڑ سکتے ہیں ۔ ایک مرتبہ سینٹ چیئرمین کے انتخابات ہو جائیں تو شاید ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت کا معاملہ پیچھے بھی جاسکتا ہے۔

سہیل سانگی

No comments:

Powered by Blogger.