گزشتہ روز لاہور میں دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں منعقدہ مفتی محمد حسین نعیمی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی سیمینار کے سالانہ اجتماع میں مجھے پاکستان کی ممتاز میڈیا شخصیات، سیاسی قائدین اور مذہبی اسکالرز اور مقررین کے خیالات کو سننے کا موقع ملا۔ ایک ہی اسٹیج سے مختلف مکاتب فکر کے مقررین کے خیالات سے آگہی کا موقع ملا۔ افکار و خیالات کے اشتراک، اختلاف بلکہ بعض امور پر تضاد کے لحاظ سے اعتدال سے لیکر راسخ العقیدہ مذہبی اور بعض جوش و جذبے والے عقابی جذبات و خیالات بھی سننے کو ملے۔ صرف چار منٹ کی تخصیص کے ساتھ مجھے ’’امریکہ میں اسلام‘‘ کے بارے میں کچھ کہنے کا حکم ملا۔ پاکستان میں لفظ امریکہ اور اس کی پالیسیوں کے بارے میں ’’حساسیت‘‘ بلکہ جذبات کے ماحول میں امریکہ کے جمہوری، مذہبی رواداری ،برداشت اور ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس معاشرے کے مثبت تجربات بیان کرنا قدرے مشکل نظر آرہا تھا مگر اس اجتماع کے شرکاء کی واضح اکثریت نے میری مختصر گزارشات کو تحمل سے سنا ۔وقت کی کمی کے باعث اس موضوع کے ساتھ انصاف کرنے، اپنے مشاہدات و تجربات اور رائے کو مکمل انداز میں بیان کرنے کیلئے مزید گزارشات اس کالم کی شکل میں پیش کر رہا ہوں، تبصرہ، تنقید، تجزیہ و تجاویز سے قارئین آگاہ فرمائیں۔

اسلام کے بارے میں امریکہ کی پالیسیوں اور اقدامات کے بارے میں کوئی نظریہ اور رائے قائم کرنے سے قبل عصر حاضر کے زمینی حقائق، امریکہ کے معاشرت اور آبادی کی ساخت و ضروریات ،مسلم دنیا کے حکمرانوں کے رویّے اور اقتدار کو طول دینے کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو کچھ اس طرح ہیں امریکہ کی کل آبادی 315 ملین کے لگ بھگ ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی کا حتمی تعین ممکن نہیں کیونکہ امریکی مردم شماری میں مذہب کا کوئی خانہ موجود نہیں ہے۔

بعض عیسائی مذہبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں صرف دو ملین مسلمان آباد ہیں جبکہ مسلم تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ امریکہ میں 8 تا 10 ملین مسلمان رہتے ہیں بعض حلقے مسلمانوں کی آبادی 6 تا 8 ملین بتاتے ہیں۔ اگر امریکہ کی مسلم آبادی کو 8 ملین بھی تسلیم کر لیں تو 315 ملین آبادی میں صرف 8 ملین آبادی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے پھر بھی 8 ملین کی مسلم آبادی میں ایسے عقائد کے لوگ بھی شامل ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اکثریت کے حامل مسلمان انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اس آبادی میں دریائے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کے پہاڑی علاقوں، انڈونیشیا اور آسٹریلیا سے لیکر افریقہ ،لاطینی امریکہ تک کے ممالک سے مختلف زبان و ثقافت، بودو باش ،روایات اور شہریت کے ساتھ امریکہ آ کر آباد ہونے والے مسلمان شامل ہیں لہٰذا امریکی معاشرے کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سوچ رویّے اور ردعمل کے بارے میں ان تمام عوامل اور امریکی آبادی میں مسلم آبادی کے تناسب کو پیش نظر رکھنا لازمی ضرورت ہے۔

