Header Ads

Breaking News
recent

تھاکوٹ برج : پاک چین دوستی کے نام ایک پُل

شرگول سے گزر کر ہم بٹگرام پہنچے۔ بٹگرام ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے۔ لیکن سڑک پر سے گزرتے ہوئے ایک پسماندہ قصبہ محسوس ہوتا ہے۔ سڑک کے دونوں جانب پرانے طرز کی چھوٹی چھوٹی دکانیں اور بوسیدہ عمارتوں میں قائم چند ایک دفاتر نظر آتے ہیں۔ تقریباً سوا ایک بجے ہم تھا کوٹ پہنچے۔ تھا کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ پر بنایا گیا پل چینی طرزِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ پیش کرتا ہے۔ ایک سو بیس میٹر لمبا یہ سسپنشن برج (معلّق پل)، دریائے سندھ پر سب سے لمبا پل ہے جو چینیوں نے بنایا۔ پہلے اس پل کو ’’تھاکوٹ برج ‘‘ کہتے تھے۔ 2004ء میں چینیوں کی خدمات اور احسانات کے اعتراف کا اعادہ ضروری سمجھتے ہوئے اس پل کو ایک نیا نام دے دیا گیا، اب اسے ’’یویی پل ‘‘ یعنی ’’دوستی کا پل‘‘ کہتے ہیں۔ 

یویی چینی زبان میں دوستی کو کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی تھی۔ پاکستان کے ’’ششماہی وزیر اعظم ‘‘ چوہدری شجاعت حسین کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا تھا جس میں پاک چین دوستی کو لازوال قرار دیا گیا۔ پاک چین ’’یویی‘‘ پل عبور کر کے ہم ضلع شانگلہ میں داخل ہوئے اور تقریباً دو بجے بشّام پہنچ گئے۔ بشّام میں میں نے بیس سال قبل ایک رات کے لئے قیام کیا تھا۔ اْس وقت یہ چند دوکانوں اور ہوٹلوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جو اب خاصا بڑا اور ماڈرن شہر بن گیا ہے۔ یہاں بے شمار دوکانیں چینی سامان سے بھری پڑی ہیں۔ اَن گنت ہوٹل ہیں اور خاصی چہل پہل ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی گاڑیوں پر گلگت جاتے ہیں بشّام قیام کے لئے خاصا پسندیدہ مقام ہے۔ اسی لئے اب شام کے وقت کئی ماڈرن فیملیز بشّام کی سڑکوں پر چہل قدمی کرتی نظر آتی ہیں۔

بشام کی دوکانوں پر خریداروں کا ہجوم تو نہیں لیکن خاطر خواہ تعداد میں لوگ شاپنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کے کھلونے، الیکٹرانک کا سامان، ریڈی میڈ ملبوسات غرض ہر قسم کی اشیاء موجود ہیں۔ قیمت طے کرنا البتہ دشوار مرحلہ ہے۔ اگر آپ بارگیننگ میں ماہر ہیں تو مناسب دام پر جو چاہے خرید سکتے ہیں ورنہ راولپنڈی کی نسبت دگنے داموں جیکٹ خرید کر بھی آپ خود کو لْٹنے والے کے بجائے لوٹنے والا سمجھ کر بغلیں بجاتے پھریں گے۔ بشّام سے ایک سنگل روڈ شانگلہ پاس سے گزرتی ہوئی منگورہ اور سیدو شریف تک جاتی ہے، یہی انڈس ویلی روڈ ہے۔ بشّام میں اس کا ابتدائی حصہ تو خاصی خستہ حالت میں نظر آیا۔ کبھی میں نے اس روڈ پر سیدو شریف تک سفر کیا تھا۔ شاہراہ قراقرم مکمل ہونے کے بعد انڈس ویلی روڈ پس منظر میں چلی گئی ہے، لیکن یہ سوات کو شاہراہِ قراقرم سے ملاتی ہے اور اس رابطے نے سوات کی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب کئے ہیں۔ قدیم شاہراہِ ریشم نے اب جدید شاہراہِ قراقرم اور انڈس ویلی روڈ کا لبادہ اوڑھ کر اپنی تجارتی اور معاشی اہمیت کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
 
ڈاکٹر محمد اقبال ہما

No comments:

Powered by Blogger.