Header Ads

Breaking News
recent

ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام جنہوں نے دنیا تبدیل کر دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئی ایجادات کا سہرا کمپنیوں کے سر ہوتا ہے لیکن ان
کے پیچھے بعض افراد کی ذہانت، قابلیت اور محنت کارفرما ہوتی ہے۔ ان میں ایگزیکٹوز، پروگرامرز، فیصلہ ساز اور محقق شامل ہو سکتے ہیں۔ ذیل میں ٹیکنالوجی کی آج کی دنیا کے 20 سب سے بڑے ناموں کے بارے میں بتلایا گیا ہے۔ 

20۔ ٹیری میئرسن
ونڈوز، ایکس باکس اور سرفیس مائیکروسافٹ کی پراڈکٹس ہیں اور ان سب کی نگرانی کا زیادہ تر کام ٹیری میئرسن کر رہے ہیں۔ انہوں نے آئی فون کے اجرا کے بعد 2008ء میں ونڈوز موبائل آپریٹنگ سسٹم کی تشکیل نو کی۔ یہ آپریٹنگ سسٹم اتنا معروف نہ ہو سکا جتنا اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ہیں لیکن اس سے مائیکرو سافٹ سمارٹ موبائل کے آپریٹنگ سسٹم کی تعمیر و ترقی کی راہ پر چل پڑا۔ اب وہ ونڈوز اور مائیکروسافٹ کی ہارڈ ویئر کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔ 

19۔ ڈل ہاروے
ان کا کام ٹوئٹرپر قواعد کی خلاف ورزیوں، غلط استعمال اور سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی تنازعات کا حل نکالنا اور ان سے نپٹنا ہے۔ وہ تنقید اور گالی گلوچ کے درمیان فرق کو یقینی بنا تی ہیں۔ ٹوئٹر پر ’’ٹرولنگ‘‘ عام ہے اور اس مسئلے سے نپٹنے کا کام ڈل ہاروے کے ذمہ ہے ۔ 

18۔ انتھونی لوانڈووسکی
اُوبر اور گوگل کے کاروں کی جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل انتھونی لوانڈووسکی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی کار بنانے کا کام جاںفشانی سے کر رہے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں اُوبر کو خیرآباد کہا ہے۔ وہ اس سے قبل گوگل کی کاوشوں میں شامل تھے۔ 
17۔ جیف ویلیمز
ایپل کمپنی کے فیصلہ ساز اور عوامی ترجمان سی ای او ٹم کُک لیکن اس کے بعد جیف ویلیمز کا نمبر آتا ہے۔ وہ گزشتہ 20 سال سے ایپل کے ساتھ ہیں۔ انہیں 2015ء کے اواخر میں کمپنی کا چیف آپریٹنگ آفیسر بنایا گیا۔ اس عہدے پر پہلے ٹم کُک فائز تھے۔ وہ 2010ء سے ایپل کی سپلائی کی نگرانی کر رہے ہیں اور یہ بہت بڑا کام ہے۔ 

16۔ چنگ وی ، جین لیو
سفر کی دنیا میں اُوبر بہت بڑی کمپنی شمار ہوتی ہے۔ چین میں ٹرانسپورٹ کی دو کمپنیوں کے اشتراک سے ایک کمپنی بنائی گئی جس نے ملک میں اُوبر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2015ء میں ہونے والے اس اشتراک کے نتیجے میں بننے والی کمپنی نے چین میں اُوبر کو 2016ء میں خرید لیا۔ ا س کمپنی کا نام ڈی ڈی چوژنگ ہے۔ چنگ وی اس کے سی ای او اور جین لیو صدر ہیں۔ ان کی کمپنی کی قدر 50 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ 

15۔ جینی رومیٹی
وہ شروع میں پانچ سال آئی بی ایم کی سی ای او رہیں۔ ان کے دور کمپنی نے خوب ترقی کی اور متعدد دیگر بڑی کمپنیوں سے اشتراک عمل بڑھا۔

14۔ ٹراوس کلنک
اُوبر کی ترقی میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہیں ہر حال میں جیتنا پسند ہے، تاہم انہی کے ہوتے کمپنی کا گوگل سے قانونی جھگڑا چل نکلا اور مقام کار پر عورتوں سے امتیازی سلوک کے الزامات بھی لگے۔

13۔ جان جیاننڈریا
یہ گوگل سرچ کے سربراہ ہیں جو دراصل کمپنی کا سب سے بڑا اور اہم کام سمجھا جاتا ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہر ہیں اور اس شعبے میں بھی کمپنی کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

12۔ ڈیمس ہسابِس
کمپیوٹر کی دنیا میں گزشتہ برس تاریخ رقم ہوئی۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے سافٹ ویئر کی مدد سے قدیم چینی کھیل ’’گو‘‘ میں انسان کو شکست دے دی گئی۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ’’گو‘‘ میں اتنی چالیں ممکن ہیں جتنے اس کائنات میں ایٹم ہیں۔ اس لیے کمپیوٹر کا اس پر مہارت حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اس سافٹ ’’الفا گو‘‘ کو ویئر کو ڈیمس ہسابِس نے بنایا تھا۔ وہ گوگل کی فرم ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی ہیں۔ وہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔

