Header Ads

Breaking News
recent

دو گز زمین سے بھی محرومی........


چین میں 6 افراد نے اس لئے خودکشی کر لی ہے کہ اپنی لاشوں کو نذر آتش ہونے سے بچا سکیں۔ چین میں مذھباً نہیں، روایتی طور پر لوگ اپنے مُردوں کو تابوت میں بند کرنے کے بعددفناتے ہیں اور قبر کے اوپر چھوٹا سا ڈھانچہ اور ممکن ہو تو مزار بھی بناتے ہیں۔ روایت پسند قوم ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو یہ قبول نہیں کہ مرنے کے بعد انہیں قبر نہیں ملے گی۔ دوسری طرف ملک میں قبروں کے لئے جگہ کم پڑ رہی ہے۔ اس لئے حکومت نے یہ قانون بنایا ہے کہ آئندہ سے مرنے والوں کی لاشیں جلائی جائیں گی، انہیں دفن نہیں کیا جائے گا۔ جس علاقے کے چھ لوگوں نے خودکشی کی ہے، وہاں اس قانون پر یکم جون سے عمل ہونا ہے۔ چنانچہ خودکشی کرنے والوں کو قبر مل جائے گی۔

بہت ہی نرالی بات ہے کہ روایت کیلئے جان دے دی جائے۔ مرنے کے بعد کیا فرق پڑتا ہے کہ لاش جلائی جاتی ہے یا دفن کی جاتی ہے۔ یہ بات لواحقین کے لئے اہم ہو سکتی ہے، مرنے والے کے لئے نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ کسی شخص نے عذاب قبر کا احوال سنا تواتنا خوفزدہ ہوا کہ وصیت کر دی کہ مرنے کے بعد اُسے نذر آتش کر دیا جائے۔ اس کا خیال تھا کہ لاش نہیں ہوگی تو عذاب سے بچ جاؤنگا۔ روایت ہے کہ خدا کو اس کاخوف پسند آیا اور اسے بخش دیا۔ اگرچہ عذاب قبر ایسی کیفیت ہے جس سے ہر مرنے والے کی روح کو دو چار ہونا پڑے گا، چاہے لاش ہو یا نہ ہو۔ چاہے کوئی جل کر ذرّہ ذرّہ ہو جائے، چاہے کسی کو مچھلیاں کھا جائیں، جسے عذاب ہونا ہے، ہو کر رہے گا۔ چین میں جگہ کی کمی بہت سے لوگوں کے لئے حیران کن ہوگی کیونکہ اگر چین کی آبادی بہت زیادہ ہے تو رقبہ بھی کم نہیں۔ اس کی آبادی ایک ارب35کروڑ ہے اور رقبہ95لاکھ مربع کلو میٹر یعنی37لاکھ مربع میل ہے۔ بھارت کی آبادی چین سے کچھ ہی کم ہے یعنی ایک ارب22کروڑ جبکہ رقبہ چین کے تیسرے حصے کے برابر ہے یعنی تقریباً33لاکھ مربع کلو میٹر (ساڑھے بارہ لاکھ مربع میل ) گویا اس وقت چین کی جتنی آبادی ہے، وہ بڑھ کر تین گنی ہو جائے تو وہ بھارت کے برابر ہو گا۔ پھر جگہ کی کمی کے کیا معنے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ چین کا صرف مشرقی علاقہ جو ایک تہائی سے کچھ زیادہ ہے، کم و بیش ساری آبادی کو سموئے ہوئے ہے۔ باقی 60فیصد رقبے میں برائے نام آبادی ہے۔ان دونوں علاقوں کو ایک فرضی لکیر ’’ہو‘‘لائن الگ کرتی ہے اور ان دونوں علاقوں کی آبادی میں فرق کتنا زیادہ ہے، ان کا اندازہ یوں لگائیے کہ مشرقی چین میں ملک کی94 فیصد آبادی ہے اور باقی 60فیصد رقبے میں صرف6فیصد لوگ رہتے ہیں۔ اس زیادہ آباد رقبے میں گھنے جنگل بھی ہیں، بے شمار دریا اور جھیلیں اور ناقابل رہائش اونچے برف پوش پہاڑی سلسلے بھی ہیں۔ چنانچہ دیکھا جائے تو یہ چین بھارت سے کہیں زیادہ گنجان آباد ملک ہے۔ ساتھ ہی اس علاقے میں بڑے بڑے صنعتی کمپلیکس اور ترقی کی علامت دوسری عمارات بھی بن رہی ہیں۔جن سے آبادی کی گنجائش اور کم ہو رہی ہے۔ چین کی کم و بیش ساری زراعت بھی اسی علاقے میں ہے۔ اس لئے اگر آج قبروں کے لئے جگہ کم یاب ہے تو آنے والے دنوں میں نایاب ہو جائے گی چنانچہ لاشوں کو نذر آتش کرنا چین کی مجبوری بنتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف روایت پسندی ہے۔ اور روایت پسندی اور مجبوری کی اس جنگ میں مجبوری ہی جیتے گی کہ ریاستی طاقت بھی مجبوری کے ساتھ ہے۔ اس سے پہلے ریاستی طاقت ایک اور روایت کا خاتمہ بھی کر چکی ہے۔ یعنی بچوں کی تعداد کو پوری دنیا سے زیادہ محدود کر چکی ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں ایک گھرانے میں چار پانچ سے لے کر سات آٹھ تک بچے بھی ہو سکتے ہیں لیکن ترقی یافتہ ملکوں میں یہ گنتی زیادہ تر دو ہوتی ہے، اس سے زیادہ ہوئی تو تین اور حد چار۔ لیکن چین نے یہ قانون نافذ کر دیا کہ ایک گھرانہ صرف ایک بچہ پیدا کر سکتا ہے۔

