Header Ads

Breaking News
recent

پیٹرول بحران کیسے اور کیوں ہوا؟.....

حالیہ پیٹرول بحران نے اچھی طرح واضح کر دیا ہے کہ یہ حکومت کس طرح کام کرتی ہے، یا نہیں کرتی۔ وفاقی وزرا نے اس معاملے پر کئی بے فائدہ اور متضاد رپورٹس پیش کی ہیں لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے، اور وہ یہ کہ جنوری کے اوائل میں جنم لینے والی پیٹرولیم کی طلب نہ صرف بے مثال تھی، بلکہ خلافِ توقع بھی تھی، اور بحران اسی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے فوراً اور نہایت آسانی سے حقیقی مجرم کو ڈھونڈ نکالا ہے، اور یہ اوگرا ہے، جو تیل اور گیس کا سرکاری ریگولیٹر ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ اتنی بنیادی ضرورت کی چیز، جو پوری دنیا میں بہتات کے ساتھ کم قیمت پر دستیاب ہے، کا بحران پیدا ہوا؟

اسٹاک صورتحال: قواعد و ضوابط کے تحت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت ہر 15 دن میں ہوتا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے کے آئٹم نمبر 1 اور 2 فکس ہوتے ہیں۔ آئٹم نمبر 1 تمام اہم فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔ آئٹم نمبر 2 مشیرِ خزانہ کی پریزنٹیشن ہوتی ہے جس میں تمام اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے، جبکہ ملک میں تمام اہم اشیا کے اسٹاک کی صورتحال کے بارے میں ای سی سی کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ ضروری اشیا جیسے کہ پیٹرولیم مصنوعات، گندم، چینی، اور کھاد وغیرہ کی کمی پیدا ہونے پر اسٹاک کو بھرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

اس لیے اگر وزرا توجہ دے رہے ہوتے، تو پیٹرولیم کے اسٹاک میں ہوتی ہوئی کمی بہت پہلے پتہ لگ سکتی تھی۔

طلب میں اضافہ: شاید پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ان کی مانگ میں اضافہ ہوا جس سے اچانک اور غیر متوقع طور پر پیٹرولیم کا اسٹاک ختم ہونے کی حد تک پہنچ گیا؟ یہ وجہ بھی اتنی مضبوط نہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جولائی سے ہی گر رہی تھیں، جبکہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں پہلی کمی نومبر میں کی اور دوسری دسمبر میں۔ اس کے علاوہ حکومت نے خود سردیوں میں پنجاب کے سی این جی اسٹیشن دو ماہ کے لیے بند کرنے کا (درست) فیصلہ کیا تھا۔ بہتر پلاننگ ہوتی تو دو اور دو چار کی طرح یہ دیکھا جاسکتا تھا کہ اس سب سے طلب میں اضافہ ضرور ہوگا۔

پی ایس او کا کردار: شاید غلطی پی ایس او کی ہے جو اس حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مینیجمنٹ کے تحت اس طرح نہیں چل پا رہا جیسے چلنا چاہیے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ ایک کھرب کی کمپنی کے لیے 220 ارب واجب الادا روپے مینیج کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ کیا وزیرِ پیٹرولیم اپنے ذاتی بزنس، یعنی ایک انتہائی کامیاب ایئرلائن کو بھی ایسی ہی لاپرواہی کے ساتھ چلاتے ہیں؟

پی ایس او 2008 سے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کے نشانے پر ہے۔ توانائی کے شعبے میں واجب الادا رقم 200 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، اور پی ایس او اکتوبر 2014 سے اب تک 26 دفعہ اپنے لیٹرز آف کریڈٹ پر ڈیفالٹ کر چکا ہے، اور بار بار حکومت کو حالات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ اب پی ایس او اس حالت میں بینکس سے مزید رقم ادھار نہیں لے سکتا تھا، اور نتیجتاً پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بھی نہیں ہوئی پائی۔
کیا وزرائے پیٹرولیم، پانی و بجلی، اور خزانہ اس معاملے پر توجہ دے رہے تھے؟

