Header Ads

Breaking News
recent

مشرقی پاکستان میں خون اور آنسوؤں کا دریا

آئیں ہر طرف اُڑتی ہوئی دھول اور کیچڑ میں کچھ پاک دامن کرداروں کو تلاش کر
کے اُن کا ذکر کریں۔ قحط الرّجال کے اس دور میں کم سہی مگر آج بھی معاشرے میں پاکیزہ کردار انسان مل جاتے ہیں۔ اﷲ کے ان ولیوں کی ایک ہی دھن ایک ہی لگن اور ایک ہی مشن ہوتا ہے۔ خالق و مالک کی خوشی اور  خوشنودی ۔ انھیں نہ پیسے کی ہوّس ہوتی ہے نہ کسی دنیاوی صلے کی تمنا اور نہ ستائش کی پرواہ وہ صرف اور صرف ایک ہی ہستی سے صلے اور ستائش کے طلبگار ہوتے ہیں جب انسانوں کی commitment، وفاداری، اطاعت اور محبّت خالق و مالک سے ہو جائے تو وہ باقی تمام شخصیات سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اُس ہستی کے سامنے صدقِ دل سے سرجھکانے والے باقی تمام چوکھٹوں کی جانب دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے ایسے ہی ایک بندہ ٔمومن کا نام پروفیسر سلیم منصور خالد ہے۔

جنھیں دیکھ کر رشک آتا ہے اور اپنی کم مائیگی کا احساس فزوں تر ہو جاتا ہے۔ پروفیسر سلیم صاحب کی بھیجی ہوئی کتاب ’’خون اور آنسوؤں کا دریا‘‘ موصول ہوئی ہے۔ اپنے ہی ملک کے باشندوں کے ساتھ بیتنے  والی ظلم اور بربرّیت کی یہ داستان پڑھنے والوں کی روح تک چیخ اُٹھتی ہے اور وہ خون کے آنسو روئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ اس عظیم انسانی ٹریجیڈی کو فراموش کر دینا چاہتے ہیں۔ مگر یہ تاریخ ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ تلخ سہی مگر ان حقائق سے پاکستان کے صحافیوں، دانشوروں، سفارتکاروں اور خصوصاً نئی نسل کو آگاہ ہونا چاہیے۔ تاکہ کسی بھی فورم پر وہ وطنِ عزیز کا موقّف موثّر طور پر پیش کر سکیں اور دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کر سکیں۔ ’’خون اور آنسوؤں کا دریا‘‘ ’Blood & Tears‘ کا ترجمہ ہے جو پروفیسر سلیم منصور صاحب اور ظہور احمد قریشی صاحب نے کیا ہے۔ کتاب کے مصنف کون ہیں یہ بھی سن لیں۔
1940 میں قائدؒ کی کال پر برصغیر کے ہر شہر اور قریے سے مسلمان جوق در جوق منٹو پارک لاہور میں پہنچے کیونکہ اُس روز ہندوستان کے مسلمانوں کی تقدیر کا فیصلہ ہونا تھا۔ حیدرآباد دکن سے آنے والے وفد میں ایک پاکباز خاتون  بھی تھیں جنہوں نے اس تاریخی جلسے سے خطاب بھی کیا۔ اُس ماں کی پرورش، تربیّت اور دعاؤں سے قدرت نے اعلیٰ کردار، قابلیت اور پاکستان سے محبت کو ایک ہی جسم میں جمع کر کے اسے قطب الدّین عزیز بنا دیا ۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے فارغ التحصیل حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں پیش پیش قائد ؒ کے قافلے کے سرگرم رکن ساری زندگی پاکستان سے بے لوث عشق کیا۔

واشنگٹن اور لندن میں پاکستانی سفارتخانوں میں اِنفرمیشن منسٹر رہے۔ جب قطب الدین عزیز پاکستانی سفارتخانے میں تعینات تھے تو راقم کے بھائی ڈاکٹر نثار احمد لندن میں زیرِتعلیم تھے۔ دونوں کی محبتیں یکساں تھیں، ﷲ، رسول ﷲؐ اور پھر مادرِ وطن پاکستان دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو گہرا قلبی تعلّق پیدا ہو گیا جو ہمیشہ قائم رہا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول قطب الدین عزیز ایک چلتا پھرتا پاکستان تھے۔ پاکستان کے بارے میں برطانیہ کے کسی بھی اخبار یا رسالے میں کسی بھی زبان میں کوئی منفی چیز شایع ہوتی یا بولی جاتی تو قطب الدین عزیز بے چین ہو جاتے اور اُس وقت تک آرام سے نہ بیٹھتے جب تک اس کا پورے دلائل سے جواب نہ دیتے اور الزامات کے بت توڑ کر نہ رکھ دیتے۔

