Header Ads

Breaking News
recent

سزائے موت اور خصوصی عدالتیں.....

دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف سول سوسائٹی، این جی اوز، حکومتیں طویل عرصے سے سر گرم عمل ہیں ان کا موقف ہے کہ سزائے موت انسانی وقار کے خلاف ہے بعض اوقات یہ سزائیں امتیاز کی بنیاد پر دی جاتی ہیں اور بے گناہ پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔ 2010 میں یو این او 41 کے مقابلے میں 109 ووٹوں کی اکثریت سے سزائے موت کو معطل کرنے کی قرارداد منظور کرچکی ہے،سزائے موت کے خلاف عالمی دن بھی منایا جاتا ہے، دنیا کے 130 ممالک سزائے موت ختم کرچکے ہیں۔
  
اس پر عمل در آمد نہیں کرتے جب کہ اتنے ہی ممالک میں اس پر عمل در آمد ہورہاہے۔ اس سلسلے میں پاکستان پر بھی ایک عرصے سے شدید دباؤ تھا خاص طور پر توہین رسالت پر سزا یافتہ افراد کی وجہ سے دنیا بھر کی حکومتوں، اداروں اور ملکی و غیر ملکی این جی اوز کی طرف سے سزائے موت کے اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ پی پی پی کے سابقہ دور حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی 55 ویں سالگرہ کے موقعے پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کو محترمہ کے ساتھ جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالوں کی طرف سے تحفہ قرار دیا گیا تھا۔

سزائے موت کے حوالے سے دنیا کو تین کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلی کیٹیگری جہاں سزائے موت نہیں ہے، دوسری وہ جہاں اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا، تیسری وہ جہاں اس سزا پر عمل در آمد ہورہاہے اس سلسلے میں پاکستان پہلے تیسری کیٹیگری میں تھا پھر دوسری میں آیا اور سانحہ پشاور کے چند گھنٹوں بعد پھر تیسری کیٹیگری میں آگیا ہے۔پاکستان میں قانونی اور مذہبی حلقے سزائے موت پر عمل در آمد کرنے کے حق میں رہے ہیں جن کا موقف ہے کہ سزا کے تصور کے بغیر کوئی معاشرہ صحت مندانہ انداز میں ترقی نہیں کرسکتا۔ سزا کا خوف نہ ہوگا تو جرائم عام ہوں گے۔

سزا میں اصلاح معاشرہ، عبرت عامہ اور جذبہ انتقام کی تسکین کے پہلو کار فرما ہوتے ہیں، قرآن پاک میں بھی اﷲ کے ارشاد ہے کہ ’’قصاص تمہارے لیے زندگی ہے‘‘ پاکستان پر سزائے موت کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنے اور اس کو انسانی وقار کے خلاف اور امتیازی قرار دینے والی عالمی قوتیں خود کو دنیا بھر میں بموں اور ڈرونز سے زندگیاں ختم کررہی ہیں جن کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ ان حملوں میں مرنیوالے تمام گنہگار ہیں اور ان کی عقوبت گاہوں میں قید اور عدالتوں سے سزائیں پانیوالے حقیقتاً مجرم ہیں جن کو دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اور خود ان کے حکومتی ذمے دار اور عوام امتیاز پر مبنی اور انسانی وقار کے خلاف قرار دے رہے ہیں لیکن پاکستان جہاں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا و تاوان اور قتل وغارت کے واقعات جن میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کی زندگیاں تلف کردی جاتی ہیں۔ عدالتیں ثبوت، گواہوں کے بیانات اور صفائی کا موقع دینے کے بعد انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد مجرموں کو سزائیں سناتی ہیں تو انھیں اس میں انسانی وقار کی پامالی نظر آجاتی ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں ہر جگہ جرائم پیشہ عناصر و گروہ دندناتے پھررہے ہیں۔

بے گناہوں کی جان، مال، عزت، آبرو اور مستقبل ملیامیٹ کررہے ہیں، جیلیں اصلاح کی بجائے اسلحہ خانے جرائم پیشہ عناصر کی آرام گاہیں اور پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ایسی صورت حال میں اگر سزائے موت ختم کردی جائے تو دہشت گردی، دھماکوں، اغوا، تاوان، بھتہ گیری اور قتل کی وارداتوں سے چھٹکارے کے لیے کیا طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے؟ اغوا برائے تاوان، بھتہ، زمینوں پر قبضہ اور قتل عام ایک باقاعدہ کاروبار یا صنعت کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، گرفتار قاتل سپاری لے کر پچاسیوں قتل کرنے کا اعتراف کرچکے ہیں۔

