Header Ads

Breaking News
recent

دولت میں 5 لاکھ ڈالر فی منٹ اضافہ


سال 2013ء سے 2014ء کے درمیانی عرصہ میں دنیا کے امیر ترین 85 لوگوں کی مجموعی دولت میں 6 کروڑ 80 لاکھ ڈالروں کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنی دولت میں ہر منٹ کے بعد پانچ لاکھ ڈالروں کا اضافہ ہوتے دیکھا ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات نے غربت کے خلاف جنگ کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے۔

جمعرات کو شائع ہونے والی مذکورہ بالا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی بحران کے آغاز سے اب تک دنیا کے کھرب پتی امیروں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ امیر ترین لوگ اپنی اور اپنے گھرانوں کی زندگی میں اپنی دولت خرچ نہیں کرسکیں گے جب کہ سینکڑوں ارب لوگ غربت کی آخری لکیر سے نیچے غرق ہو چکے ہیں اور صحت اور تعلیم کی سہولتوں تک رسائی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ بتایا گیا ہے کہ میکسیکو کے کارلوس سلم کو اور ان کی فیملی کو جو دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں روزانہ دس لاکھ ڈالرز خرچ کرتے ہوئے بھی دو سو اٹھارہ سال لگیں گے مگر ان کی دولت ختم نہیں ہوگی بلکہ مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اسی طرح روزانہ دس لاکھ ڈالرز خرچ کرنے پر بل گیٹس اور ان کا گھرانہ بھی دو سو اٹھارہ سالوں کے بعد بھی غربت سے لطف اندوز نہیں ہوسکے گا۔

دوسری جانب دیکھنے کی کوشش کریں تو پتہ چلے گا کہ عالمی مالیاتی بحران کے آغاز سے اب تک کم از کم دس لاکھ مائیں بچوں کی پیدائش کے دوران وفات پا چکی ہیں کیونکہ انہیں مناسب خوراک اور موزوں علاج نصیب نہیں تھا۔دنیا بھر کے ملکوں میں چھلک جانے والی معیشت کے تقاضوں کے تحت دولت چھلک کر غریبوں کی طرف نہیں امیروں کی طرف جارہی ہے۔ امیروں کو اور زیادہ امیر بنانے کے کام کررہی ہے۔ امیروں کےپہلے سے زیادہ امیر ہونے کی رفتار اس کالم کے شروع کی سطروں کی بتائی گئی ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ ’’تاریخ کے خاتمے‘‘ کے بعد اب دنیا کے امیروں کو کسی خونی انقلاب کا اندیشہ نہیں رہا اور راوی چین لکھتا ہے۔

پاکستان کی کہانی بھی اس داستان سے الگ نہیں ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقے کے 20 فیصد غریب ترین لوگوں سے تعلق رکھنے والے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کا امارت یا خوشحالی کی شکل دیکھنے کا ایک اعشاریہ نو فیصد چانس بتایا جاتا ہے یعنی واضح طور پر صاف انکار ہے۔ بیس فیصد غریب ترین پاکستانی گھرانے اگراپنے بچوں کو بہت ہی کم فیسوں والے سرکاری سکولوں میں بھیجیں گے تو وہ اپنی آمدنی کے 127 فیصد خرچ کررہے ہوں گے۔ وہ کیسے ہوگا؟
قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ ہم نے دوپاکستان بنا لئے ہیں ایک ’’اشرافیہ کا پاکستان‘‘ اور دوسرا ’’عوام کا پاکستان‘‘ ہے۔ یعنی دو قومی نظریہ قیام پاکستان کے بعد یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ غربت مصیبتوں کو جنم دیتی ہے۔ مصیبتیں غصے کو جنم دیتی ہیں اور غصہ دہشت گردوں کی جیکٹ پہن لیتا ہے۔ پاکستان میں 
OXFAM کے کنٹری ڈائریکٹر عارف جبار بتاتے ہیں کہ پاکستان کے امیر ترین بیس فیصد ماہوار آمدنی کا 45 فیصد نگل جاتے ہیں جبکہ نچلی سطح کے بیس فیصد اپنے گھروں کو صرف 8 فیصدی لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور وہ بھی بہت مشکل ہے۔

منو بھائی
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.