Header Ads

Breaking News
recent

صولت مرزا کے انکشافات.....


پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والی تشدد پسند لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن اور پھانسی کے منتظر صولت مرزا نے کال کوٹھڑی سے اپنے ایک ویڈیو بیان میں دھماکا خیز انکشافات کیے ہیں اور کہا ہے کہ انھوں نے جماعت کے جلا وطن قائد الطاف حسین کے حکم پر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو قتل کیا تھا۔

صولت مرزا کا یہ ویڈیو بیان بدھ کی شب نجی ٹیلی ویژن چینل جیو سے پہلی مرتبہ نشر کیا گیا تھا۔انھیں جمعرات کی صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی دی جانا تھی لیکن ان کا یہ بیان مںظرعام پر آنے کے بعد اسلام آباد میں ارباب اقتدار کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں صولت مرزا کی پھانسی کو بہتر گھنٹے کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صولت مرزا کے اس ویڈیو بیان کا دورانیہ دس منٹ ہے۔اس میں انھوں نے ایم کیو ایم کی قیادت پر پہلی مرتبہ سنگین الزامات عاید کیے ہیں اور کہا ہے کہ انھیں ایم کیو ایم کے سابق وزیر بابر غوری نے کے ای ایس سی کے سربراہ شاہد حامد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ان کے گھر پر ہی الطاف حسین نے لندن سے ان سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ اگر ان کی آیندہ بات نہ ہو تو بابر غوری آپ کو مزید ہدایات دیں گے۔اس ویڈیو میں صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے ساتھ اپنی وابستگی کی تفصیل بھی کی ہے۔

لندن میں 1992ء سے خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے الطاف حسین نے حسب معمول صولت مرزا کے ان سنگین الزامات کی تردید کی ہے اور انھیں ایم کیو ایم کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔نجی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ کسی ثبوت اور شواہد کے بغیر صولت مرز ا کے اس بیان سے ایم کیو ایم پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

بابر غوری نے بھی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مرزا کے بیان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے کسی کے قتل کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ہم اپنے کارکنوں کو اپنے گھروں پر نہیں بلاتے اور نہ ان کے ساتھ وہاں کوئی معاملہ کرتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا واقعی صولت مرزا ان کے گھر نہیں آیا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ''نہیں بلکہ جب وہ نارتھ ناظم آباد میں تھا تو میں نے اس سے وہاں ایک ایم پی اے کی حیثیت سے ملاقات کی تھی۔پھر اس کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اور میں نے اس سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رکھا تھا''۔

دوسری جانب صولت مرزا نے اپنے بیان میں کہا کہ ''ایم کیو ایم مجھ ایسے کارکنوں کو استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتی ہے۔جب ان کارکنوں کا جماعت کے لیے کوئی کام نہیں رہ جاتا تو انھیں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے''۔

انھوں نے دوسرے کارکنوں کو نصیحت کی ہے کہ ''وہ میرے انجام سے عبرت پکڑیں''۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے مجرموں کو گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد تحفظ مہیا کیا کرتے تھے اور جو کارکنان پکڑے جاتے تھے،انھیں تھانے اور جیل میں گورنر کے کہنے پر سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں۔گورنر سندھ نے بھی ان دعووں کی تردید کی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی ملزم یا مجرم کو تحفظ مہیا نہیں کرتے ہیں۔

صولت مرزا نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم کے جن کارکنوں کو عوامی پذیرائی ملتی ہے اور وہ مقبول ہوجاتے ہیں تو انھیں پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے کراچی کے سابق ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال کی مثال دی جنھیں ان کے بہ قول پارٹی سے بے عزت کرکے نکال دیا گیا ہے اور اس وقت وہ دبئی میں گم نامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی نفسیات یہ ہے کہ وہ پارٹی میں کسی دوسرے لیڈر کی مقبولیت سے خائف ہوجاتے ہیں اور انھوں نے اسی وجہ سے جماعت چئیرمین عظیم احمد طارق کو بھی قتل کروا دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''اس مرحلے پر اس طرح کے الزامات عاید کرنے میں میرا ذاتی کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے بلکہ میں ان لوگوں کے لیے ایک سیاسی پیغام چھوڑنا چاہتا ہوں جو سیاسی تنظیموں میں شامل ہیں یا ان میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ میرے انجام سے عبرت پکڑیں''۔

یادرہے کہ صولت مرزا نے 5جولائی 1997ء کو کے ای ایس سی (اب کے الیکٹرک) کے اس وقت مینجنگ ڈائریکٹر ملک شاہد حامد ،ان کے ڈرائیور اشرف بروہی اور ان محافظ خان اکبر کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ان کے مکان کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔بعد میں انھوں نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر انھیں قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

انھیں 11 دسمبر 1998 کو بنکاک سے کراچی کے ہوائی اڈے پر واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ان پرجعلی دستاویزات پر سفر کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے قتل کی مذکورہ واردات کے علاوہ بیسیوں افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔انھیں کراچی کی ایک عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی اور ان کی تمام اپیلیں مسترد کردی گئی تھیں۔صولت مرزا کو گذشتہ سال کراچی سے بلوچستان کی مشہور مچھ جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔اس جیل میں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

صولت مرزا کے بیان کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے اور ان میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے دوسرے قائدین کو گرفتار کرنے کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔بعض لکھاریوں نے شاہد حامد کے خاندان سے صولت مرزا کو معاف کرنے کی اپیل بھی کی ہے تا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے مزید معلومات حاصل کرسکیں اور ان کی روشنی میں کراچی سے مجرموں کی گرفتاری میں مدد مل سکے اور اس شہر میں امن وامان قائم کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ کراچی میں اس وقت رینجرز کا دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر قریباً ایک سو بیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا اور اب ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔ان میں متعدد ٹارگٹ کلرز بھی شامل تھے اور انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کراچی کی رہ نما زہرا شاہد سمیت متعدد نمایاں شخصیات کو قتل کرنے کے اعترافات کیے ہیں۔ان کے بیانات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں جارہی ہیں۔

ایم کیو ایم کی قیادت رینجرز کے اس آپریشن کو اپنے خلاف انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے جبکہ پاکستان کے عوام کی اکثریت اور خاص طور پر کراچی کے شہریوں نے اس کو سراہا ہے اور مجرموں کے گرد شکنجا مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت سے مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ الطاف حسین کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستانی عدالتوں کے کٹہرے میں لایا جا ئے اور ان سمیت ایم کیو ایم کے دوسرے لیڈروں کے خلاف قتل بھتے خوری اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات میں مقدمات چلائے جائیں۔


Saulat Mirza makes grave allegations against MQM hours before hanging

No comments:

Powered by Blogger.