Header Ads

Breaking News
recent

اصل جنگ......


ایسا لگتا ہے کہ اسلام آباد میں جاری سیاسی ڈرامہ انتہائی مہارت کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ اس کا ڈراپ سین ابھی ہونا باقی ہے، اختتام کس طرح ہوگا، یہ بھی واضح نہیں ہے۔ ریڈ زون پر قبضہ، اور پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے ہنگامہ آخری اقدام ثابت ہونے تھے، لیکن روزانہ نئے ٹوئسٹ آرہے ہیں جس کی وجہ سے معاملہ طویل اور گہرا ہوتا جا رہا ہے، جبکہ پوری قوم شارع دستور پر ہونے والے تشدد کے مناظر دیکھ رہی ہے۔

روزانہ نئے کردار سامنے آرہے ہیں، جس سے سسپنس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے پارلیمنٹ، پھر فوج، اب سپریم کورٹ بھی ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ لیکن کیا وہ اس جمود کو توڑ کر اسے کسی منطقی انجام تک پہنچا سکتے ہیں؟ جیسے جیسے حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فوج کی جانب سے ثالثی کی کوششیں تب رک گئیں جب وزیر اعظم نے ثالثی کی درخواست سے لا علمی کا اظہار کیا، لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے کی گئی ثالثی کی پیشکش اب بھی فریقین کی رضامندی کی منتظر ہے۔

اب اس معاملے میں بہت شبہات ہیں، کہ آیا فوج ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرے گی، یا وہ بھی اس بحران میں ایک فریق ہے۔ اس پورے تنازعے میں ہمیں کمرے میں موجود اس خفیہ طاقت کو نہیں بھولنا چاہیے۔ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان موجود تنازعہ اس حالیہ بحران کی بڑی وجوہات میں سے ہے۔ سیاسی ٹینشن اور ٖبے یقینی تب تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ فوج اور نواز شریف کے درمیان تعلقات میں بہتری نا آجائے۔

عمران خان، طاہر القادری، اور فوج کے درمیان کوئی گٹھ جوڑ ہے یا نہیں، اس کا ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ لیکن جاوید ہاشمی، جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر ترین رہنما ہیں، کی جانب سے کیے گئے انکشافات کے بعد اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ ان دونوں لیڈروں کی فوج کے کچھ عناصر کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے، کہ فوج اور وزیر اعظم کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹینشن کی رپورٹس کی وجہ سے ہی اسلام آباد کی جانب مارچ، اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہو؟ خاص طور پر طاہر القادری فوج کے لیے اپنی محبت کا والہانہ انداز میں اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے کیمپ میں لٹکتے ہوئے بینر جن میں فوج کی حمایت میں الفاظ درج ہیں، بھی کئی شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔

جب ان دوںوں لیڈروں کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے بلایا گیا اور ثالثی کی پیشکش کی گئی، تو دونوں کی خوشی دیدنی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں فوج کے بیچ میں آنے کی کتنی امید تھی۔ یہ بات بہت واضح ہے، کہ مظاہرین کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس پر دھاوا، اور شارع دستور پر جاری ہنگامہ اسی لیے کیا گیا تھا، تاکہ فوج کو مداخلت کے لیے جواز فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ فوجی سپاہیوں کے حق میں مظاہرین کی نعرے بازی بھی اچانک اور غیر متوقع نہیں تھی۔

فوج اور نواز شریف کے ماضی میں تعلقات کو دیکھا جائے، تو صاف معلوم ہوتا ہے، کہ دونوں کے روابط کبھی بھی اچھے نہیں رہے۔ جنرلوں نے نواز شریف کی اقتدار میں واپسی کو ہچکچاہٹ سے قبول کیا۔ اور صرف کچھ ہی وقت میں ان کے ناہموار تعلقات دوبارہ خراب ہوگئے۔ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا نواز شریف کے فیصلے نے چنگاری کا کام دیا، جب کہ ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی مزید کم تب ہوئی، جب وزیر اعظم مبینہ طور پر مشرف پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد انہیں محفوظ راستہ دینے کے معاہدے سے پھر گئے۔

