Header Ads

Breaking News
recent

ایک سوال جس کا جواب نہیں مل رہا...

کراچی کو ایک بار پھر بند کرنے کا حکم مل گیا۔ عروس البلاد کی زندگی بھی دھوپ چھاؤں کی مانند ہے، جس طرح بارش کسی وقت بھی ہو سکتی ہے، اُسی طرح یہ شہر بھی ہنستے بستے ویرانی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اس بار بھی متحدہ قومی موومنٹ نے یوم سوگ منانے کا اعلان کیا اور کراچی کی زندگی مفلوج ہو گئی۔ کراچی کے مسائل کیسے حل ہوں گے، اس بارے میں شاید پاکستان میں کسی شخص کو بھی کچھ معلوم نہیں۔

 عام آدمی سے لے کر تاج و تخت کے وارثوں تک اس حوالے سے بے بس اور بے خبر نظر آتے ہیں۔ اب تو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر کا اصل حاکم کون ہے۔ سندھ حکومت رینجرز، پولیس یا ایم کیو ایم۔ متحدہ قومی موومنٹ کا ایک اعلان پورے شہر کو بند کر دیتا ہے۔ دوسری طرف رینجرز ہیں جو کراچی کو پر امن بنانے کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن ان کی غیر جانبداری پر بھی صحیح یا غلط انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے کا معاملہ خاصا پُراسرار ہے۔

 پہلے اُنہوں نے کہا اُن کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے اور بعد میں اپنے اس بیان سے مُکر گئے اور اسے معمول کی مشاورت کا نام دیدیا۔اب ان سے کوئی پوچھے صبح پانچ بجے یعنی صبح صادق سے بھی پہلے مشاورت کا کون سا وقت ہے؟ متحدہ نے اس بار اپنے ایک کارکن کی لاش ملنے پر احتجاج کا فیصلہ کیا۔ جسے بقول اُن کے پولیس نے ڈیڑھ ماہ پہلے گرفتار کیا تھا اور نا معلوم مقام پر رکھا ہوا تھا۔ اب اُس کی لاش ملی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے کارکن کی ماورائے عدالت ہلاکت کا الزام پولیس کو دیا ہے۔ 

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے اُسی دن کراچی پولیس چیف نے ایک اُجرتی قاتل کو صحافیوں کے سامنے پیش کر کے دعویٰ کیا کہ وہ ڈاکٹر شکیل اور جعفر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے اور یہ بھی کہا کہ اُس نے خود کو متحدہ کا کارکن کہا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو کراچی میں امن و امان کی صورتِ حال اس لئے دگرگوں ہو چکی ہے کہ ہر کوئی خود کو یا تو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر فرض شناس، جبکہ جرائم ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔

 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب فوجی عدالتوں کے قیام کا بل زیر غور تھا تو مذہبی جماعتوں کی طرف سے زور دے کر کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کو خانوں میں تقسیم نہ کیا جائے، بلکہ صرف دہشت گردی سمجھا جائے۔ اُن کا اشارہ کراچی کی طرف تھا، جہاں آئے روز دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں اور پولیس قاتلوں کو گرفتاری کے باوجود سزائیں دلانے سے قاصر رہتی ہے، کیونکہ پراسیکیوشن اور بعد ازاں سماعت کے مرحلے پر کیس میں سو خامیاں رہ جاتی ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کراچی میں اگر ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں، تو اس کا سبب بھی یہی ہے کہ قاتلوں اور دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں نہیں ملتیں۔

 کراچی میں کہ جہاں آئے روز پولیس والوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر لاوارث لاشیں ملتی ہیں اور بعد ازاں ان کی شناخت سیاسی جماعت کے کارکن کی حیثیت سے ہوتی ہے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ صورت حال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایک پولیس والے نے مجھے فون کر کے کہا کہ کراچی میں پولیس والے چاہے جتنے بھی مار دیئے جائیں ان کے سوگ میں شہر بند ہوتا ہے اور نہ سوسائٹی اُن کے لئے آواز اُٹھاتی ہے، لیکن کسی سیاسی کارکن کی لاش ملے تو پورا شہر بند ہو جاتا ہے۔ 