11۔ اجیت پائی
انہیں اوباما انتظامیہ نے 2011ء میں وفاقی کمیونیکیشنز کمیشن کا کمشنر بنایا تھا۔ اب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ہیں اور اوباما کے بعض اقدامات کو واپس لینے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ بحیثیت وکیل وہ انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والے ان قواعد و ضوابط کا خاتمہ چاہتے ہیں جو انٹرنیٹ بلاک کرنے، سست رفتار کرنے یا ویب ٹریفک میں من مانی ترجیحات بنانے کی مخالفت کرتے ہیں۔

10۔ اینڈریو جیسی
جو افراد نیٹ فلکس یا سپوٹیفائی سے فلموں اور موسیقی کا لطف اٹھاتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ ان کی فراہمی کے لیے کمپیوٹر ماہرین کو کتنی محنت کرنا پڑتی ہے۔ ان دونوں کا انحصار ایمازون ویب سروسز پر ہے اور ایمازون کو یہ صلاحیت اینڈریو جیسی کی بدولت ملی ہے۔ ان کی وجہ سے ایمازون ویب سروسز تین ارب ڈالر کا کاروبار بن چکا ہے۔

9۔ سوزان وجسکی
وہ وڈیو شیئرنگ کمپنی یوٹیوب کی 2014ء میں سی ای او بنیں۔ ان کی آمد پر کمپنی میں خواتین کی تعداد 24 فیصد تھی جو 2017ء میں بڑھ کر 30 فیصد ہو گئی۔ کمپنی کی ترقی اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

8۔ ستیہ نیڈلا
ونڈو 10 کی تعریف ہو رہی ہے اور یہ مائیکروسافٹ کے سی ای او کی نگرانی میں تیار ہوئی ہے۔ وہ مائیکروسافٹ کو ہارڈویئر کے شعبے میں بھی آگے لے جا رہے ہیں۔

7۔ میری برا
کاروں کے شوقین افراد کے لیے جنرل موٹرز کا نام جانا مانا ہے۔اس کمپنی کی ساکھ پوری دنیا میں ہے اور میری اس کی سی ای او اور چیئرپرسن ہیں۔ وہ کمپنی کو ازخود چلنے والی کاروں کی ٹیکنالوجی کی جانب لے گئی ہیں۔

6۔ ایوان سپیگل
وہ سنیپ اِن کارپوریشن کے شریک بانی ہیں۔ یہی کمپنی سنیپ چاٹ کی مالک ہے۔ ان کی عمر محض 26 سال ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئے رجحان کو متعارف کروایا ہے۔ فیس بک اور ٹوئٹر کی نسبت سنیپ چاٹ میں پرائیویسی کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔

5۔ سندر پچائی
وہ دنیا کی مقبول تین ویب سائٹ اور سرچ انجن گوگل کے سی ای او ہیں۔ ’’جعلی خبروں‘‘ کے پھیلاؤ کے بعد ان کے لیے بڑ ا چیلنج ان سے نپٹنا ہے۔

4۔ ٹِم کُک
ایپل کمپنی کے سی ای او ہیں جو سب سے معتبر برانڈز میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا ٹیکنالوجی کی دنیا پر بے مثال اثر ہے۔ ان کے تیار کردہ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی نقالی کرنے میں حریف تاخیر نہیں کرتے۔ اسی سے ان کے کام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

3۔ مارک زگر برگ
سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا کے بڑے نام فیس بک کے سی ای او ہیں اور عمر محض 32 سال ہے۔ فیس بک کو اب دو ارب افراد استعمال کر رہے ہیں لیکن زگر برگ اس کے ذریعے پوری دنیا کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

2۔ جیف بیزوس
امریکی انجینئر ہیں اور ٹیکنا لوجی کے ماہر ہیں۔ وہ ایمازون ڈاٹ کام کے بانی، چیئرمین اور سی ای او ہیں۔ ویب سائٹ کی رینکنگ کرنے والی ویب سائٹ اور سافٹ ویئر ’’الیکسا‘‘ بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ’’نیٹ فلکس‘‘ اور ’’سپوٹیفائی‘‘ کا انحصار بھی اب ان کی کمپنی کی فراہم کردہ خدمات پرہے۔

1۔ ایلون موسک
الیکٹرک کاریں، خلائی راکٹ، سولر انرجی ان تمام شعبوں میں ’’ٹیسلا‘‘ کمپنی شہرت رکھتی ہے اور اس کے پیچھے 45 سالہ موسک کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ان کی سربراہی میں کمپنی کی مالیت 50 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔

رضوان مسعود

  

No comments:

Powered by Blogger.