Header Ads

Breaking News
recent

علی بابا ڈاٹ کام کا چیئرمین جیک ما ہے کون ؟

وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف اپنے حالیہ دورہ چین میں ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس میں شرکت کے بعد چین کے صوبے چہ جیانگ کے شہر ہانگجو پہنچے اور ایک منحنی، دھان پان اور بونے سے قد کے شخص کے ساتھ ملاقات کی۔ اس شخص کا نام جیک ما ہے جو اب عالمی میڈیا میں افسانوی کردار بن چکا ہے۔ صدر امریکہ منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلی ملاقات جیک ما سے کی اور جیک ما سے آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ میں دس لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا پلان بنانے کی درخواست کی ۔ گزشتہ سال کے اواخر میں جی 20 سمٹ ہانگجو میں منعقد ہوا تو اس میں شریک سربراہان مملکت جیک ما کو ملنے کے لیے بے تاب دکھائی دئیے۔

جیک ما کوئی حکومتی شخصیت نہیں ہے بلکہ ایک کمپنی علی بابا ڈاٹ کام کا چیئرمین ہے جسے اس نے خود قائم کیا تھا ۔ چار بار کالج کے داخلہ امتحان میں ناکام ہونے والا اور تیس بار نوکری کے لیے مسترد ہونے والا جیک ما، جو آج دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہے ستمبر 1964ء کو ہانگجو میں ایک عام سے غریب چینی گھرانے میں پیدا ہوا۔ جیک نے سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی سیکھنا شروع کی اور گھر کے قریب واقع ایک ہوٹل جہاں اکثر غیر ملکی مہمان و سیاح قیام پذیر ہوتے تھے، جانا شروع کر دیا اور روز انگریزی زبان بولنے کی مشق کرنے لگا، اسی طرح کی مشق کے دوران جیک کی ملاقات ایک امریکی بچے سے ہوئی جو اپنے والدین کے ہمراہ چین کی سیر کرنے آیا ہوا تھا اور جیک کا ہم عمر تھا۔ دونوں جلد ہی دوست بن گئے اور بعد ازاں قلمی رابطے نے اس دوستی کو مضبوط کر دیا ۔ 

جیک نے ہائی سکول پاس کرنے کے بعد چین کے نظام کے مطابق کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان ’’گاؤ کھاؤ‘‘ دیا لیکن شومیٔ قسمت ناکام ٹھہرا۔ یہ امتحان سال میں ایک بار ہوتا ہے اور جیک اس امتحان کو چوتھی کوشش میں پاس کر پایا۔ اس کے بعد جیک نے ہانگجو کی یونیورسٹی سے انگریزی میں بیچلرز ڈگری حاصل کر لی۔ اس کے بعد بیجنگ کی ایک یونیورسٹی سے بزنس میں ماسٹرز کیا اور ساتھ ہی ایک اور یونیورسٹی میں انگریزی پڑھانا شروع کر دی۔ 1994 ء میں جیک کو اس کے قلمی دوست نے امریکہ بلایا جہاں جیک پہلی بار انٹرنیٹ سے متعارف ہوا ۔ اس نے وہاں رہتے ہوئے انٹرنیٹ پر چین سے متعلق ویب سائٹ بنائی کیونکہ اس وقت تک چین سے متعلق کوئی ویب سائٹ انٹرنیٹ پہ موجود نہیں تھی ۔ جیک ما کی زندگی کا ایک اہم پہلو نوکری کے حصول کی جدوجہد ہے۔ 

