Header Ads

Breaking News
recent

سلطنت عثمانیہ کا آغاز کیسے ہوا

1282ء میں ارطغرل نے 90 سال کی عمر میں وفات پائی اور عثمان خان اس کا جانشین ہوا اور یہی بعد میں سلطنت عثمانیہ کا بانی بھی ہوا۔ جس وقت عثمان خان نے حکومت سنبھالی نہ صرف دولت سلجوقیہ دم توڑ رہی تھی بلکہ اپنے وقت کی عظیم بازنطینی شہنشاہیت بھی فرقہ وارانہ بدنظمی اور انتشار کا شکار تھی ۔ سلطان علائوالدین کے نائب کی حیثیت سے عثمان نے کراجہ حصار کے علاقہ کی بغاوت کو فرو کر کے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کامیابی پر سلطان نے عثمان کو نیزبک کا خطاب دینے کے ساتھ اپنا سکہ جاری کرنے اور جمعہ کے خطبہ میں اپنا نام شامل کرنے کا اختیار بھی دیدیا ۔

اس طرح عثمان کو سلطانی کے تمام اختیارات حاصل ہو گئے۔ 1300ء میں تاتاریوں نے ایشیائے کوچک پر حملہ کردیا ۔ اس جنگ میں سلطان علائوالدین اپنے بیٹے کے ساتھ مارا گیا ۔ یوں ایشیائے کوچک سے دولت سلجوقیہ کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ اب عثمان آزاد اور خود مختار تھا۔ اس نے آئندہ 26 برس تک تمام فتوحات ایک عثمانی فرمانروا کی حیثیت سے حاصل کیں اور اپنی قلمرو میں کئی ایک بازنطینی شہروں اور قلعوں کو شامل کر لیا۔ ترکوں کی الگ زبان نے ان کو ایک الگ ثقافت دی جو رفتہ رفتہ ان کی شناخت بن گئی۔ تیرھویں صدی سے بیسویں صد ی تک عثمانی حکمران بغیر کسی مداخلت کے حکومت کرتے رہے اور حکومت کو مضبوط کرنے میں ینی چری کا بہت بڑا ہاتھ رہا۔

منظور حسین

No comments:

Powered by Blogger.