اس کے علاوہ بھی کچھ مسائل ہیں، جنہوں نے سول ملٹری قیادت کے درمیان تنازعے کو مزید ہوا دی۔ طالبان کے خلاف آپریشن پر نواز شریف کا مبہم رویہ، اور کابینہ کے کچھ وزراء کی جانب سے فوج کے خلاف بیانات نے بھی ٹینشن کو بڑھایا۔ لیکن جیو کے تنازعے نے باقاعدہ جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جیو کی جانب سے آئی ایس آئی پر الزام لگانے کے بعد حکومت کی جانب سے جیو کے خلاف کاروائی میں تاخیر پر فوج نے یہ سمجھا کہ حکومت جیو کی حمایت کرتی ہے۔ کچھ وزراء کی جانب سے جیو کی حمایت میں دیے جانے والے بیانات نے آگ کو مزید بھڑکانے میں مدد دی۔

جیسے جیسے عداوت بڑھتی گئی، تو وزیر اعظم نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر الاسلام کو سویلین حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات کے تحت ہٹانا چاہا۔ یہی وہ فیصلہ کن مقام تھا، جہاں نواز شریف کو پیچھے ہٹنا پڑا، پر تب تک نقصان ہو چکا تھا۔

اس میں حیرت کی بات نہیں، کہ کئی سینیئر وزراء نے اس سازش کی بو تب ہی سونگھ لی تھی، جب عمران خان اور طاہر القادری نے ہاتھ ملائے، اور اسلام آباد کا رخ کیا۔ حد سے زیادہ پرعزم قادری کے فدائیوں نے تحریک انصاف کو وہ افرادی قوت فراہم کی، جس میں تحریک انصاف کو اپنی تمام تر سپورٹ کے باوجود کمی کا سامنا ہے۔ یہ واضح تھا، کہ تحریک انصاف صرف اپنے بل پر مہم اتنے لمبے عرصے تک جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔

بلاشبہ اس پریشان کن صورتحال کے مزید پریشان کن ہونے میں حکومت کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ حکومت کی عدم استعداد ہی ہے، جس کی وجہ سے طاہر القادری اور عمران خان دار الحکومت کو اتنے دنوں سے یرغمال بنائے رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کے فیصلے نے حکومت کو تو زیادہ فائدہ نہیں پہنچایا ہے، البتہ فوج کو مزید بااختیار کر دیا ہے۔

نواز شریف کی ساکھ اور تب زیادہ خراب ہوئی، جب انہوں نے قومی اسمبلی میں بیان دیا کہ انہوں نے فوج کو ثالثی کے لیے نہیں کہا، لیکن اسی وقت آئی ایس پی آر کی جانب سے اختلافی بیان آگیا، جس نے نواز شریف کو شرمندہ ہونے پر مجبور کر دیا۔

یہ حقیقت ہے، کہ جیسے جیسے حکومت کی معاملات پر گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے، ویسے ویسے فوج مزید با اختیار ہو رہی ہے۔ جنرلوں کی جانب سے سیاستدانوں کو معاملہ پر امن اور سیاسی طور پر حل کرنے کی نصیحت نے بھی یہ ظاہر کر دیا ہے، کہ سیاسی طاقت جی ایچ کیو کے پاس ہے۔ فوج کی جانب سے یہ دو ہفتوں میں دوسری ایسی وارننگ ہے۔ اور اب جب پارلیمنٹ نظام بچانے کے لیے دوڑ پڑی ہے، تو کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اگلی وارننگ بھی ہوگی یا نہیں۔ پر جنگ اب ختم ہو چکی ہے۔

اختتام بھلے ہے ٹھنڈا ہو، یا دھماکے دار، لیکن اس حالیہ سیاسی بحران کے پاکستان کی نوزائیدہ جمہوریت پر سنگین اثرات ہوں گے۔ سیاسی جماعتیں اب انتہائی کمزور ہیں، اور ملٹری طاقت کے سرچشمے کے طور پر سامنے آئی ہے۔

زاہد حسین

No comments:

Powered by Blogger.