Header Ads

Breaking News
recent

ناسا کا 'سورج کو چھونے' کا مشن

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے آئندہ برس 'سورج کو چھونے' کا مشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ شکاگو میں ماہر فلکی طبیعات پروفیسر یوجین پارکر کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران ناسا نے اس بات کا اعلان کیا کہ 2018 کے موسم گرما میں ایک خلائی مشن سورج کی جانب بھیجا جائے گا۔ اس مشن کا نام 'سولر پروب پلس' ہو گا اور یہ سورج کی سطح سے 40 لاکھ میل کے فاصلے پر اپنا مدار بنائے گا جو کہ شمسی ماحول کے اندر ہو گا۔ ناسا کی جانب سے بھیجے جانے والے 10 فٹ لمبے خلائی شٹل کو اپنے مشن کے دوران بے انتہا گرمی اور تابکاری کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ اس سے پہلے انسان کی بنائی ہوئی کسی چیز نے نہیں کیا ہے۔

یہ انسان کی جانب سے سورج کے اتنا قریب بھیجا جانے والا پہلا مشن ہو گا جس کا مقصد نظام شمسی کے رازوں سے پردہ اٹھانا، ستاروں کی فزکس جاننا اور سورج کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا ہے تا کہ زمین اور نظام شمسی سے متعلق سوالوں کے جواب حاصل کیے جا سکیں۔ یہ سورج کی جانب بھیجا جانے والا ناسا کا پہلا مشن ہو گا جو سورج کے بیرونی فضاء 'کورونا' تک جائے گا جہاں اسے 5 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خلائی شٹل کو خاص طور پر تیار کردہ 5 انچ موٹی کاربن کمپوزیٹ سولر شیٹ سے ڈھانپا جائے گا تا کہ وہ سورج کی تیز شعاعوں کا سامنا کر سکے۔

یاد رہے کہ یہ ناسا کا پہلا خلائی مشن ہے جو کسی ستارے کی جانب بھیجا جا رہا ہے جبکہ ناسا نے اپنے اس مشن کا نام 'سولر پروب پلس' سے تبدیل کرکے 'پارکر سولر پروب' کر دیا ہے جس کا مقصد ماہر فلکی طبیعات پروفیسر یوجین پارکر کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ناسا نے کسی خلائی مشن کو زندہ شخصیت کے نام سے منسوب کیا ہے۔
 

No comments:

Powered by Blogger.