جیک نے تیس بار نوکری کے لیے درخواست دی۔ نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا اور وہ تھا نوکری ملنے میں ناکامی۔ حتیٰ کہ جب کے ایف سی نے اپنا کاروبار ہانگجو میں شروع کیا تو وہ ویٹر بننے چلا گیا اور اس کو مسترد کر دیا گیا۔ تاہم امریکہ میں انٹرنیٹ سے تعارف کے بعد جیک انٹرنیٹ کا ہو کر رہ گیا۔ اس نے ایک کمپنی رجسٹر کروائی اور پھر چینی کمپنیوں اور اداروں کے لیے ویب سائٹس بنانا شروع کر دیں۔ اس طرح اس نے کچھ سرمایہ اکٹھا کر لیا اور ایک ای کامرس کمپنی بنانے کا سوچا۔ اس وقت تک امریکی کمپنیاں ایمیزون اور ای بے اپنا کاروبار جما چکی تھیں۔ جیک نے علی بابا کے نام سے کمپنی رجسٹر کرا لی اور احتیاطا علی بابا ڈاٹ کا م کے نام کے حقوق بھی حاصل کر لیے تاکہ کوئی اس کے کاروباری آئیڈیا کو چوری نہ کر پائے ۔ یہ 1990 ء کا سال تھا، چینی معیشت 20 سال کی محنت کے بعد دنیا میں نمایاں ہو چکی تھی اور چینی قوم کے پاس پیسہ آنا شروع ہو چکا تھا اور لوگ نئے آئیڈیاز کو پذیرائی بخش رہے تھے ایسے میں علی بابا ڈاٹ کام کا کاروبار چمک اٹھا۔

جیک ما کا بزنس ماڈل بہت سادہ اور آسان ہے۔ اس کی اپنی کوئی بھی پراڈکٹ نہیں ہے، اس کی ویب سائٹ پہ کمپنیاں اپنا سٹور کھولتی ہیں اور وہ ان کی تصدیق کے بعد انہیں کاروبار کی اجازت دیتا ہے، یہ مصنوعات پوری دنیا میں فروخت ہوتی ہیں اور جیک کو اس پہ کمیشن نما آمدنی ہوتی ہے ۔ جیک نے اس کے علاوہ ’’تاؤ باؤ‘‘ کے نام سے عام صارف کے لیے بھی ویب سائٹ بنائی اور پھر موبائل پیمنٹ کا نظام ’’علی پے‘‘ شروع کیا جس میں استعمال کنندہ کو اپنا بٹوہ، اے ٹی ایم کارڈ یا نقدی ساتھ نہیں رکھنی پڑتی اور وہ موبائل فون سے ہی اپنی تمام خرید و فروخت کر سکتا ہے، چاہے اسے ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنا ہو، اخبار خریدنا ہو یا سبزی یا کسی کو پیسے منتقل کرنے ہوں۔ 2012ء میں علی بابا ڈاٹ کام کی چین میں مالی ٹرانسیکشن ایک ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں۔ 2014ء میں جیک کو ایک تاریخی کامیابی نصیب ہوئی جب اس کی کمپنی علی بابا ڈاٹ کام نے نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں 25 بلین ڈالر کی خطیر رقم بذریعہ آئی پی اواکٹھی کر لی۔ جیک ما نے اپنی ویب سائٹ پر ہر سال 11 نومبر کو سنگلز ڈے کی سیل متعارف کرائی اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ سیل اب چین کا سب سے بڑا شاپنگ ایونٹ بن گیا ہے ۔

2016ء میں اس سیل کے شروع ہونے کے محض پانچ منٹ میں علی بابا کی سیل ایک بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور 24 گھنٹوں میں جیک ما نے اس سال 17.8 بلین ڈالر کا کاروبار کر لیا ۔ جیک ما کے اعزازات پہ نظر ڈالیں تو فوربز نے جیک ما کو 2014ء میں دنیا کا تیسواں طاقتور ترین شخص قرار دیا جبکہ اس سال ’’فارچون‘‘ نے جیک ما کو دنیا کے پچاس عظیم ترین لیڈرز کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ جیک ما کی جدو جہد سے بھرپور زندگی مشعل راہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں جیک نے پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جو نہایت خوش آئند ہے تاہم اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ ہو گی کہ پاکستان سے اس طرح کے نوجوان ابھریں اور بدلتے ہوئے عالمی افق پہ چھا جائیں ۔ 

No comments:

Powered by Blogger.