Header Ads

Breaking News
recent

سعودی قطر تنازع : پاکستان کو کیا کرنا چاہئے ؟

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی قطر کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی پر پاکستان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہو گیا ہے کیونکہ اگر پاکستان سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیتا ہے تو اس کے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کے بہت سے معاملات کا انحصار سعودی عرب پر ہے اور اگر پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دیتا ہے تو نہ صرف پاکستان کے لئے دوسری نوعیت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے قطر کے شاہی خاندان کے ساتھ تعلقات بگڑ سکتے ہیں ۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کی گئی ہے ، جو اجتماعی قومی دانش کی مظہر ہے ۔

لیکن اس قرار داد پر عمل درآمد کے لئے ایک طرف تو پوری خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنا ہو گا اور دوسری طرف درپیش آنے والی فوری مشکلات کا بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔ قطر تنازع پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں جبکہ قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اس تنازع پر غیر جانبدار رہے اور اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ قومی اسمبلی کی یہ قرار داد بہت محتاط انداز اور مختصر الفاظ میں تحریر کی گئی اور یہ قرار داد موجودہ مشکل صورت حال میں پاکستان کے لئے گائیڈ لائن ہو سکتی ہے ۔ اس سے انحراف پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے ۔ حکومت پاکستان کے لئے یہ بہت بڑی آزمائش ہے ۔ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے ، ان میں پاکستان جانبداری کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ غیر جانبداری کے لئے پاکستان کو جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے ، اسے خندہ پیشانی سے ادا کرنی چاہئے ۔

قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے سیاست دانوں کو بھی یہ معلوم ہے کہ ان کی درخواست پر اسلامی ممالک خاص طور پر خلیجی ممالک اپنا وہ راستہ تبدیل نہیں کریں گے ، جس پر وہ چل پڑے ہیں ۔ اگر مذاکرات سے مسائل حل کرنے کا احساس موجود ہوتا تو اسلامی دنیا فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم نہ ہو تی ۔ قومی اسمبلی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لئے اپنا ٹھوس کردار ادا کرے ۔ پاکستان کے زیرک منتخب نمائندوں کو اس بات کا بھی ادراک ہو گا کہ اس وقت پاکستان ثالثی کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی قیادت ہی نہیں ہے ، جسے علاقائی ، عالمی سطح پر خصوصاً عالم اسلام میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہو ۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اگرچہ خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن گزشتہ ماہ سعودی عرب میں ہونے والی امریکہ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ، اس کے بعد وزیر اعظم کی ثالثی کی پیشکش پر کسی مثبت جواب کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔

پاکستان کے لئے اگرچہ غیر جانبدار رہنا بہت مشکل ہے لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان جب کوئی تنازع بھی نہیں تھا ، تب بھی سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اسلامی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ درست نہیں تھا ۔ اس فیصلے پر بہت زیادہ تنقید کی گئی کیونکہ بعض حلقے اس اتحاد کو اسلامی نہیں بلکہ ایک مسلکی اتحاد سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ غیر اسلامی دنیا خصوصاً مغرب کے ذرائع ابلاغ نے یہ اتحاد بننے پر جو خبریں شائع اور نشر کیں ، ان سے واضح طور پر یہ تاثر بنا کہ عالم اسلام فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم ہو گیا ہے ۔

اس وقت پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ خراب تعلقات کی انتہا پر ہے اور بھارت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کو مزید تنہا کیا جائے ۔ بھارت کے ساتھ تو تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے لیکن افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ پڑوسی ملکوں میں صرف ایران تھا ، جس سے ہمارے تعلقات بہتر تصور کیے جاتے تھے لیکن سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والی امریکہ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیہ کے بعد ایرانیوں کے نزدیک پاکستان ان کا دوست نہیں رہا ۔ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر واقع پڑوسی ممالک سے تعلقات بالکل اچھے نہیں ہیں ۔ 

شمال مشرق کی طرف چین کے ساتھ منسلک سرحد سے نکلتی ہوئی پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کو پاکستان کی جنوب مغربی سمندری سرحدوں پر پیدا ہونے والی صورت حال سے خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب اور قطر سے بہت اچھے اور دوستانہ تعلقات ہیں لیکن ریاست پاکستان سے زیادہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دونوں ملکوں کے شاہی خاندانوں سے خصوصی تعلقات ہیں ۔ ریاست پاکستان سے زیادہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے لئے آزمائش ہے ۔ وہ کسی ایک کے ساتھ تعلقات نہیں بگاڑنا چاہتے ۔ ان کے لئے غیر جانبدار رہنا بہتر ہے لیکن اس معاملے میں ریاست پاکستان کے لئے زیادہ بہتر ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے ۔ اس کے نتیجے میں سعودی عرب کی ناراضی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن پاکستان کسی ایک فریق کا ساتھ دیتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے یہ بات تباہ کن ہو گی ۔

مسلم امہ تقسیم اور تصادم کے جس راستے پر چل پڑی ہے ، وہ راستہ اس سے بڑی تباہی پر جا کر ختم ہو گا ، جس تباہی کا شکار اس وقت عالم اسلام ہے ۔ اگرچہ اس وقت پاکستان اختلافات ختم کرنے اور تنازعات کے حل کے لئے کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتا ہے لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا ، جب پاکستان جیسے دیگر غیر جانبدار ملکوں کی ضرورت پڑے گی ۔ غیر جانبد ار رہنے کے لئے پاکستان کو کچھ مشکلات برداشت کرنا پڑیں گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی کچھ دباؤ برداشت کرنا پڑے گا ۔ اگر وزیر اعظم یہ دباؤ برداشت نہ کر سکے اور قومی اسمبلی کی قرار داد سے انحراف کرتے ہوئے تھوڑی سی بھی جانبداری کا مظاہرہ کیا تو پھر ان سمیت سب کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔

عباس مہکری
 

No comments:

Powered by Blogger.