Header Ads

Breaking News
recent

غزہ جنگ کا حقیقی فاتح کون ؟ حماس یا اسرائیل ؟......


حماس اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی کے نتیجے میں غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کے سمجھوتے پر منگل کی شب سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔اگر فریقین کے درمیان یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہے کہ پچاس روز تک جاری رہنے والی اس غزہ جنگ کا حقیقی فاتح کون ہے؟
اسلامی تحریک مزاحمت اور اسرائیل دونوں ہی اپنی اپنی فتح کے دعوے کررہے ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان پال ہیرچسن نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر حماس جنگ بندی کے سمجھوتے میں طے پائے اپنے وعدوں کی پاسداری کرتی ہے اور اسرائِیل کے خلاف حملے روک دیتی ہے تو پھر اسرائیلی اور فلسطینی عوام دونوں ہی فاتح ہوں گے مگر یہ بات وقت ہی بتائے گا  
اسرائیل نے آپریشن دفاعی کنارہ کے نام سے 8 جولائی کو غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس فوجی جارحیت کا مقصد یہ بتایا تھا کہ وہ حماس کی حربی صلاحیت کی کمر توڑنا،اس کے ہتھیاروں کے خاتمہ اور اس کا غزہ کی پٹی میں اثرورسوخ ختم کرنا چاہتا ہے لیکن اس کو پچاس روزہ جنگ میں ان میں سے ایک بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکا ہے۔

حماس نے مستقل جنگ بندی سے قبل اسرائیل سے غزہ کی ناکا بندی ختم کرنے اور سرحدی گذرگاہیں کھولنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے اس کے اس مطالبے کو مکمل طور پر نہیں مانا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ وہ سرحدی گذرگاہوں کی ناکا بندی میں نرمی کردے گا اور فلسطینیوں کو امدادی اور تعمیراتی سامان لے جانے کی اجازت ہوگی۔

کارنیگی مڈل ایسٹ سنٹر کی ڈائریکٹر لینا خطیب نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل المیعاد جنگ بندی کے لیے سمجھوتا طرفین میں سے کسی کی بھی شکست یا فتح کا غماز نہیں ہے''۔
انھوں نے کہا کہ ''اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے پر لڑی جانے والی تمام جنگوں کا حقیقی فاتح نہیں رہا ہے کیونکہ ان جنگوں میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے اور یہ فریقین کی عسکری کامیابیوں کے دعووں کی نفی ہے''۔

لیکن جنگ بندی سمجھوتے کی تمام شرائط پوری ہونے سے قبل ہی غزہ کی پٹی کے مکینوں نے اسرائیلی جارحیت رکتے ہی جشن منانا شروع کر دیا تھا۔حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ایک بیان میں کہا کہ ''آج ہم مزاحمت کی فتح کا اعلان کرتے ہیں اور غزہ کی جیت کا اعلان کرتے ہیں''۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی میں براہ راست اپنی فتح کا اعلان نہیں کیا۔البتہ اسرائِیلی میڈیا نے یہ ضرور اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کس طرح کچھوے کی چال چل کر جنگ بندی تک پہنچا ہے۔
  
مشرق وسطیٰ کےایک اور تجزیہ کار جیمز ڈورسی کا کہنا ہے کہ اس نقطہ نظر میں دوسرے نکات کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔میں یہ کَہ سکتا ہوں کہ حماس نے اسرائیل سے زیادہ پوائنٹس جیتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے اسرائیل میں انٹیلی جنس اور فوجی صلاحیت کے بارے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور ان سے متعلق سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں۔

جمیز ڈورسی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس جنگ کی وجہ سے اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے دو اہم اتحادی ممالک امریکا اور برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں فرق آیا ہے۔اس کے برعکس فلسطینیوں نے اپنا باہمی اتحاد برقرار رکھا ہے اور اسی اتحاد کی بدولت انھوں نے مذاکرات کے لیے اسرائیلی شرائط کو بھی مسترد کردیا تھا''۔

جنگ بندی کی شرائط

  جنگ بندی کے سمجھوتے کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں 
 ۔ حماس اور غزہ میں دوسرے مزاحمتی گروپوں نے اسرائیل کی جانب راکٹ اور مارٹر گولے فائر نہ کرنے سے اتفاق کیا ہے۔
 ۔ اسرائیل فوری طور پر فضائی حملوں سمیت تمام فوجی کارروائیاں روک دے گا۔
 ۔ اسرائیل نے غزہ کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہیں کھولنے سے اتفاق کیا ہے۔ان کے ذریعے محصور فلسطینی امدادی اور تعمیراتی سامان اس ساحلی علاقے میں لے جاسکیں گے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان 2012ء میں طے پائے جنگ بندی کے سمجھوتے میں بھی یہ شق موجود تھی لیکن اسرائیل نے اس پر کبھی مکمل عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
 ۔ ایک اور دوطرفہ سمجھوتے کے تحت مصر نے غزہ کے ساتھ رفح کے مقام پر اپنی چودہ کلومیٹر طویل سرحد کھولنے سے اتفاق کیا ہے۔
 ۔ صدر محمود عباس کے زیرقیادت فلسطینی اتھارٹی حماس سے غزہ کی سرحدی گذرگاہوں کا کنٹرول سنبھال لے گی۔اسرائیل اور مصر یہ توقع کرتے ہیں کہ ہتھیار ،گولہ بارود اور دہرے استعمال کی حامل کسی بھی چیز کو ان سرحدی گذرگاہوں سے غزہ میں لے جانے سے روکا جائے گا۔دونوں ممالک یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ غزہ میں لائے جانے والے سیمنٹ اور سریّے کا استعمال سرنگوں کی تعمیر میں نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو غزہ میں مکانوں اور دوسری عمارتوں کی تعمیر کے لیے ہی استعمال کیا جائے گا۔

فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں ایک ماہ کے بعد اسرائیل اور فلسطینی حکام غزہ میں بندرگاہ کی تعمیر اور اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے ہزاروں کارکنوں کی رہائی پر بات چیت کریں گے۔ان فلسطینیوں کو اسرائیلی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران مغربی کنارے سے کریک ڈاؤن میں گرفتار کیا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.