وزارتِ خزانہ کا کردار: اب ہم بحران میں وزارتِ خزانہ اور فنانشل مینیجمنٹ کے کردار پر پہنچ چکے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے وزارتِ خزانہ ڈوبتے سرکاری محکموں کو آخری امید کے طور پر مالی امداد فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ وزارت واضح طور پر ایک مشکل پوزیشن میں ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے زیرِ تحت یہ شدید مالی حدود و قیود میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے ریاستی اداروں پر 2008 سے مالیاتی ڈسپلن نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن اقتصادی اصلاحات لانے میں مرکزی کردار رکھنے کے باعث ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ دو متضاد کام ایک ساتھ کر سکے: ایک، یہ اصلاحات نافذ کرنے میں پیچھے رہنا برداشت نہیں کر سکتی، خاص طور پر توانائی کے شعبے اور دیگر سرکاری اداروں کے کیس میں۔ اور دوسرا: اسی وقت توانائی کے شعبے، یا پی آئی اے، یا اسٹیل ملز کے فنڈز روکنا اور انہیں تباہی کے دہانے پر لے آنا۔

یہ بات خاص طور پر توانائی کے شعبے کے لیے درست ہے۔ ایندھن کی امپورٹ کے لیے پی ایس او کی ہفتہ وار ضرورت 9 سے 10 ارب روبے کے درمیان ہے۔ جب بینکوں سے اسے پیسہ نہیں ملا، تو اس کے پاس وزارتِ خزانہ کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچتا۔ اگر وزارِت خزانہ توانائی کے شعبے میں فنڈز ڈالتی ہے، یا پی ایس او کو مزید قرضہ لینے کے لیے مہینوں میں کبھی گارنٹی دیتی ہے، تو سپلائی چین واضح طور پر متاثر ہو گی، اور ایسا ہی ہوا۔ (آئی پی پیز کی جانب واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے تاخیر سے فنڈز جاری کرنے کی یہی حکمتِ عملی 2013 میں ٹیکنیکل ڈیفالٹ کی وجہ بنی تھی)۔

یہ مسئلہ سرمائے کی خراب مینیجمنٹ کو بھی واضح کر دیتا ہے۔ نہ صرف یہ ہوا کہ حکام وزارتِ خزانہ کے تاخیر سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے سنگین نتائج کو سمجھنے میں ناکام رہے، بلکہ مالی وسائل کو فوری ضرورت کے شعبوں میں استعمال کرنے کے بجائے ووٹ حاصل کرنے کے لیے چمک دھمک والے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو ترجیح دی گئی۔

اور آخر میں، اس سب نے مسلم لیگ ن کے حکومت مینیج کرنے کے اسٹائل میں موجود شدید خامیوں کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ کچھ اشخاص کے گرد گھومتی فیصلہ سازی، طاقت کے کئی مراکز، اور رابطے کی کمی (کم از کم اس مسئلے پر) وہ مسائل ہیں جو تجزیہ کاروں نے اٹھائے ہیں۔ میں اس میں ترجیحات سیٹ کرنے میں ناکامی بھی شامل کروں گا۔

جب بحران سامنے آ رہا تھا، اس وقت ہمارے وزیرِ اعظم سعودی عرب کے ایک نجی دورے پر تھے۔ اس کے علاوہ وزیرِ خزانہ جاپان میں ین قرضہ اور نئے سرمایہ کار ڈھونڈ رہے تھے۔ اور ملک میں پاکستان کی سیلز کے لحاظ سے دوسری بڑی کمپنی ڈیفالٹ کر رہی تھی، جبکہ پچھلے کچھ سالوں میں ملک کی سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری کی کمپنی تویرقی اسٹیل ملز نے شٹ ڈاؤن نوٹس جاری کر دیا تھا کیونکہ ای سی سی (جس کی سربراہی وزیرِ خزانہ کرتے ہیں) کئی مہینوں سے فیصلہ لینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کیا ای سی سی کے چیئرمین کو اپنے سامنے موجود دو اہم اور غیر حل شدہ مسائل کو حل نہیں کرنا چاہیے تھا جو کہ دنیا کو پاکستان کی جانب متوجہ کر رہے تھے؟

اگر توانائی کے شعبے میں بھرپور اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور اقتصادی مینیجمنٹ کو بہتر نہیں بنایا جاتا تو مشکل ہے کہ یہ حالیہ بحران آخری بحران ہو۔

ثاقب شیرانی

لکھاری سابق حکومتی مشیر ہیں اور اس وقت مائیکرواکنامک کنسلٹنسی کے سربراہ ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 23 جنوری 2015 کو شائع ہوا۔

No comments:

Powered by Blogger.