ہزاروں بے گناہوں کو قتل کرنے کے علاوہ قانون کی مدد حاصل کرنے والے مدعیوں، گواہوں، وکیلوں اور بڑی تعداد میں پولیس و رینجرز اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔جان ومال عزت و وقار اور عدم تحفظ کی وجہ سے ملک سے سرمایہ، سرمایہ داروں، صنعتوں اور صنعت کاروں کے علاوہ برین ڈرین اور اسکل ڈرین کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے دوسری جانب حکومتیں سیکیورٹی کے نام پر کھربوں روپے خرچ کرچکی ہیں مگر اس کا نتیجہ صفر رہا ہے۔

سزائے موت پر عمل درآمد کے حالیہ فیصلے کے بعد اگر اس سلسلے کو نیک نیتی اور دیانت داری سے جاری رکھا گیا تو اس کے مثبت نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔ سزائے موت کے تمام مجرموں کی رحم کی اپیلیں یک جنبش قلم رد اور انھیں بلا تخصیص پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جانا چاہیے۔ اس کے لیے تمام قانونی و اخلاقی تقاضے بھی پورے اور تمام عمل شفاف ہونا چاہیے۔ اس وقت عالمی سطح پر ماسوائے یورپی یونین کے جس نے سزائے موت پر اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے اندرونی و بیرونی طور پر حکومت کو اس معاملے پر مکمل تعاون حاصل ہے۔قومی پارلیمانی کانفرنس میں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی افسروں کی سربراہی میں اسپیشل ٹرائل کورٹس کی تشکیل پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

ان عدالتوں کے قیام میں حائل آئینی وقانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لینے کے لیے آئینی و قانونی ماہرین کی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے،کانفرنس نے 18 نکاتی اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کی امداد و وسائل ختم کیے جائیںگے۔ کراچی آپریشن منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، فرقہ وارانہ دہشت گردی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دہشت گردی کے لیے استعمال روکا جائے گا۔ کالعدم تنظیموں کو دوبارہ فعال نہیں ہونے دیاجائے گا۔ مسلح جھتے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دہشت گردوں کا ٹرائل کم سے کم وقت میں کیا جائے گا۔ نیکٹا کو موثر بنایاجائے گا۔انسداد دہشت گردی فورس کا قیام وتعیناتی عمل میں لائی جائے گی اور دہشت گردوں پر مقررہ میعاد کے اندر مقدمات چلانے کے لیے دو سال کے لیے فوجی افسروں پر مشتمل فوجی عدالتیں فوری طور پر قائم کی جائیںگی ان فوجی عدالتوں کو خصوصی عدالتوں کا نام دیا گیا ہے۔

دس گھنٹوں پر محیط اس اجلاس میں تمام سفارشات پر مکمل اتفاق رائے پایاگیا البتہ فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں الطاف حسین، فضل الرحمن، اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی اور پی پی پی کے اندرونی حلقوں کی جانب سے بعض تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا مگر مخالفت سامنے نہیں آئی۔ آئینی ماہرین نے فوجی افسران پر مشتمل خصوصی عدالتوں کی تشکیل کو خلاف آئین قرار دیا ہے ۔ ملک میں پہلے ہی آئین و قانون کے تحت تشکیل کردہ عدالتی نظام موجود ہے جس میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت خصوصی عدالتیں موجود ہیں جو فیصلہ بھی صادر کررہی ہیں۔اس لیے ایک عدالتی نظام کی موجودگی میں فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں دہرے عدالتی نظام کی قباحتیں پیدا ہو سکتی ہیں جن کا حل نکالنا بھی ضروری ہے۔ ن لیگ کے دور میں 1992 میں بھی فوجی عدالتیں بنائی گئی تھیں ۔

بے شک یہ فیصلہ انھوں نے کتنی ہی نیک نیتی اور اخلاص سے کیا ہو اس فیصلے کے دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا چاہیے اور مستقبل میں یہی سیاست دان جو آج اس اقدام کے حامی ہیں حسب روایت اس کو جواز بناکر تنقید کا نشانہ بنانے میں ذرا تحمل نہیں کریں گے۔ اس وقت عدلیہ مکمل طور پر فعال ہے موجودہ صورت حال میں چیف جسٹس آف پاکستان نے گزشتہ دنوں ججز کے اجلاس میں دہشتگردی کے مقدمات الگ کرکے ان کی روزانہ کی بنیادوں پر سماعت جیسے متعدد اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔

عدنان اشرف ایڈووکیٹ

 

No comments:

Powered by Blogger.