Header Ads

Breaking News
recent

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا کہ دیکھیں اس وقت سے ڈریں جب مجھے کسی ادارے کے افسر کو بلانے کے لیے تھانیدار بھیجنا پڑے۔ تسلی رکھیں ایسا وقت کبھی نہ آیا۔ چوہدری صاحب بلوچستان کے غائب کیے گئے بچوں کو تو نہ ڈھونڈ پائے اپنے بچے کو صادق اور امین قرار دے کر گھر چلے گئے۔

میاں نواز شریف کے زوال کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن جس جج کو انھوں نے بحال کرایا اس نے عدالت کو کبھی دربار تو کبھی منبر میں بدلا۔ آج اسی دربار سے فرمان ہوا کہ تو جھوٹا ہے گھر جا، تیرا خاندان بھی جھوٹا ہے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا کہ کوئی بھی حادثہ ایک لمحے میں نہیں ہوتا سالوں تک وقت اس کی پرورش کرتا ہے۔ نواز شریف کے کیس میں یہ پرورش 32 سال سے جاری ہے۔ آٹھ سال جلا وطنی کے نکال کر مرکز میں اور تخت لاہور پر وہ اور ان کا خاندان رہے ہیں۔

وہ عوام سے ووٹ لے کر آتے ہیں اور اس ووٹ سے وہ پاکستان کی ازلی اسٹیبلشمنٹ سے طاقت میں اپنا حصہ مانگتے ہیں، ان کا وزیر اعظم کا موٹر کیڈ، اس کا محل، اس کے بیرونی دورے مل جاتے ہیں، فیتے کاٹ لیتے ہیں، یوم آزادی پر جھنڈے کی رسی کھینچ لیتے ہیں، پر انھیں خیال آتا ہے کہ میں کوئی تھوڑی بہت فارن پالیسی بھی دیکھوں، ذرا پتہ کروں کہ یہ جنگ ونگ کہاں اور کیوں ہو رہی ہے، یہ سودا خریدنے کے لیے جب وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کی جیب خالی نکلتی ہے اور وہ خالی ہاتھ گھر واپس جاتے ہیں۔

میں نے ان کی نااہلی سے ایک دن پہلے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں۔ زیادہ تر جگتیں سننے کو ملیں۔ اسلام سے دوری؟ ابھی رمضان کے آخری عشرے میں وہ کہاں تھے؟ ممتاز قادری کو پھانسی عدالت نے دی تھی۔ مشرف پر کیس؟ انھوں نے دانت پیس کر ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔ کسی سیانے نے یہ بھی فرمایا کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم کو سمارٹ فون کیوں لے کر دیا اور اسے ٹویٹ کرنے کی اجازت کیوں دی۔ جن لوگوں کے بچے ہیں وہ نواز شریف کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں۔

میرے چھوٹے سے سروے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے دوست اور دشمن سمجھتے ہیں کہ وہ تھوڑے موٹے دماغ کے ہیں، میرا خیال ہے کہ ان کا موٹا دماغ پنجاب کو بھاتا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا وہ خود لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟ کوئٹہ میں جس مسنگ پرسنز کے کیس پر جسٹس چوہدری خبردار کر رہے تھے وہ وقت کبھی نہیں آیا نہ کبھی آئے گا۔ کوئی تھانیدار کسی ادارے والے کے گھر پر دستک نہیں دے گا۔ لیکن جو مسئلے پارلیمان میں، کابینہ میں طے ہوتے تھے وہ عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نواز شریف نے اپنا وزیر دفاع بھی اس دن مقرر کیا جب عدالت سے حکم صادر ہوا کہ مسنگ پرسنز کے کیس میں وزیر دفاع خود پیش ہو کر بتائے کہ اداروں کے لوگ کیوں پیش نہیں ہو رہے؟

جمہوریت میں مظلوموں کی آہ نہیں لگتی، ووٹ لگتے ہیں۔ تین مرتبہ اس جمہوریت کے مزے لوٹنے کے بعد نواز شریف اور ان کی پارٹی کو تو یہ سیکھ جانا چاہیے کہ آپ کے پاس حرام کے یا حلال کے جتنے بھی ارب روپے ہوں، آپ جیت کر یا دھاندلی سے کتنے کروڑ ووٹ بھی لے کر آئے ہوں، اس ملک کے مظلوموں سے منہ موڑ کر بڑی دکان پر سودا لینے جائیں گے تو آپ کی جیب ہمیشہ خالی ہی نکلے گی۔

محمد حنیف
مصنف اور تجزیہ کار
 

No comments:

Powered by Blogger.