Header Ads

Breaking News
recent

Waziristan operation - سات لاکھ خودکش by Saleem Safi



یوں تو وہ بھی ہماری طرح پاکستانی ہیں لیکن قصور ان کا صرف یہ تھا کہ وہ رائے ونڈ کے بجائے شمالی وزیرستان میں پیدا ہوئے اور پھر اسلحہ اٹھانے کے بجائے کتاب سے اپنی اور خاندان کی زندگی بدلنے کی کوشش کی۔ رسول داوڑ نے بڑی مشقت سے ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد مختلف اخباروں میں کام کیا اور اب پشاور میں ایک قومی چینل کے ساتھ فعال رپورٹر کے طور پر وابستہ ہیں۔ وہ اور انکے بچے پشاور میں مقیم ہیں لیکن اس تنخواہ میں وہ پورے خاندان کو یہاں منتقل نہیں کر سکتے۔ اپنی مٹی اور علاقے سے لگائو کی وجہ سے یوں بھی انکے والدین اور بھائی وزیرستان چھوڑنے پر آمادہ نہیں تاہم جب بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کا غلغلہ بلند ہوتا ، وہ اپنے خاندان کو پشاور منتقل کردیتا ہے۔ پہلے سرجیکل اسٹرائکس ہوئے تو دوسرے قبائلیوں کی طرح ان کو بھی شک ہوا کہ اب آپریشن شروع ہو رہا ہے چنانچہ راتوں رات انہوں نے اپنے خاندان کو وہاں سے نکال کر پشاور منتقل کیا لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ حکومت مذاکرات کرنے جا رہی ہے چنانچہ پشاور میں کرائے پر لیا گیا گھر واپس کرکے انکے اہل خانہ واپس وزیرستان چلے گئے۔ کچھ عرصہ قبل دوبارہ سرجیکل اسٹرائیکس کے بعد ایک بار پھر آپریشن کا امکان پیدا ہوا تو دوبارہ انہوں نے اس عمل کو دہرایا۔

گزشتہ ہفتے اچانک حکومت کی طرف سے آپریشن کا اعلان کیا گیا اور اسی روز وزیرستان کے بعض علاقوں میں بمباری بھی کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے ذرائع نے انہیں بتایا کہ اس بمباری میں ایک 150 مبینہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ بمباری جہاں ہوئی، وہ ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا۔ چنانچہ اسٹوری فائل کرنے کے بعد وہ اپنی والدہ، بھابھیوں اور دیگر اہل خانہ کو لینے کیلئے راتوں رات وزیرستان روانہ ہو گئے اور ان کی بیوی اور چھوٹے بچے پشاور میں انتظار کرتے رہ گئے ۔ انکے اہل خانہ مویشیوں اور گھر کی دیگر اشیاء کو چھوڑ کر علاقے سے نکلنے کیلئے رخت سفر باندھ گئے لیکن علاقے میں کوئی سواری میسر نہیں تھی۔ دوسری طرف اسی رات انکے بھائی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور انکی بھابھی کو اسی حالت میں اسی رات گھر سے نکلنا پڑا۔

رسول داوڑ انہیں لینے کیلئے بنوں پہنچ گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ آگے نہیں جا سکتے کیونکہ آگے کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے گورنر سیکرٹریٹ، پولیٹکل انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز میں اپنے جاننے والوں سے بہت رابطے کئے کہ کوئی حل نکلے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ چنانچہ تین دن تک انکے اہل خانہ سامان باندھے، موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا نو زائیدہ بچے کو تڑپتا دیکھ کر خود بھی تڑپتے اور گرمی سے تباہ حال ہوتے رہے جبکہ رسول داوڑ بنوں میں بیٹھے کرفیو کے اٹھنے کا انتظار کرتے رہے۔ آپریشن کے اعلان اور آغاز کے تین دن بعد کرفیو اٹھا دیا گیا تو ان کے اہل خانہ بنوں کی طرف روانہ ہوئے لیکن اب مسئلہ ٹرانسپورٹ کا تھا۔ دوسری طرف ایک ہی دن میں لاکھوں لوگوں نے نکل کر بنوں پہنچنا تھا۔ ادھر سے ٹریفک پولیس نہ ہونے کی وجہ سے سڑک جگہ جگہ بلاک ہوگئی تھی۔

بہر حال انکے اہل خانہ جان لیوا گرمی میں چودہ گھنٹے میں میران شاہ سے بنوں پہنچے۔ بنوں پہنچتے ہی وہ پہلی فرصت میں اپنے نوزائیدہ بھتیجے کو اسپتال لے گئے لیکن وہاں پہلے سے مریض سیکڑوں کی تعداد میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے جبکہ ڈاکٹر نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ بیمار بھتیجے کو لے کر پشاور جانے کا پروگرام بنا رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ ان کا بھانجا بنوں میں پانی کی بوتل کی طرف لپکتے ہوئے سڑک پار کر رہا تھا کہ انہیں گاڑی نے ٹکر ماری۔ رسول داوڑ رشتہ داروں اور دوستوں کی مدد سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا نو زائیدہ بھتیجے اور زخمی بھانجے اور دیگر اہل خانہ سمیت پشاور منتقل ہو گئے۔ اب پشاور کے اسپتال میں ان کا بھانجا کومہ میں ہے جبکہ بھتیجا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا۔ وہ حیران ہیں کہ مہاجر بننے والے اہل خانہ کیلئے پشاور میں کرائے کے گھر کا بندوبست کریں یا کہ اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا معصوموں کی تیمارداری کریں۔ آج ان سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست مل کر چندہ جمع کر رہے ہیں تاکہ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کیلئے قبرستان کی زمین خرید لیں ۔ انکا کہنا تھا کہ اب ہم لوگوں کو جینے کی امید نہیں لیکن روزانہ جو آئی ڈی پیز مر رہے ہیں، انکو دفن کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس لئے ہماری ترجیح اب قبرستان کیلئے زمین کی خریداری ہے۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ اس وزیرستانی کے ساتھ ہو رہا ہے جو نامور صحافی ہے جنکے سیاستدانوں کیساتھ بھی تعلقات ہیں، فوجیوں کیساتھ بھی اور حکومتی اہلکاروں کیساتھ بھی۔ اب اندازہ لگا لیجئے کہ شمالی وزیرستان سے مہاجر بننے والے عام قبائلی کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا؟

