Header Ads

Breaking News
recent

تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ یا دوسرے لفظوں میں تاریخی کمی.....


تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ یا دوسرے لفظوں میں تاریخی کمی کی گئی‘ وزیراعظم سے رہا نہ گیا‘ خود میڈیا کے سامنے آکر یہ خوش کن اعلان کیا۔ اچھی بات ہے لیکن کاش وہ دن بھی آئے جب وزیراعظم اپنی کوئی کارکردگی بتانے میڈیا کے سامنے آئیں۔ تیل سستا کرنے کا ان کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تو امریکہ کی مہربانی ہے۔ اس نے شیل ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنا درآمدی بل 30فیصد تک کم کر لیا جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں گر گئیں۔ امریکہ کی بڑی مہربانی میں داعش کی چھوٹی مہربانی بھی شامل ہے جس نے شام اور عراق میں تیل کے بہت سے کنوؤں پر قبضہ کر کے تیل کو ’’ڈانگوں کے گز‘‘ کے حساب سے برآمد کرنا شروع کر دیا۔ اس وجہ سے بھی تیل کی قیمت اتنی کم ہوگئی۔
لیکن جتنی کم ہوئی‘ پاکستان میں اتنی کم نہیں کی گئی۔

یہاں جو تیل 10روپے سستا کیا گیا ہے‘ اسے25روپے سستا کرتی تو بھی حکومت کو پانچ روپے لیٹر کا فائدہ ہوتا۔ لیکن حکومت نے سوچا ہوگا‘ اتنا سستا کیا تو لوگ خوشی سے دیوانے ہوجائیں گے۔ انہیں دیوانگی سے بچانے کے لئے فی الحال صرف دس روپے کا ریلیف دیا ۔ اخبارات نے ٹھیک سرخی لگائی کہ تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی۔ لیکن سرخی یوں لگاتے تو زیادہ ٹھیک ہوتی کہ تیل کی قیمتوں میں صرف دس روپے کی کمی۔

دس بارہ یا پندرہ روپے فی لیٹر کی اضافی اور غیر متوقع آمدنی پیسے کی کمی کا شکار حکومت کے لئے وہ نعمت ہے جسے غیر مترقبہ لکھا جاتا ہے‘ یہ آمدنی ملا کر اربوں روپے کی ہوگی۔ حکومت اس ڈھیر ساری دولت کا کیا کرے گی۔ کسی ملکی فائدے کے لئے استعمال میں لائے گی یا پرانی عادت پر چلتی رہے گی؟
اس’’تاریخی ریلیف‘‘ سے عوام کو کچھ زیادہ فائدہ ہونے کی اُمید کم ہے۔ تیل دس فیصد سستا ہوا ہے تو مہنگائی میں بھی کمی ہونی چاہئے۔ کیا روٹی نان سستا ہوگا‘ دال سبزی کے نرخ گریں گے‘ بجلی کی قیمت کم ہوگی جو تیل سے بھی بنتی ہے؟ سب سے پہلے تو کرائے کم ہونے چاہئیں لیکن ٹرانسپورٹروں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کرائے کم نہیں کریں گے تو نان بائیوں اور سبزی فروشوں کو کیا پڑی ہے کہ ہاتھ آیا اضافی منافع ہاتھ سے جانے دیں۔ وزیراعظم نے کرائے کم کرنے کی ذمّہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی ہے۔ اسے کہتے ہیں اپنی بلا دوسروں کے سر ڈالنا۔ صوبائی حکومتیں جس قابل ہیں‘ سب کو پتہ ہے۔ وہ تو صرف تصویریں چھپوا سکتی ہیں۔ لوگ بہت انجوائے کرتے ہیں جب سارا شہر ایسے فلیکس سے بھرجاتا ہے جن میں خادم پنجاب مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ دوسروں کا ٹوتھ برش مت استعمال کرو‘ ہیپاٹائٹس ہو جائے گا۔ یا پھر قائم علی شاہ ان سڑکوں کا بتاتے ہیں جو شاید ’’انٹارکٹیکا‘‘ میں بچھائی جا رہی ہیں۔ گویا ریلیف ملنے کی یہ آس بھی یاس کے افق میں ڈوب گئی!

لگتا ہے‘ اس ’’ریلیف‘‘ کی آڑ میں حکومت وہ چھینی ہوئی رقم واپس کرنا بھی بھول جائے گی جس کی واپسی کا اس نے وعدہ کر رکھا ہے۔ بجلی کے بلوں میں زائد وصول کی گئی اس رقم کی مالیت کہا جاتا ہے کہ70 ارب کے قریب ہے۔ جس شہری کا بل تین ہزار آتا تھا‘ اسے سات ہزار بھرنا پڑے اور جس کا بل آٹھ ہزار کا تھا‘ اسے20ہزار کا آیا۔ اس بلنگ کی وجہ سے یہ مہینہ کروڑوں پاکستانیوں پر کیسی قیامت بن کر ٹوٹا یا گزرا‘ وزیراعظم کو اس کا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک کمیٹی بنی جس کی رپورٹ وزیراعظم نے مسترد کر دی۔ پتہ نہیں اس میں کیا لکھا تھا۔ اب دوسری رپورٹ لکھنے کا حکم ہے۔ اس میں کیا لکھا جائے گا؟ یہی کہ عوام کو تیل کی مد میں تاریخی ریلیف مل چکا‘ اب اضافی بل واپس کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ کمیٹی کو رخصت پر جانے کی ریلیف دی جائے۔

No comments:

Powered by Blogger.