Header Ads

Breaking News
recent

کیا افغانستان سے انخلاء ذمہ دارانہ اختتام تھا ؟....


ستمبر دو ہزار نو کی بات ہے میں نے کابل کے محاذ پر طالبان کمانڈر سیف اللہ جلالی کا انٹرویو کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب طالبان کی حکومت گرنے کے بعد دو ہزار ایک سے مسلسل ان کی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ کئی علاقائی کوششوں کے نتیجے میں امریکا طالبان کے ساتھ مکالمہ شروع کرنے کے خواہاں تھا۔ طالبان کمانڈر سیف اللہ جلالی نے اس حوالے سے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے طنز کے انداز میں حامد کرزئی کی طرف اشارہ کر کے کہا '' کوئی کس طرح نہ چاہتے ہوئے ہمارے ساتھ مکالمہ شروع کر سکتا ہے۔ ''جلالی نے اس موقع پر مکالمے کے پس منظر میں موجود وجوہات کا بھی ذکر کیا اور کہا '' اولاً امریکا نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ اسے انسانی جانوں کی صورت میں اور مالی اعتبار سے کس قدر قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ثانیاً امریکا نے یہ جان لیا ہے کہ طالبان کا خاتمہ اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔

آج یہ صورت حال ہے کہ افغانستان میں جنگ ایک غیر واضح نتیجہ کو پہنچ گئی ہے۔ اٹھائیس دسمبر کو صدر براک اوباما نے افغانستان میں اپنے نیٹو مشن کی تکمیل کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک ذمہ دارانہ انجام کا نام دیا ہے۔ غالباً ممکنہ طور پر ایک کم سے کم نقصان کے ساتھ انخلاء کی کوشش کو ''ذمہ دارانہ انجام '' کہا گیا ہے۔

فاتحین کی تقریب؟

نیٹو فورسز کے لیے ایک خاموش اور شرمیلی طرز کی تقریب فتح کا یہ انعقاد بھی ہوا تو ایک بڑی دیوار اور بھاری باڑ کے اندر، تقریب گاہ کے دروازے بند تھے اور یہ کسی بھی طور فتح مندوں کی تقریب نہ لگتی تھی۔ سچی بات یہ ہے اس تقریب نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ کابل آج بھی استحکام کے بغیر ہے۔ نومبر دو ہزار چودہ میں محض ایک ماہ قبل طالبان نے کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کر دی تھی۔ اپنی ان تیز کی گئی سرگرمیوں میں طالبان نے کافی اہم کارروائیاں کی ہیں۔

اگر واقعی یہ '' ذمہ دارانہ انجام '' ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغنان جنگ پر خرچ کیے گئے ایک کھرب دس کروڑ امریکی ڈالر کہاں گئے؟ یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ اسے افغان جنگ کے تیرہ برسوں پر پھیلایا جائے تو یہ فی گھنٹہ نو ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے پورے افغانستان کو سنگا پور بنایا جا سکتا تھا۔

سیاسی محاذ پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی طرف سے پیش کیے گئے حل کے نتیجے میں افغانستان کو انتخابی دلدل سے نکالا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا حل ہے جو افغانستان کے سیاسی نظام میں موجود نہ تھا۔ چیف ایگزیکٹو کا نیا عہدہ صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کو رام کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا۔ عبداللہ عبداللہ اس سے کم کسی چیز پر ماننے کو تیار نہ تھے۔ کیونکہ عبداللہ عبداللہ کا پکا یقین تھا کہ اس کے مد مقابل اشرف ٖغنی نے کھلی دھاندلی کے ساتھ الیکشن جیتا ہے۔

اس تصفیے کی بنیاد پر تمام کلیدیں وزارتیں دونوں متحارب امیدواروں میں تقسیم کر دی گئیں۔ لیکن یہ ساری کہانی نہیں ہے۔ پس پردہ جان کیری نے دونوں کے ساتھ اس معاہدے پر دستخطوں پر دونوں کو رام کیا جس کا مطلب دو ہزار چودہ کے بعد بھی افغانستان میں دس ہزار امریکی فوجیوں کو تربیت کاروں کے نام پر افغانستان میں رکھنے کا امکان یقینی بنانا تھا۔ یہ امریکا کے لیے غیر معمولی اہمیت کی بات تھی۔ اس پر سابق صدر حامد کرزئی دستخط کرنے کو آمادہ نہ ہوئے تھے۔ یوں چند گھنٹوں میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے انتیس ستمبر کو اپنے عہدے سنبھال لیے۔