ایک سے زیادہ بچے ہوں گے تو سخت جرمانہ ہوگا۔ بسا اوقات یہ جرمانہ خاندان کی آمدنی سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے چنانچہ ایسے واقعات کثرت سے ہو رہے ہیں کہ دوسرا بچہ ہوگیا تو ماں باپ نے اسے مار ڈالا۔ اس پالیسی کی وجہ سے اسقاط حمل کی شرح بھی بڑھی جن میں بعض اوقات ماں بھی مر جاتی ہے۔ پیدا ہونے والی زیادہ تر بچیاں مار دی جاتی ہیں کیونکہ لڑکا زیادہ مطلوب ہے، اور اگلی بار لڑکا ہوا تو ٹھیک، لڑکی ہوئی تو پھر مار دی جائیگی ۔ اندازے کے مطابق اس پالیسی کے تحت تیس برسوں میں20 کروڑ پیدائشیں روکی گئیں۔ یعنی یہ پالیسی نہ ہوتی تو چین کی آبادی اس وقت ڈیڑھ ارب سے بھی زیادہ ہوتی۔(اسقاط کے واقعات اس میں شامل نہیں) اس پابندی کا ایک اور نتیجہ خاندانی نظام کے سکڑنے کی شکل میں یوں نکلا ہے کہ ’’رشتے‘‘ہی غائب ہوگئے ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ ایک گھر ایک بچہ کے سلسلے کی اگلی نسل کے رشتے کیا ہوں گے؟ یعنی اس ایک بچے کا آگے جو بچہ ہوگا، اس کی خالہ ہوگی نہ خالو، ماموں ہوگا نہ ممانی، پھوپھی ہوگی نہ پھوپھا اور جب یہ نہیں ہوں گے تو کزن بھی نہیں ہوں گے۔ نہ کوئی خالہ زاد، نہ کوئی چچا زاد۔ اکیلے گھرانے کا اکیلا بچہ۔