سقوطِ ڈھاکا کے بعد بھارت اور اس کی کٹھ پُتلی عوامی لیگ نے اس تواتر کے ساتھ پاکستانی فوج کے خلاف پراپیگنڈا کیا کہ ان کے اس جھوٹے اور زہر آلود پراپیگنڈے سے دنیا بھر میں پاکستان کا تاثر بہت خراب ہوا ان الزامات کا دلائل کے ساتھ جواب نہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں بھارت کے تربیّت یافتہ مکتی باہنی کے غنڈوں نے ایسٹ پاکستان رائفلز کے ساتھ ملکر غیر بنگالیوں پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے اسے عالمی میڈیا میں کوئی جگہ نہ مل سکی۔ حتّٰی کہ مغربی پاکستان کے اخباروں میں بھی ان مظالم کا کہیں ذکر نہ ہوتا کیونکہ مارشل لاء حکومت کا حکم تھا کہ مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کے قتلِ عام کا ذکر نہ کیا جائے۔

کس جانب سے کتنا ظلم ہوا اور اس ضمن میں افسانہ کیا ہے اور حقیقت کتنی ہے یہ جاننے کے لیے پہلی سنجیدہ کوشش ڈاکٹر عبدالمومن چوہدری نے ــ”Behind the myth of three million” کے عنوان سے کتاب لکھ کر کی۔ دوسری کتاب “The riddle of thirty lac” کے عنوان سے لکھّی گئی۔ ایک اور مقبول اور مفید کتاب ڈاکٹر شرمیلا بوس نے Dead Reckoning کے نام سے لکھّی جو بہت مشہور ہوئی۔ 2014 میں ایک کتاب بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر اور ہمارے دوست افراسیاب ہاشمی نے “Facts and Fiction” کے نام سے لکھّی۔ مگر اِسوقت میرے سامنے قطب الدین عزیز صاحب (مرحوم) کی کتاب ’خون اور آنسوؤں کا دریا‘ ہے جسکے ہر صفحے پر غیربنگالی خواتین کی چیخیں اور سسکیاں ہیں اور ہر ورق مغربی پاکستان کے بے گناہ باشندوں کے خون سے سرخ ہے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ’’ہزاروں چشم دید گواہوں نے جن کا تعلق مشرقی پاکستان کے بڑے شہروں سے تھا، بیک آواز یہ بات کہی اور جسے اس کتاب میں محفوظ کر لیا گیا ہے کہ مغربی پاکستانیوں، بہاریوں اور دوسرے غیربنگالیوں، اور کچھ ایسے بنگالیوں کا جو پاکستان کے حامی تھے، قتل ِعام مارچ 1971 کے خونیں مہینے کے اوّلین دنوں میں شروع ہو چکا تھا‘‘۔ ’’ہزاروں بدقسمت خاندانوں کو، جو 1947 میں تقسیم ہند کے وقت بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آئے تھے، انھیں بڑی بے رحمی سے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ عورتوں کی آبروریزی کی گئی۔ بچے بھی اس ظلم سے نہ بچ سکے ، جو ذرا قسمت والے تھے ان کو ان کے والدین کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔ لیکن ان میں ہزاروں ایسے بھی تھے جن کو زندگی بھر کے لیے معذور کر دیا گیا، ان کی آنکھیں نکال دی گئیں اور ان کے بازو اور ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔ غیر بنگالیوں کی 20,000 سے زائد لاشیں بڑے بڑے شہروں جیسے چٹاگانگ، کُھلنا اور جیسور میں پائی گئی ہیں۔ اصل تعداد جو مجھے مشرقی بنگال میں بتائی گئی ہے وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھی، کیونکہ ہزاروں غیر بنگالی مقتولوں کے نام و نشان غائب کر دیے گئے ہیں‘‘۔