امریکی مفادات کی بجا آوری

بہت سے ماہرین کے مطابق امریکا نے افغانستان میں ایسا سیاسی نظام دیا ہے جو امریکی مقصد براری کے لیے مفید ہوگا۔ اس سلسلے میں امریکا نے قانونی جواز اور اہلیت کے معاملات کو نظر انداز کیا ہے۔اسی غرض سے ایک انتہائی کمزور سیاسی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ اس طرح افغانستان عملا ًایک کارپوریشن کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔ جسے ماضی میں افغان باشندے کرپشن اور جنگی جرائم کے نام سے یاد کرتے تھے۔ افغانستان میں تعمیر نو کے خصوصی ڈی جی نے مارچ دوہزار چودہ میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا امریکی سٹریٹجی وار لارڈز کے ساتھ اتحاد ان کی کرپشن کے حوالے سے حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ہے۔ سابق نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک موقع پر کہا تھا ''ہمارے اولین دشمن طالان نہیں کرپشن ہے۔''

ایک خوفناک تصویر

ٹرانسپیرنسی انٹر نیشل کے مطابق افغانستان کرپشن کی فہرست میں دنیا کو چوتھا اہم ملک ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دو ہزار چودہ کے دوران افغانستان میں ایک ارب بیس کروڑ امریکی ڈالر کی رشوت لی اور دی گئی۔ ایک عام آدمی کو اپنی آمدنی کا بیس فیصد حصہ روزمرہ کے امور میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان پوست پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان دنیا میں پیدا ہونے والی پوست کا نوے فیصد پیدا کرتا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ تیرہ برسوں کے دوران پوست کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان سے متعلق معاشی اشاریے بھی اچھی تصویر پیش نہیں کرتے۔

عالمی بنک کے مطابق تیرہ برسوں کے درمیان افغانستان میں جی ڈی پی مسلسل کم ہو کر تیرہ اعشاریہ پانچ فیصد سے تین اعشاریہ دو فی صد رہ گیا ہے۔ فی کس آمدنی چھ سو ستر ڈالر سالانہ رہ گئی ہے۔ یہ سب چیزیں مل کر افغانستان کی بہت بری تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایشیا فاونڈیشن کے مطابق صرف دس فیصد افغانیوں کو بجلی کی سہولت میس ہے۔ اس طویل جنگ کے بعد افغانیوں کا مستقبل کیا ہے اس حوالے سے فوجی اور سکیورٹی کی پالیسیاں اہم ہیں۔ بلا شبہ آج کا افغانستان اپنی قومی فوج رکھنے والا ملک ہے۔ یہ فوج دولاکھ افغانیوں پر مشتمل ہے، لیکن اس کی تربیت زیادہ اچھی نہیں ہے اور لڑنے کی صلاحیت کی حامل نہیں ہے۔ امریکی خصوصی فورسز کی رپورٹ کے مطابق افغان فوجی ضرورت کے وقت چٹانوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کا حاصل یہ ہے کہ افغان فوج طالبان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس تناظر میں دوہزار سولہ کے بعد کے افغانستان کے بارے میں بھی سوال کھڑا کیا گیا ہے۔

سوویت مداخلت اور سرد جنگ کے دنوں عسکری گروپ اور القاعدہ نے پاکستان اور افغانستان سے وجود پایا تھا۔ ان گروپوں میں ٹی ٹی پی، اب عراق، شمالی افریقہ، صومالیہ اور شام میں القاعدہ داعش ایسے دوسرے ناموں سے موجود ہے۔ اب یہ تمام گروپ امریکی نگاہ میں حقیقی خطرے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور بین الاقوامی کمیونٹی ایک کھرب امریکی ڈالر سے زائد خرچ کرکے پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ پورا علاقہ افغانستان میں اپنے پرانے مفادات کے تحفظ کے لیے مصروف ہو جائے گا۔ اس صورت حال میں اس علاقے میں پھر تصادم کی تیاری ہے۔ جلالی کی آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ ہونے والی گفتگو سے یہ واضح ہو رہا تھا کہ امریکا اور نیٹو ممالک افغانستان سے انخلاء کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ طالبان ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آنے کی تیاری میں ہیں

بکر عطیانی

No comments:

Powered by Blogger.