یہ بڑی زیادتی کی بات ہے۔ مَیں نے کہا پولیس کا تو کام ہی جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف لڑنا اور مرنا ہے، لیکن کسی شہری کی پولیس کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت پر افسوس ضرور ہوتا ہے، کیونکہ پولیس کو یہ اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے بغیر اپنی ’’عدالت ‘‘ کا فیصلہ سنا دے۔ اس لئے کراچی میں اس الزام کی سنجیدہ اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے کہ وہاں ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں یا نہیں۔

سندھ حکومت کی عدم فعالیت تو اب مسلمہ ہوتی جا رہی ہے۔ اگر کراچی میں رینجرز اور پولیس خود فیصلے کرنے میں آزادانہ ہوں، تو شاید صورتِ حال اس سے بھی زیادہ سنگین ہو جائے۔ کراچی پر دو ہی بڑی جماعتیں گزشتہ 30سال سے راج کر رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ،لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان دونوں نے کراچی کے امن کو کبھی اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اس وقت تکنیکی طور پر کراچی آپریشن کے سربراہ ہیں۔ یہ ذمہ داری اُنہیں وزیراعظم محمد نوازشریف نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سونپی تھی۔ اُس وقت بھی یہ سوال اُٹھا تھا کہ آیا پیرانہ سالی کا شکار وزیراعلیٰ یہ اعصاب شکن ذمہ داری اُٹھا سکتا ہے۔

 کیا وزیراعلیٰ سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پولیس کو غیر قانونی اقدامات سے روک سکیں، میرا نہیں خیال کہ اس وقت وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو رینجرز یا پولیس اپنی کارروائیوں سے باخبر رکھنا بھی گوارا کرتی ہوں گی۔ متحدہ قومی موومنٹ چونکہ سندھ اسمبلی میں بھرپور نمائندگی رکھتی ہے۔ اس لئے وہ حکومت کو ہر معاملے میں زچ کر دیتی ہے۔ انہی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مسئلے پر متحدہ قومی موومنٹ نے وزیراعلیٰ کے گھر پر دھرنا دیا، تو سید قائم علی شاہ نے اسے وزیراعلیٰ ہاؤس پر حملہ قرار دیا، جس پر متحدہ نے مزید ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس کے بعد جب ایک اور لاش مل گئی، تو کراچی بند کرنے کی کال دے دی گئی۔ کراچی کے حالات کا ذمہ دار کوئی بھی نزلہ بے چارے عوام پر گرتا ہے۔ اُنہیں خوف، بے روز گاریا ور معاملات زندگی چلانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے کراچی کو سب کھلونا سمجھ کر کھیل رہے ہیں کوئی بھی سنجیدہ کوششیں کرنے پر تیار نہیں۔ کراچی میں طالبانائزیشن کے شواہد ضرور ملے ہیں، لیکن صرف اسی ایک عنصر کو کراچی میں بد امنی کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کراچی مختلف مافیا گروپوں کی آماجگاہ بن چکا ہے یہ پاکستان کی شہ رگ ہی نہیں سونے کی کان بھی ہے۔

 دو کروڑ سے زائد آبادی کا یہ شہر امن کی تلاش میں ہے اس سوال پر کوئی بھی سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہیں کہ کراچی میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور اپنی اپنی مجبوریاں ہیں،جب تک ان سے بالاتر ہو کر کراچی کے بارے میں نہیں سوچا جائے گا، حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکیں گے۔بعض حلقے کراچی کے مسئلے کا حل آپریشن ضربِ عضب کی طرح کا ایک بڑا فوجی آپریشن بتاتے ہیں، لیکن سندھ حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ اس کے حق میں نہیں۔ 