فوری نتیجہ اس قانون کا یہ نکلا ہے کہ چین میں نوجوانوں کی تعداد کم اور بوڑھوں کی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے کہ بڑے بوڑھے تو اس پابندی سے پہلے پیدا ہوئے۔ شرح اموات کم ہے چنانچہ یہ بوڑھے لوگ بڑی تعداد میں ہیں جبکہ اگلی پیڑھی ہی میں دو افراد مل کر صرف ایک بچے کی ’’ری پلیسمنٹ‘‘ فراہم کریں گے۔

ایک اور دردناک نتیجہ ان بڑے بوڑھوں کی کسمپرسی کی شکل میں نکل رہا ہے۔ بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری صرف ایک لڑکے (یا لڑکی) پر ہوگی۔ وہ روزگار کمائے گا یا ان کی دیکھ بھال کرے گا۔ چنانچہ چین میں (اور کسی حد تک جاپان، کوریا میں بھی ) بوڑھے لوگ یا تو گھٹ گھٹ کر مر رہے ہیں یا خودکشیاں کر رہے ہیں۔

اس صورتحال کی ذمہ داری کس پر ہے؟ چین اگر آبادی میں اضافہ نہیں روکتا تو بھی مشکل میں پڑتا ہے اور اگر روک رہا ہے تو بھی مشکل میں ہے۔ نوجوانوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے چین میں ورک فورس کا بحران بھی پیدا ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس کے آخر میں کچھ گھرانوں کو دو بچے پیدا کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ آنے والے برسوں میں اس کے سماجی اور اقتصادی نقصانات زیادہ سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ تقریباً60فیصد بے آباد رقبے کو آباد کیوں نہیں کیا جاتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بے آباد رقبے اتنی ہی آبادی سنبھال سکتے ہیں جتنی اس وقت وہاں ہے۔ کم آباد رقبے میں سنکیانگ، تبّت اور اندرونی منگولیا کے صوبے (نیم بلکہ نام نہاد خود مختار ریاستیں) زیادہ قابل ذکر ہیں۔ تبّت کا رقبہ پونے پانچ لاکھ مربع میل ہے یعنی پاکستان سے کوئی ڈیڑھ گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ لیکن آبادی محض تیس لاکھ ۔وجہ وہی کہ یہاں دور دور تک برفانی صحرا پھیلے ہوئے ہیں۔ تقریباً یہی حال سنکیانگ کا ہے جس کا رقبہ پاکستان سے دوگنے سے بھی زیادہ ہے اور آبادی محض دو کروڑ۔ یہاں کچھ علاقہ قابل رہائش ہے اس لئے چینی آبادی نقل مکانی کرکے یہاں آباد ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں (یغور مسلمانوں) کو خدشہ ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہی علاقے میں اقلّیت نہ بن جائیں۔ حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد سے یہ نقل مکانی کم ہو گئی ہے۔ تیسرا بڑا علاقہ اندرونی منگولیا ہے۔ یہ تینوں وسیع و عریض علاقے چین کا حصہ نہیں تھے، انہیں بعد میں ضم کیا گیا۔ سنکیانگ عرصے تک مشرقی ترکستان کے نام سے الگ ملک رہا اور تبّت کو امریکہ اور بھارت آج بھی چین کا حصہ تسلیم نہیں کرتے جبکہ اندرونی منگولیادراصل منگولیا کا علاقہ تھا۔ ان بے آباد، صحرائی، برفانی علاقوں میں چین بہت کوشش کرے تب بھی چند کروڑ افراد سے زیادہ لوگ آباد نہیں کر سکتا۔ سائنس کی مزید ترقی کے بعد مصنوعی ماحول پیدا کرکے یہ مسئلہ شاید حل کر لیا جائے۔ ایسا نہ ہو سکا تو قیامت کا انتظار کرنا پڑے گا جوایک ہی بار سارے مسئلے ہمیشہ کے لئے حل کر دے گی۔


بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات

 



Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.