Header Ads

Breaking News
recent

قطاروں میں لگی قوم....

نہ جانے یہ شامت اعمال ہے؟ بے سمت حکمرانوں کی بدانتظامی ہے؟ یا کسی کو نوازنے، کسی کروڑ پتی کو ارب پتی بنانے کیلئے کرم فرمائی؟ کیا معلوم یہ سب کیا ہے؟ شائد بے خبری اور بے نیازی ہے۔ جو بھی ہے۔ بے سمت حکمرانوں نے قوم کو ایک اور نیا تحفہ دیا ہے۔ ایک اور قلت، ایک نیا تماشا۔ ایک نیا بحران۔ حکمران گزیدہ درماندہ قوم ایک مرتبہ پھر، نئے سال کے آغاز پر پٹرول کے لئے قطاروں میں کھڑی ہے۔

عجیب مقدر ہے اس قوم کا بھی۔ اس کی خطائیں معاف ہونے میں ہی نہیں آتیں۔ سختی کاٹے نہیں کٹتی۔ ہر روز ایک نیا عذاب۔ جیسے کبھی سال کے بارہ مہینوں میں، نت نئے میلے، نئے نویلے ذائقے ہوا کرتے تھے۔ اب ایسے ہی ہر سیزن میں نئی آفت، نئی قلت۔ گندم کی کٹائی کا موسم آتا ہے۔ نئی فصل گھر میں آتی ہے۔ ماہرین دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’بمپر کراپ‘‘ ہوئی ہے۔

 کچھ روز بعد پتہ چلتا ہے کہ اس گندم کا کوئی خریدار ہی نہیں۔ کاشت کار گلے میں سپورٹ پرائس کا ٹیگ لگائے بازار جاتا ہے۔ بیوپاری اور آڑھتی گھاس بھی نہیں ڈالتے۔ آخرکار وہ یہ سنہری فصل اونے پونے داموں بیچ ڈالتا ہے۔ کچھ روز بعد پتہ چلتا ہے کہ گندم برف بن کر پگھل گئی ہے۔ مارکیٹ سے غائب ہے۔ زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ ابھی چند روز گزرتے ہیں تو آٹا غائب ہو جاتا ہے۔ عوام تھیلے اٹھائے، مارے مارے پھرتے ہیں۔ 

زرعی ملک میں آٹا نہیں ملتا۔ ایک روز آتا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹوروں کے سامنے طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔ بوڑھے مرد، ضعیف خواتین، نوعمر بچے اور گھریلو عورتیں۔ مہاجروں کی طرح کندھوں پر تھیلے اٹھائے دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ آٹا بغیر پاسپورٹ، بغیر ویزے، امیگریشن اور کسٹمز کے تقاضے پورے کئے سلیمانی ٹوپی اوڑھے سرحد پار کر چکا ہوتا ہے۔ 

وہ سرحد جہاں مکھی اور مچھر بھی، شناخت کے بغیر پر تک نہیں ہلا سکتے۔ اطلاع آتی ہے کہ آٹا تو وسطی ایشیائی ریاستوں کی مارکیٹ میں پہنچ کر بیکریوں کی زینت بن چکا۔ چاول کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ لاکھوں ٹن چاول پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کی بہترین باسمتی۔ فصل آتے ہی چاول تو چھپ جاتا ہے، ذخیرہ اندوزوں کے گوداموں میں۔ عوام ایک مرتبہ پھر دانہ چاول کیلئے کرنسی نوٹ ہاتھوں میں لئے، چاول کے تعاقب میں دوڑتے ہیں۔ لیکن چاول تو ایکسپورٹ ہو چکا ہوتا ہے۔ حکومت وقت کو پتہ چلتا ہے کہ اپنے عوام تو چاول کیلئے ترس رہے ہیں۔

