Header Ads

Breaking News
recent

عراق، شام اور یمن میں انسانی المیہ

عصر حاضرمیں یمن بدترین انسانی المیے سے دو چار ہے۔ اس بدنصیب ملک میں جاری جنگ میں 10 ہزار لوگ مار ے جا چکے ہیں ،11 فیصد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ شہر کے شہر اجڑ چکے ہیں ،اس انسانی المیے پر قابو پانے والا کوئی نہیں۔ 21 اضلاع میں ہیضہ کی وبا ہزاروں جانیں لے چکی ہے، اس مرض میں مبتلا مزید ڈھائی لاکھ افراد زندگی کے لئے موت سے لڑ رہے ہیں۔ اس وبا کی روک تھام کے لئے ویکسین، اور علاج کے لئے دوا دستیاب نہیں۔ گندہ پانی اور ناقص خوراک کی وجہ سے یہ مرض پھیلتا جا رہا ہے، روزانہ 5 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

شام بھی عالمی رسہ کشی کا شکار ہے۔ وہاں شہر کے شہر کھنڈر بن چکے ہیں اورجنگ میں 6 لاکھ لوگ بے گھر ہو ئے ہیں، 30 لاکھ افراد نے ترکی میں، 6 لاکھ 60 ہزار افراد نے اردن میں اور 10 لاکھ مہاجرین نے لبنان میں پناہ لی ہے۔ مصر نے 1.15 لاکھ اور شمالی افریقہ نے 30 ہزار مہاجرین کو پناہ دی ہے، پہلے سے ہی جنگ و جدل کے شکار عراق میں شامی پناہ گزینوں نے رہائش اختیار کی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ لوگ اپنے ہی ملک میں در بدر ہیں۔ ان کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ ایسے میں عالمی طاقتیں عراق کے بٹوارے میں مصروف ہیں۔ مئی میں ترکی ، روس اور ایران کے مابین مہاجرین کی آباد کاری پر مذاکرات ہوئے تھے۔ بشار الاسد شام میں ان مہاجرین کے لئے چار فری زونز کے قیام پر آمادہ ہو گئے تھے۔

انہوں نے ان محفوظ زونوں میں جنگی طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کرنے اور فضائی امداد کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن حالات اس کے بالکل الٹ ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے شام اسٹیفام ڈی مستورا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ کی شدت میں کمی کی وجہ سے کچھ شہروں میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ابھی حالات اتنے پر امن نہیں ہوئے کہ تمام مہاجرین واپس چلے جائیں کیونکہ جنگ میں 3 لاکھ 20 ہزار جانیں ضائع ہو گئی ہیں جو بہت زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 2015ء سے اب تک 2 لاکھ 60 ہزار مہاجرین اپنے اپنے وطن واپس جا چکے ہیں لیکن 50 لاکھ مہاجرین کے مقابلے میں یہ تعداد کچھ بھی نہیں۔

سید آصف عثمان گیلانی

No comments:

Powered by Blogger.