Header Ads

Breaking News
recent

اسماعیل ہنیہ حماس کے نئے سربراہ مقرر

حماس نے فلسطین کے سابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ
منتخب کر لیا۔ اسماعیل ہنیہ حماس کے سربراہ خالد مشعل کی جگہ لیں گے، جو اس وقت قطر کے شہر دوحہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ خالد مشعل حماس کے 2 بار سربراہ منتخب ہوچکے ہیں، اور انہیں تیسری بار منتخب نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسماعیل ہنیہ کو تحریک میں ایک حقیقت پسند کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اسی لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں ہی رہائش اختیار کریں گے، کیوں ان کی تنظیم کو وہاں 2007 سے کنٹرول حاصل ہے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ حماس نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ شوریٰ کونسل نے اسماعیل ہنیہ کو 6 مئی کو نیا سربراہ منتخب کیا۔
خیال کیا جا رہا کہ 54 سالہ اسماعیل ہنیہ تحریک کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے مضبوط کرنے سمیت حماس کی عالمی تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل 2 مئی کو حماس کی نئی پالیسی سے متعلق جاری کیے گئے دستاویزات میں اسرائیل کے لیے پہلی بار نرم رویہ اختیار کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق حماس 1967 میں ہونے والی 6 روزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ میں بننے والی نئی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو تیار ہے۔ دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ تنظیم کی جدوجہد یہودیوں کے خلاف مذہبی طور پر نہیں ہے بلکہ ایک قابض کے طور پر اسرائیل کے خلاف ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حماس نے اپنی نئی پالیسی میں 1988 کے چارٹر کو ختم یا مسترد نہیں کیا، بلکہ اس میں کچھ اضافہ کیا ہے، تاکہ تنظیم کے لیے سخت گیر مؤقف رکھنے والوں کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

یاد رہے کہ اسرائیل، امریکا اور یورپی یونین حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں، جب کہ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ حماس کے نئے دستاویزات اسی عالمی تنہائی کو کم کرنے کے لیے جاری کیے گئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے واضح کیا کہ دستاویزات عالمی براداری کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے مطالبے کے تحت جاری نہیں کیے گئے۔ خبر رساں ادارے نے بتایا کہ غزہ کے عسکریت پسند گروپ اسلامک جہاد کے ڈپٹی لیڈر زید النخالا نے حماس کی جاری کردہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’انہیں حماس کے اتحادی ہونے کے ناتے دستاویزات پر تحفظات ہیں‘َ۔

خبر رساں ادارے کے مطابق عسکریت پسند گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کو 1967 سے پہلے کی سرحدی صورت میں قبول کرے۔ زید النخالا کا کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے 1967 کی جنگ کے بعد کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے ڈیڈ لاک برقرار رہے گا، اور یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ خیال رہے کہ اسلامک جہاد 1980 میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد بنی، اسے غزہ میں دوسری بڑی عکسریت پسند تنظیم سمجھا جاتا ہے، اور وہ مکمل طور پر جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.