Header Ads

Breaking News
recent

ساٹھ برس پرانی تازہ کہانی.....


یہ کہانی اس سال کی ہے جب ڈاکٹر طاہر القادری پیدا ہوچکے تھے اور عمران خان کی پیدائش میں ابھی ایک سال باقی تھا۔
ایران میں جواں سال رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت نئی نئی تھی۔ شاہ نے 1951 میں عوامی دباؤ کے تحت عام انتخابات کروائے جن کے نتیجے میں قوم پرست رہنما محمد مصدق وزیرِ اعظم بن گئے۔
 
محمد مصدق نے سب سے پہلے تو دو تہائی پارلیمانی اکثریت کے بل بوتے پر وزیرِ دفاع اور بری فوج کے سربراہ کی نامزدگی کے اختیارات شاہ سے واپس لے لیے۔ پھر شاہی خاندان کے سالانہ ذاتی بجٹ میں کمی کر دی، پھرشاہی زمینیں بنامِ سرکار واپس ہوگئیں۔

زرعی اصلاحات کے ذریعے بڑی بڑی جاگیرداریوں کو کم کر کے کسانوں میں ضبط شدہ زمینیں بانٹنے کا سلسلہ شروع ہوا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایرانی تیل پر اینگلو ایرانین کمپنی کا 40 سالہ اختیار ختم کر کے تیل کی صنعت قومیا لی۔
چنانچہ ایسے خطرناک محمد مصدق کو چلتا کرنے کے لیے شاہ، برطانوی انٹیلی جینس ایم آئی سکس اور امریکی سی آئی اے کی تکون وجود میں آئی اور مصدق حکومت کے خاتمے کا مشترکہ ٹھیکہ امریکی سی آئی اے نے اٹھا لیا۔ سی آئی اے نے اس پروجیکٹ کے لیے دس لاکھ ڈالر مختص کیے اور یہ بجٹ تہران میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف کرمٹ روز ویلٹ کے حوالے کر دیا گیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں اچانک مصدق کی پالیسیوں پر تنقید میں تیزی آگئی۔ ملک کے مختلف شہروں میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے شروع ہوگئے۔ از قسمِ راندۂ درگاہ سیاست دانوں کا ایک اتحاد راتوں رات کھڑا ہو گیا جس نے ایک عوامی ریفرینڈم کروایا۔

ریفرینڈم میں حسبِ توقع 99 فیصد لوگوں نے مصدق حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ان نتائج کو کچھ مقامی اخبارات نے یہ کہہ کر خوب اچھالا کہ مصدق حکومت کا اخلاقی جواز ختم ہو چکا ہے۔ جب وزیرِ اعظم مصدق نے اس اچانک سے ابھرنے والی بے چینی کو مسترد کر دیا تو پھر کام میں اور تیزی لائی گئی۔
تہران کے ایک مقامی دادا شعبان جعفری کو شہری باشندے منظم کرنے اور رشیدی برادران کو تہران سے باہر کے ڈنڈہ بردار قبائلی دارالحکومت پہنچانے اور ان کے قیام و طعام کے لیے وسائل فراہم کیے گئے۔ دارالحکومت میں ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی جلوس روز نکلنے لگے۔ بازاروں میں مصدق کے حامیوں کی دوکانیں نذرِ آتش ہونے لگیں۔ تصادم شروع ہوگئے۔ 15 روز کے ہنگاموں میں لگ بھگ تین سو لوگ ہلاک ہوئے اور مصدق مخالفین نے سرکاری عمارات کو گھیر لیا۔

ایران میں شورش

رشیدی برادران کو تہران سے باہر کے ڈنڈہ بردار قبائلی دارالحکومت پہنچانے اور ان کے قیام و طعام کے لیے وسائل فراہم کیے گئے۔ دارالحکومت میں ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی جلوس روز نکلنے لگے۔ بازاروں میں مصدق کے حامیوں کی دوکانیں نذرِ آتش ہونے لگیں۔ تصادم شروع ہوگئے۔

چنانچہ رضا شاہ پہلوی کو مصدق حکومت کی رٹ ختم ہونے پر ریاست بچانے کے لیے مجبوراً مداخلت کرنا پڑی اور 16 اگست 1953 کو جنرل فضل اللہ زاہدی کو عبوری وزیرِ اعظم نامزد کرکے معزول محمد مصدق کو نظر بند کر دیا گیا۔اگلے روز تہران ایسا نارمل تھا گویا یہاں 24 گھنٹے پہلے کسی کی نکسیر تک نہ پھوٹی ہو۔

اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس وقت محمد مصدق کی کہانی بیان کرنے کا مقصد آخر کیا ہے اور اس کا آج کے پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ کیا میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ سیاسی ہنگام سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی سازش ہے؟
بخدا قطعاً نہیں۔ دنیائے سازش میں پرانا نیا کچھ نہیں ہوتا۔ فارمولا اگر مجرب و موثر ہو تو 60 برس بعد بھی کام دے جاوے ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی کے منصوبے ایم آئی سکس اور سی آئی اے وغیرہ کی میراث تھوڑی ہیں۔ ایسے منصوبے تو ثوابِ جاریہ کی طرح کہیں کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی وقت تھوڑی 
بہت ترمیم کے ساتھ حسبِ ضرورت استعمال کر سکتا ہے۔

اب جو ہو سو ہو مگر میں پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کا بطورِ خاص شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مورخ کا کام خاصا آسان کر دیا ہے۔

یہ محتسب، یہ عدالت تو اک بہانہ ہے
جو طے شدہ ہے وہی فیصلہ سنانا ہے

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.