Header Ads

Breaking News
recent

ایٹمی ممالک کے پاس 16ہزار300 ہتھیار.....


پاکستان اور ہندوستان دو ایسے ترقی پذیر ملک ہیں جو ایٹمی ہتھیار کے مالک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس سینکڑوں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ایٹمی ملکوں کے پاس بہت بڑے ایٹمی ذخائر موجود ہیں۔ 1945 ء میں امریکا نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر جو ایٹم بم گرائے تھے وہ آج کے ایٹم بموں سے بہت کم طاقت یا تباہی کے مالک تھے۔ ان انتہائی کم طاقتور ایٹم بموں کے استعمال سے پلک جھپکتے میں لاکھوں انسان اورعمارتیں جل کر راکھ ہوگئی تھیں۔ خدا نہ کرے اگر آج 1945ء سے سیکڑوں گنا زیادہ طاقتور ایٹم بم استعمال کیا گیا تو اس کی تباہ کاریوں کا کیا حال ہوگا؟ جب کہ ہمارے ایٹمی ملکوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

دنیا کے معتبر ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے جاری تازہ ترین اعداد و شمارکے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013ء میں دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد 17 ہزار 270 تھی جو اب کم ہوکر 16 ہزار 300 پر آگئی ہے۔ ان میں سے تقریباً چار ہزار ہتھیار آپریشنل یعنی حملے کے لیے تیار حالت میں ہیں۔ دنیا کی نو ایٹمی طاقتوں میں امریکہ ، روس ، چین ، پاکستان ، بھارت ، برطانیہ ، فرانس ، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 100 سے 120 اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 90 سے 110 کے درمیان ہے ۔ 

امریکہ اور روس دنیا کے مجموعی ایٹمی ہتھیاروں کے 93 فیصد حصے کے مالک ہیں۔ 1945 میں پہلا ایٹمی تجربہ کرنے والا ملک امریکہ 7 ہزار 300 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے ان میں سے ایک ہزار 920 ایٹمی ہتھیار میزائلوں اور فوجی اڈوں پر نصب ہیں۔ امریکہ نے 2013 میں فوج پر 619 ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جو مجموعی عالمی فوجی اخراجات کا 37 فی صد ہے۔روس کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 8 ہزار ہے جن میں سے سولہ سو ہتھیار نصب ہیں۔ 2013ء میں روس نے فوجی اخراجات پر تقریباً 85 ارب ڈالر خرچ کئے۔ برطانیہ کے قبضے میں 225 ایٹمی ہتھیار ہیں جن میں سے 160 نصب ہیں۔ 2013ء میں برطانیہ کے فوجی اخراجات کا حجم تقریباً 58 ارب ڈالر رہا۔فرانس 300 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے جن میں سے 290 ایٹمی ہتھیار نصب ہیں۔ 2013 میں فرانس نے فوج پر 62 ارب 30 کروڑ ڈالر خرچ کئے۔چین کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 250 سے زائد ہے۔ چین نے 2013 ء میں فوجی اخراجات پر 171 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کئے۔بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 90 سے 110 کے درمیان ہے۔ 2010ء میں بھارت 60 سے 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک تھا۔ 2013ء میں بھارت نے فوجی اخراجات پر 47 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کئے۔ 2010 ء میں یہ تعداد 70 سے 90 کے درمیان تھی۔ 20 مئی 2014ء کو پاکستان کے ایڈیشنل سیکرٹری دفاع کے بیان کے مطابق 2013ء میں پاکستان نے دفاعی اخراجات پر تقریباً 5 ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ کئے۔ 

سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود پاکستان کے دفاعی اخراجات خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے کم تھے۔ اسرائیل 2010ء سے 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔ ایٹمی ہتھیار کے استعمال کے علاوہ ایٹمی ذخائر بذات خود کس قدر خطرناک ہوتے ہیں۔ ایٹمی ذخائر میں ذرا سی بے احتیاطی کی وجہ سے جو نقصانات ایٹمی تابکاری کی شکل میں پیش آسکتے ہیں اس کی ہولناکی کا اندازہ بھارت اور روس کے ایٹمی ذخائر میں ہونے والی تابکاری سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس کا ہزاروں معصوم انسان شکار ہوگئے۔ یہ تباہی بھوپال اور چرنوبل میں ہوئی۔اس حوالے سے دوسرا بڑا خطرہ ان کی حفاظت کا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس کے لیے ایٹمی ملکوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک ایسا سخت نظام موجود ہے کہ ایٹمی ذخائر کے قریب پرندہ پر نہیں مار سکتا۔

بھارت کا ایٹمی انرجی ریگولیٹر کمزور اور آزادی سے محروم ہے ،جس نے ملک کے لئے سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ بھارتی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹری بورڈ کو سیفٹی مانیٹر اور مطلوبہ سٹینڈرڈز نافذ کرنے کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ یہ خدشہ لاحق ہے کہ بھارتی ایٹمی ہتھیارغیرمحفوظ ہیں اور ان کے ہندو انتہا پسند دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف بھارت بلکہ اس پورے خطے کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ سال جاپان میں فوکوشیما کا سانحہ ہوا تھا، جس میں تابکاری مادے سے وہاں کا ماحول شدید متاثر ہوا اور انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوئے حالانکہ جاپان کا ایٹمی پروگرام بھارت سے حد درجہ محفوظ تھا۔

 بھارت اپنے عوام کے پیٹ کاٹ کر ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے ،لیکن بھارتی عوام شاید یہ بھول چکے ہیں کہ وہ ان کے لئے ہی تباہی کا سامان اکٹھا کئے جا رہا ہے۔ جس طرح بھارت کا ریگولیٹری بورڈ بے اختیار ہے اسی طرح اس کا حفاظتی انتظام بھی ناقص ہو گا اور لامحالہ جنونی ہندو دہشت گرد ایسے موقع کی تلاش میں ہیں کہ وہ بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرکے دنیا کا امن تباہ و برباد کر دیں۔ اس لئے انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو بھارت کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا فوری نوٹس لے کر بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنی تحویل میں لے لینا چاہیے، تاکہ دنیا کا امن خراب ہونے سے بچ سکے۔

پاکستان اس معاملے میں اپنے اعلیٰ ایٹمی سیفٹی ریکارڈ کے تحت مدد بھی پیش کر سکتا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے کہا کہ پا کستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اور بہترین کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کے تحت ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ عالمی برادری کو بے جا تشویش نہیں ہونی چاہئے۔ عالمی برادری کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں بارے شکوک و شبہات نہیں رکھنے چاہئیں۔

ریاض احمدچودھری

No comments:

Powered by Blogger.