الطاف حسین سندھ میں مارشل لاء نافذ کرنے کا مطالبہ تو کرتے ہیں ، مگر اس بات کی حمایت نہیں کرتے کہ وہاں فوجی آپریشن ہو یا فوجی عدالتیں بنیں۔ سندھ حکومت کی حکمران جماعت وفاقی سطح پر بنائی جانے والی فوجی عدالتوں کے ترمیمی بل کی حمایت تو کرتی ہے، لیکن اگر اسے یہ کہا جائے کہ وہ کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزموں کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ہونے دے تو وہ انکار کر دیتی ہے۔ سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات بھی نہیں کرا رہی، جس سے حکومت کا ڈھانچہ گراس روٹ لیول پر جاتا ہے اور جرائم پیشہ افراد پر نظر رکھنا بھی آسان ہوتا ہے۔

یوں سندھ میں سید قائم علی شاہ کی حکومت کراچی کے حوالے سے عملاً ہاتھ کھڑے کر چکی ہے۔ بے بسی کی انتہا پر کھڑی ہے۔ گزشتہ دنوں ٹمبر مارکیٹ کراچی میں جو آگ لگی اور جس میں سینکڑوں دکانیں بھسم ہو گئیں، سندھ حکومت کی طرف سے متاثرین کو کوئی امداد دی گئی اور نہ ہی یہ پتہ لگایا جا سکا کہ اس سانحے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ بڑے سے بڑا واقعہ بھی حکومت کے لئے معمول کی بات سمجھی جاتی ہے جیسے اسی سانحے میں سید قائم علی شاہ آج تک ٹمبر ماکیٹ کا جائزہ لینے نہیں گئے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو اپنی اولین ترجیحات میں کراچی میں قیام امن کو شامل کیا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے کراچی میں اجلاس بھی کئے اور فیصلے بھی سنائے گئے، مگر عملاً آج بھی کراچی کشت و خون کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ سب اسٹیک ہولڈرز کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، لیکن لگتا یہ ہے کہ سبھی کو صرف اپنی پڑی ہے۔ وزیراعظم چونکہ دھرنوں کی وجہ سے دیگر مسائل میں الجھ گئے، اب بھی انہیں مختلف فوری مسائل کا سامنا ہے، اس لئے کراچی کے حالات پر ان کی نظر کم ہی پڑتی ہے۔ پھر کچھ سیاسی مجبوریاں بھی ہیں، جو کراچی کے حالات میں انہیں کھلے اختیارات کے ساتھ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔

 ایک طرف سندھ حکومت ہے، جسے عملاً آصف علی زرداری چلا رہے ہیں، ان کی وجہ سے نواز شریف مداخلت نہیں کرتے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم ہے، جو سندھ اور وفاق میں نمائندگی کے باعث حکومت کو باندھ کر رکھ دیتی ہے۔ خود متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی بھی کراچی میں امن کے قیام پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر رضا مند نہیں۔ دونوں کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں، کراچی میں ایک اور فریق جماعت اسلامی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی کا ایک دوسرے سے شدید اختلاف ہے۔ 

متحدہ نے تو جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے جب سیاسی قوتیں اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوں تو کراچی جیسے شہر کا کوئی پُرامن حل کیسے نکالا جا سکتا ہے، ایسے میں اگر پولیس اور رینجرز صورت حال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اپنے تئیں کوششیں کررہی ہیں تو ان پر اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے، جب تک سیاسی جماعتیں اپنی صفوں سے دہشت گردوں، اجرتی قاتلوں اور جرائم پیشہ افراد کو نہیں نکالتیں اور کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے فوج کو گھر گھر تلاشی کا ٹاسک نہیں دیتیں، اس وقت تک کراچی یونہی آگ و خون میں جلتا رہے گا۔ کیا ہمارے مقتدر حلقے کراچی کے بارے میں تب سوچیں گے، جب پانی سر سے گزر جائے گا؟ یہ سوال بہت اہم ہے، مگر اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔

نسیم شاہد

No comments:

Powered by Blogger.