امریکہ کی مساجد اور امام بارگاہیں اس حقیقت کا عملی نمونہ پیش کر رہی ہیں کہ مساجد میں نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کی ادائیگی کے وقت سنی مساجد میں نماز ادا کرنے والے حنفی کے ساتھ شافعی، مالکی اور حنبلی اور ان کے ساتھ ہی شیعہ مسلک کا نمازی کھڑا ہو کر ایک ہی صف میں نماز ادا کرتے ہیں اور سلام پھیرنے کے بعد اکثر نمازی اپنے سیدھے ہاتھ بیٹھے نمازی کے ساتھ ہاتھ ملا کر سلامتی کی دعا دیکر مسکراہٹ کے ساتھ اٹھتے ہیں ، ہر نمازی ایک ہی مسجد میں اپنے اپنے مسلک کے مطابق نماز ادا کرتا، ہاتھ پھیلا کر سر پر ہاتھ رکھ کر مختلف افریقی اور ایشیائی انداز میں دعا مانگتے نظر آتے ہیں۔ کیا پاکستان کی مساجد میں یہ مناظر اور یہ ہم آہنگی نظر آتی ہیں؟ کیا ہم اخوت اسلامی اور ایک دوسرے کیلئے خیر سگالی کے یہ نمونے اپنی عبادت گاہوں میں پیش کر پا رہے ہیں؟

امریکہ صرف نیویارک، شکاگو ،لاس اینجلس، میامی اور ہیوسٹن جیسے بڑے شہروں کا نام نہیں بلکہ الباما سے لیکر ویومنگ تک 50چھوٹی بڑی ریاستوں اور دیگر علاقوں کا نام ہے جس کی بیشتر آبادی چھوٹے شہروں، زرعی علاقوں میں آباد، عیسائیت کی پیروکار ہے متعدد ریاستوں میں آبادی پر مذہبی عقائد اور مذہبی رہنمائوں کا اثر خوب خوب ہے۔ آئینی طور پر سیکولر امریکہ کے بعض علاقوں کی سیاست میں وہاں کے چرچ رہنمائوں کا اثر ایک اٹل حقیقت ہے۔ امریکہ کی صدارتی انتخابی مہم سے لیکر سینٹ ایوان نمائندگان، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی انتظامیہ کے انتخابات میں مقامی سطح سے لیکر قومی سطح تک کے انتخابات میں قیادت کا انتخاب ان علاقوں سے بھی ہوتا ہے۔ امریکہ میں موجود مسلمان قیادت نے نہ تو امریکہ کے ان اندرونی علاقوں میں مسلمانوں اور اسلام کی سافٹ اور مثبت امیج پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی اسلام اور عیسائیت کے دو الہامی مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کوئی بین العقائد ہم آہنگی اور مشترک اقدار کے ساتھ بقائے باہمی کے لئے کسی ڈائیلاگ کا آغاز کیا۔ اکثریتی آبادی سے اپنے حقوق کے تحفظ و احترام کیلئے ڈائیلاگ اقلیت کی ضرورت ہوتا ہے۔ کیا آج مسلم ممالک کے حکمرانوں اور امریکہ میں مسلم قیادت کے رہنمائوں نے امریکہ جیسی عالمی سپر پاور سے ایسے کسی ڈائیلاگ کا آغاز کیا؟ پاکستان جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے اس میں کتنے علماء اور اسکالر ایسے ہیں جو امریکہ میں مسلمان اقلیت کے مذہب اسلام اور اکثریتی مذہب عیسائیت کے درمیان مشترکہ اصولوں اور بقائے باہمی اور تعلقات میں بہتری کے لئے ڈائیلاگ اور کام سرانجام دے سکتے ہیں؟

امریکہ کی 315 ملین آبادی میں اکثریت کو اسلام کی تعلیمات اور اصولوں سے کوئی آگہی نہیں البتہ طالبان، دہشت گردی اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحہ کے حوالے سے ایک ہولناک امیج سے آگاہی ہے۔ امریکہ کی عیسائی اکثریت کو صلیبی جنگوں کے تناظر سے نکال کر دور حاضر کے تناظر میں غیر مسلموں کے سامنے اسلام کا وہ سافٹ اور اعلیٰ اخلاقی امیج پیش کرنے کی ضرورت ہے جو خلیفہ عمرؓ اور ان کے غلام کے درمیان مہربانی اور مساوات کا ثبوت دے۔ غیر مسلموں کی حفاظت نہ کرنے میں ان سے حاصل کردہ جزیہ بھی ٹیکس بھی واپس کرنے کا ریکارڈ پیش کرے۔ عورتوں کیلئے احترام اور عملی مساوات ،صلہ رحمی، غیر مسلموں سے لین دین اور معاشرتی رابطوں اور تعلقات کا احترام بیان کرے امریکہ کی مسلمان قیادت، مسلم ممالک کے اسکالروں اور حکمرانوں نے اس میدان میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق کسی عمل کا آغاز کیا ہے؟ یہ امریکہ کے مسلم دانشوروں اور کمزور ترقی یافتہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کا فریضہ ہے کہ وہ عالمی سپر پاور کی ملٹری مشین کے غضب اور غیر مسلموں کے شر سے بچنے کیلئے ڈائیلاگ اور تعلق کے ذریعہ سے کام کریں۔