 حکومت احسان عظیم کرتی ہے۔ برآمد کئے گئے چاول کو نئے لیبل کے ساتھ امپورٹ کیا جاتا ہے۔ اس دوران عوام بھکاریوں کی طرح نئی فصل کے سیزن میں بھی قطار بنا کر خوراک حاصل کرنے کا ریفرشر کورس کر چکے ہوتے ہیں۔ گنے کا سیزن آتا ہے تو شوگر ملز مالکان۔ عوام سے جمہوری انتقام لیتے ہوئے فوری طور پر شوگر ملیں بند کرتے ہیں۔ کسان اچھی طرح خوار ہونے کے بعد سرد ترین دنوں میں کھلے آسمان تلے، ٹرالیوں پر لدے گنے کو خشک ہوتے دیکھتا ہے۔ دھوپ میں پڑا رہنے کے باعث وزن تیزی سے کم ہو جاتا ہے تو قطار بنا کر، ہاتھ جوڑ کر گنا خریدنے کی التجا کرتا ہے۔ التجا قبول ہوتی ہے تو پھر اسی لائن میں لگ کر وصولی کیلئے دربدر پھرتا ہے۔ شوگر ملز مالکان کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ حکمرانوں کا تو کوئی بال بیکا بھی نہیں کر سکتا۔ حکومت اور کاروبار ایک ہی سکے کے دو رخ بن جائیں تو اس کا کیا علاج؟ یہ داستان الم یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔

موسم سرما میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے۔ دریاؤں میں پانی کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ برف پگھلتی ہے تو سیلاب آ جاتا ہے۔ ہر سال بغیر کسی ناغے اور وقفے کے یہ سیلاب راستے میں آنے والی بستیوں کو تاراج کر ڈالتا ہے۔ لاکھوں کیوبک فٹ میٹھا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔ عوام بے گھر، املاک تباہ، مویشی ہلاک، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ خوش قسمت کیمپوں میں باقی ماندہ کھلے آسمان تلے۔ ہر سال ایک ہی منظر۔ حکمرانوں کے ہیلی کاپٹر اڑانیں بھرتے ہیں۔ تیز رفتار گاڑیاں فراٹے بھرتی ہیں۔ حکمران کیمروں کی چکا چوند میں ریلیف آئٹمز بانٹتے ہیں۔ عوام قطاروں میں بھیک منگوں کی طرح۔ خوراک کے پیکٹ، ایک وقت کے کھانے، امدادی چیک، پانی کی بوتل، دو جوڑے کپڑے کیلئے۔ خشک سالی ہو جائے تب بھی دربدری، بے گھری، سیلاب آ جائے تب بھی بے خانماں بربادی۔ دوائیوں کیلئے قطار۔ شفا خانے جانے کیلئے قطار۔

 زلزلہ آ جائے تب بھی قطار۔ بارش ہو پھر بھی قطار۔ سردیوں کا موسم آ جائے تو گیس بند۔ گرمیاں آ جائیں تو بجلی کی لوڈشیڈنگ۔ عوام پھر سڑکوں پر۔ کبھی واپڈا کے دفتر کے سامنے۔ کبھی سی ایم ہاؤس کے گیٹ پر۔ کبھی پارلیمنٹ ہاؤس کے داخلی دروازے۔ کبھی ڈی چوک میں۔ کبھی ایکسپریس وے پر۔ کبھی جی ٹی روڈ پر دھرنا۔ پھر کبھی تو ستم بالائے ستم کے مصداق تمام عذاب ایک ہی وقت میں۔ ایک ہی سیزن میں۔ جیسے سال رواں۔ صبح سے لیکر رات گئے تک گیس غائب۔ ہر گھنٹے بعد باری کے بخار کی طرح بجلی غائب۔ گھر کے چولہے بند، گیزر بند، بجلی کے قمقمے بغیر تیل کے دیئے کی طرح بجھے ہوئے۔ 