وہ مزید لکھتے ہیں’’ میں نے ان ہجرت کرنے اور اپنی جانیں بچا کر آنے والے سیکڑوں غیر بنگالی مردوں، عورتوں اور بچوں سے ملاقات کی۔ ان لوگوں نے جو ثبوت فراہم کیے، ان سے مجھے یہ تاثر ملا کہ مارچ، اپریل 1971 میں مشرقی پاکستان میں کیے گئے قتلِ عام کا شکار ہونے والے غیر بنگالیوں کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے‘‘۔ کئی عینی شاہدوں نے بتایا ’’ گورنمنٹ ریسٹ ہاؤس، چٹاگانگ میں قائم کیا گیا بوچڑ خانہ بدنام زمانہ تھا۔ ان کی رگوں سے خون کشید کیا گیا۔ ان فسادی بنگالیوں کے آلۂ کار ڈاکٹروں نے ان کی آنکھیں (corneas) نکالیں۔ لاشوں کو جلدی میں کھودے گئے گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ تختہ ٔ مشق بننے والے جس کسی میں زندگی کے کچھ آثار نظر آتے، تو بے دریغ اس کی کھوپڑی کو گولی مار کا اُڑا دیا جاتا‘‘۔

’’عوامی لیگ کے دہشت گردوں نے کچھ مساجد کے بنگالی اماموں کو مجبور کیا تھا کہ وہ فتویٰ دیں کہ بہاریوں کا قتل کرنا بنگالیوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ چٹاگانگ فائر بریگیڈ کے دفتر کے پاس ایک مسجد ہے۔ آدھی درجن ، غیر بنگالیوں کو ان کے گھروں سے لایا اور اس مسجد میں دھکیل دیا گیا تھا۔ پھر قاتلوں کے دستے نے ان مظلوموں کو مسجد ہی میں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ غیر بنگالی عورتوں کو پکڑنے والے عوامی لیگیوں نے ان کی آبروریزی کی اور بعض کو تو مارنے سے پہلے دن دہاڑے اور سرِ عام سڑکوں پر لٹا کر بے آبرو کیا گیا‘‘۔

’’……وحشیانہ قتل ہالی سحار، کلورگھاٹ اور پہارٹلی کے علاقوں میں بھی ہوئے، جہاں باغی بنگالی سپاہیوں نے تمام بلاکوں کے اردگرد پٹرول اور مٹی کا تیل چھڑکا اور شعلے پھیلانے کے لیے پیٹرول میں بھگوئے ہوئے پٹ سن کے گولے پھینکے۔ پھر ان معصوم غیر بنگالیوں کو آگ کے اس بڑے الاؤ کے اندر دھکیل دیا، جو بچنے کی کوشش کررہے تھے‘‘۔ ’’…مارچ کے آخری اور اپریل 1971 کے ابتدائی دنوں میں چٹاگانگ اور گردو نواح میں تقریباً 40,000 غیر بنگالیوں کو اس اندھا دھند قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔ مرنے والوں کی صحیح تعداد، جوکہ ممکنہ طور پر بہت زیادہ ہو سکتی ہے، ان کا کبھی پتہ نہ چل سکے گا، کیونکہ ہلاک ہونے والوں کو نذرآتش کر دیا جاتا تھا، یا انھیں دریا اور سمندر کی لہروں کے سپرد کر دیا جاتا تھا۔ یہ اَمر واقعہ ہے کہ ان میں بہت سارے تباہی مچانے والے ہندو بھی شامل تھے، جنھوں نے مسجدوں اور مسلم درگاہوں کی بے حرمتی کی اور قرآن مجید کے نسخوں کو جلایا‘‘۔

’’…چٹاگانگ میں ملٹری اکیڈیمی کے (مغربی پاکستانی) کمانڈنٹ کو قتل کردیا گیا اور ان کی بیوی جو آٹھ ماہ کی حاملہ تھی، اس کی آبروریزی کی گئی اور اس کے پیٹ میں سنگین گھونپی گئی۔ چٹاگانگ کے ایک اور حصے میں ـ’ایسٹ پاکستان رائفلز‘ کے ایک زندہ (مغربی پاکستانی) افسر کی کھال کھینچ دی گئی۔ اس کے دو بیٹوں کے سر قلم کردیے گئے اور اس کی بیوی کے پیٹ میں سنگین گھونپ کر اسے تڑپتا ہوا مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا،  بہت سے معصوم بچوں کو جلتے ہوئے گھروں میں پھینک دیا گیا اور ان کی ماؤں کو بندوق کی نوک پر مجبور کیا گیا کہ وہ یہ دہشت ناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں‘‘۔

ذوالفقار احمد چیمہ

No comments:

Powered by Blogger.