موجودہ مسلم دنیا کے حکمران اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے تو ہر مطالبہ اور حکم مان کر غیر مسلم طاقتوں اور سرپرستوں کے آگے جھک جاتے ہیں مگر اپنے عوام کے حقیقی مفاد ،عقائد جذبات اور موقف کی ترجمانی کرنے کے بجائے انہیں پس پشت ڈال کر سودے بازی کر کے زندگی گزار رہے ہیں وہ امریکی عوام سے ڈائیلاگ کے بجائے امریکی حکومت اور اس کے اداروں سے رابطوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں جبکہ امریکی حکومت کی قیادت کی سوچ فکر اور اقدام کی جڑ بنیاد جمہوری اور عوامی انتخابات اور رائے عامہ میں پوشیدہ ہے۔ جب ہم نے موجودہ عہد کے حالات اور تقاضوں کے مطابق اپنے لئے کچھ نہیں کیا تو پھر یاد رکھئے کہ ہر دور اور علاقے کی برتر طاقت والی قوم نے کمزور اقوام سے اپنے مطالبے پورے کرانے کے لئے کام کیا ہے۔

سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد ردعمل میں امریکہ میں مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے لئے عوامی اور سرکاری سطح پر مشکلات اور امتیازی سلوک کا ضرور تلخ تجربہ ہوا۔ بعض مشتبہ مسلمانوں کی گرفتاریاں، مساجد کی نگرانی اور دیگر واقعات پیش آئے کیونکہ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں مسلمان ناموں اور وضع قطع والے افراد تھے۔ اسلام سے ناواقف امریکی اکثریت نے اسے اپنی تہذیب پر مسلم حملہ تصور کیا ۔ وقتی طور پر امریکہ میں داخلی سطح پر مسلمانوں کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا لیکن مسلمان آبادیوں اور شہریوں کو امریکی غیر مسلم پولیس نے ہی تحفظ فراہم کیا۔

آج بھی امریکہ بھر میں مسلمان ان کی عبادت گاہوں، رہائش گاہوں اور کاروبار کی حفاظت ،تسلسل غیر مسلم امریکی معاشرے اور اس کے حکومتی اداروں نے ہی فراہم کر رکھی ہے۔ مجھے امریکہ میں40سال کے قیام کے دوران اپنے مسلمان نام، پاکستانی رنگت اور دیگر غیر امریکی عوامل کے باوجود مقامی حکومت سے لیکر امریکی حکومت، سینٹ ایوان نمائندگان ، وہائٹ ہائوس ،پینٹاگون اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی کوریج، امریکہ کی انتخابی سیاست ،پارٹیوں کے کنونشن اور گورے کالے اور دیگر نسل کے امریکی رہنمائوں کی بطور صحافی انٹرویوز اور کوریج کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ یا مشکل پیش نہیں آئی۔ نسلی اور مذہبی امتیاز کے کچھ واقعات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں مگر جمہوری غیر مسلم امریکہ میں ہم امریکی مسلمان معاشی طور پر بہت سوں سے بہتر اور قانون کے تابع تحفظ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں کہ جب پاکستان، مسلم ممالک اور ان کے معاشرے انتشار ،تصادم اور عدم رواداری کا شکار ہو کر تشدد کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں تو اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے امریکہ پر الزامات اور نفرت کے جذبات کا اظہار کرنا درست نہیں۔ غیر مسلم امریکہ میں آباد مسلمان بہتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ مسلم ممالک ان کے حکمران ، مذہبی و معاشرتی رہنما خود اسلام اور مسلمانوں کے سافٹ امیج ابھارنے اور اسلام کے نام پر تشدد و دہشت گردی کا تاثر زائل کرنے کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں تو پھر غیر مسلم ممالک اور معاشروں سے کیسا گلہ؟


بشکریہ روزنامہ "جنگ

American Muslims, Islam and Pakistan