یہ ایک دو نہیں بلکہ سات لاکھ لوگوں کا حال ہو رہا ہے۔ وہ حکومت جو اسلام آباد میں تعیش کیلئے میٹرو بس کے ایک کلومیٹر پر سوا ارب روپے خرچ کررہی ہے، اس نے آپریشن کے بعد ان سات لاکھ لوگوں کیلئے محض پچاس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔ اب کیا ان لوگوں کو دانستہ پاکستان سے متنفر نہیں کیا جارہا ہے؟ میں رسول داوڑ اور ان جیسے دیگر لاکھوں قبائلیوں کے اس سوال کا کیا جواب دوں کہ ہمارا قصور کیا یہ ہے کہ ہم لاہور کے بجائے وزیرستان میں پیدا ہوئے ہیں؟ وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تم میڈیا والوں کے پاس تو طاہر القادری کی کوریج کیلئے بہت وقت ہے لیکن ہم سات لاکھ انسانوں کی کوریج کرنے سے تم لوگ قاصر ہو۔ وزیرستان آپریشن میں اب تک درجنوں فوجی اور سیکڑوں قبائلی زندگی قربان ہوچکے ہیں۔ وہ ہم میڈیا والوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ انسان اور پاکستانی نہیں ہیں۔ میڈیا کے وہ بہن بھائی جنہوں نے پوری قوم کو چند ڈرامہ بازوں کے ڈراموں کا یرغمال بنارکھا ہے، سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ رسول داوڑ کی جگہ ہوتے تو کیا پھر بھی انکے کیمروں کا رخ بنوں اور وزیرستان کے بجائے علامہ صاحب کے ہنگامے کی طرف ہوتا۔

منتخب وزیراعظم کے احترام کو میں اپنے اوپر واجب سمجھتا ہوں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر رسول داوڑ جیسی صورت حال سے آج ان کے بچے یا بھتیجے گزرتے یا پھر ان کی بھابھی کی کیفیت سے ہماری بہن مریم نواز گزرتی تو کیا پھر بھی ہمارے وزیراعظم کا یہی رویہ ہوتا؟ اگر ان بے گھر ہونیوالوں میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے حسن محی الدین اور انکے بچے بھی شامل ہوتے تو کیا علامہ صاحب پھر بھی اس ہنگامہ آرائی سے باز نہ آتے؟ اگر عمران خان صاحب کے بیٹے بھی لندن کے بجائے میران شاہ میں مقیم ہوتے تو کیا وہ پھر بھی بنوں کیمپ کے دورے کے موقع پر طاہر القادری کے ڈرامے اور اپنے چار حلقوں کا ذکر ضروری سمجھتے؟ اللہ کے بندو! اس ملک اور اس قوم پر رحم کرو۔ ہماری خاطر نہیں اپنی اولاد کی خاطر۔ یہ سات لاکھ آئی ڈی پیز نہیں ہیں۔ آپ لوگوں کا رویہ یہ رہا تو یہ سات لاکھ خودکش بمبار بن جائیں گے۔ آج آپ لوگ سیاست اور اقتدار کے نشے میں مبتلا ہو لیکن یاد رکھو! آپ پر بھی کبھی یوسف رضا گیلانی والا وقت آ سکتا ہے اور خاکم بدہن آپ میں سے بھی کسی کا بیٹا حیدر گیلانی یا شہباز تاثیر بن سکتا ہے۔

ہماری خاطر نہیں اپنے بچوں کی خاطر ان سات لاکھ وزیرستانیوں کی طرف توجہ دو تاکہ وہ خودکش بمبار، طالب یا پھر اغوا کار بن کر مستقبل میں آپ کے بچوں کے ساتھ وہ کچھ نہ کریں جو انہوں نے ایک سابق گورنر اور سابق وزیر اعظم کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے اور ہاں میرے میڈیا کے ساتھیو ! جب افغانستان میں یہ ظلم ہو رہے تھے تو ہم پشاور میں بیٹھ کر بڑے مزے سے تم لوگوں کی طرح طاہر القادری جیسوں کے ہنگاموں اور تیزیوں کو انجوائے کرتے تھے، تب ہمارے اوپر بھی دولت اور شہرت کمانے یا طاقتور لوگوں سے تعلقات بنانے کا خبط سوار تھا۔ آج جب ہم اس صورت حال سے دو چار ہوئے تو ہمیں پتہ چل گیا کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور جنگ کی تباہ کاریاں کیا ہوتی ہیں۔ آپ کسی کے مہرے بن کر کرتے رہو جو کچھ کرنا ہے لیکن یاد رکھو یہ آگ پشاور اور وزیرستان تک محدود نہیں رہے گی۔ تم لوگ انہی ڈرامہ بازیوں میں مصروف رہے تو وہ وقت دور نہیں جب آپ کے اسلام آباد اور لاہور کی ان جنتوں تک بھی وہ آگ پہنچ جائے گی پھر ہماری طرح افسوس کرتے رہو گے لیکن وقت گزر گیا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

Waziristan operation - سات لاکھ خودکش by Saleem Safi

No comments:

Powered by Blogger.