Header Ads

Breaking News
recent

ملالہ ڈرامہ پھر بے نقاب ؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے ایک انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا کہ ' ملالہ پر حملہ اسکرپٹڈ تھا'۔ واضح رہے کہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر 2012 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے سوات میں حملہ کیا گیا، جس کے بعد سے وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے بعدازاں اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا، 'ملالہ کو سر میں گولی ماری گئی، لیکن سوات میں ہونے والے سی ٹی اسکین کے دوران کوئی گولی نہیں پائی گئی، لیکن بعد میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پشاور میں ان کے سر میں ایک گولی پائی گئی'.

مسرت احمد زیب نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ملالہ کی کہانی 'گھڑنے' والے طبی عملے کو بھی سہولیات فراہم کیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے ساتھ ملالہ کا سی ٹی اسکین کرنے والے طبی عملے کو بھی حکومت کی جانب سے پلاٹس فراہم کیے گئے۔ بعدازاں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ایک اور پیغام میں الزام عائد کیا کہ جب ملالہ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) اردو کے لیے 'گل مکئی' کے نام سے ڈائری تحریر کی تو اُس وقت وہ لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی تھیں۔

No comments:

Powered by Blogger.