جو گھر گرمیوں میں تنور کی مانند تپتے تھے۔ وہی درودیوار اب برف کا جہنم بن چکے۔ ان دو عذابوں کی ماری قوم ابھی اس عذاب کی لگی چوٹوں کو سہلا رہی تھی۔ اوپر سے بد انتظامی، نااہلی نے ایک اور جان لیوا وار کیا۔ اب کی مرتبہ پٹرول ہی غائب ہو گیا۔ پٹرول، جو معیشت کی رگوں میں لہو بن کر دوڑتا ہے۔ جو رک جائے تو معیشت کی سانسیں اکھڑ جائیں۔ پٹرول جس کے بغیر ایمبولینس مریض کو ہسپتال نہیں پہنچا سکتی۔ جو نہ ہو تو پورا ملک جام ہو کر رہ جاتا ہے۔ پچھلے چھ روز سے صوبہ پنجاب میں اٹک سے لیکر صادق آباد تک پٹرول کی قلت ہے۔ چند روز اور گزر گئے تو یہ کمیابی پٹرول کی نایابی میں تبدیل ہو جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کا بحران۔ 

گزشتہ چند ہفتوں سے حکمرانوں کے دروازوں پر دستک دے رہا تھا۔ بے نیاز حکمران۔ ضروری کاموں میں الجھے ہوئے تھے۔ پی ایس او بار بار پکار رہی تھی کہ اس کے پاس پے منٹ کیلئے پیسے نہیں۔ ایل سی کھولنا دشوار ہے۔ حکومت کے ذمے واجب الادا رقم 200 ارب تک پہنچ چکی۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور سی این جی کی بندش کے سبب پٹرول کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ بجائے اس کے پی ایس او کو بروقت ادائیگی کی جائے۔ 

وقت پر مزید پٹرول برآمد کر لیا جائے۔ پارکو ریفائنری کی بروقت مرمت ہو جاتی۔ حکومت اور اوگرا اس بات کو یقینی بناتے کہ کمپنیاں ہر حال میں 20 دن کا ذخیرہ برقرار رکھتیں۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ فنانس منسٹری، خزانے کے سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی رہی اور بحران شدید تر ہوتا چلا گیا۔ 10 جنوری کو ای سی سی اجلاس میں بتایا گیا کہ ابھی 18 روز کا پٹرول باقی ہے۔ 15 جنوری کو اچانک پتہ چلا کہ تیل کی قلت ہو چکی ہے۔ سال کے 365 دنوں کی طرح کسی نہ کسی بہانے گداگروں کی طرح لائنوں میں کھڑے عوام ایک بار پھر قطار میں لگ چکے۔ ایسے گداگر جن کی جیب سے پیسے لیکر بھی پٹرول کی خیرات نہیں ملتی۔

کہانیاں بہت ہیں۔ کوئی نااہلی کے گرد گھومتی ہے۔ کسی کے ڈانڈے حرص سے جا ملتے ہیں۔ کوئی بے نیازی ظاہر کرتی ہے۔ لیکن ایک کہانی ایسی بھی ہے جو بتاتی ہے کہ پی ایس او ہنگامی طور پر تیل خریدے گا تو دو کمپنیاں اپنی جیب ’’پریمئم‘‘ سے بھریں گی۔ یہ کمپنیاں کن کی ہیں؟ آپ بھی معلوم کریں میں بھی کوشش کرتا ہوں۔ عوام کا کام رلنا ہے تو وہ رلتے رہیں گے۔ حکمرانوں کو میگا منصوبوں، میٹرو، موٹروے سے فرصت ملے گی تو ان لوگوں کے جھوٹے مسائل پر توجہ دینے کی فرصت ملے گی۔ تب تک لگے رہو قطار میں۔

ٹیوٹر کی دنیا سے ایک ستم ظریف نے کیا پھڑکتا ہوا جملہ بھجوایا ہے۔ سنائے بغیر رہ نہیں سکتا۔ بے بس پاکستانی کہتا ہے ’’پٹرول نہیں دے سکتے تو قیمتیں کم کیوں کرتے ہو؟

طارق محمود

No comments:

Powered by Blogger.