Header Ads

Breaking News
recent

ڈان کی خبر کا معاملہ : ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی ضرورت ہے

جس چیز کو سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے ایک دور کا خاتمہ ہونا چاہیے تھا، وہ
خاتمے کے بجائے ایک تازہ اور غیر ضروری بحران میں بدل گئی ہے۔ سیاست کی دھندلی دنیا میں اداروں کے درمیان تعلقات کے بارے میں حقائق جاننا ویسے تو بہت مشکل ہے، لیکن پھر بھی آگے بڑھنے کا راستہ تقریباً تلاش کر لیا گیا تھا۔ اس اخبار میں ایک خبر کی اشاعت کے تقریباً آٹھ ماہ بعد ایک انکوائری کمیٹی، جس میں فوج اور سویلین دونوں ہی کے نمائندے شامل تھے، نے ایک متفقہ رپورٹ اور سفارشات تیار کیں جنہیں وزیرِ اعظم نواز شریف کو پیش کیا گیا۔ حکومت نے عوامی سطح پر وعدہ کیا تھا کہ وہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات قبول بھی کرے گی اور نافذ بھی کرے گی۔ معلوم ہونے لگا تھا کہ معاملہ اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔

مگر پریشان کن طور پر حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کے اعلان کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ فوج نے اس معاملے پر حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف اور نئے آرمی چیف جنرل باجوہ پانچ ماہ قبل قیادت سنبھالنے سے اب تک اس قومی سطح کے مسئلے میں مرکزی کردار کے طور پر تھے۔ یہاں سے آگے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے، اور اس کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کو عوام میں لانے سے اس پر چھائے شکوک اور بدگمانی کے بادل ہٹ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک دوسرے سے متصادم پیغامات مزید عدم استحکام یا اس سے بھی خطرناک صورتحال کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہاں تک کہ جب بحران پیدا ہوا تو وزیرِ داخلہ نثار علی خان کی پریس کانفرنس نے صرف شش و پنج میں اضافہ کیا۔ ایک موقع پر تو یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید وزیرِ داخلہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ان کی وزارت انتظامی طور پر وزیرِ اعظم کے دفتر سے بالاتر ہے۔
 تکنیکی باتیں جو کچھ بھی ہوں، لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ معاملے کو سلجھایا جائے، نہ کہ مزید الجھن پیدا کی جائے۔ اور حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی سفارشات ہینڈل کرنے میں جو بھی خامیاں رہی ہوں، مگر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی ٹوئیٹ وہ لکیر تھی جسے نظام کی خاطر پار نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیا آرمی چیف خود وزیرِ اعظم سے ذاتی طور پر بات کر کے فوج کے تحفظات دور کرنے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے؟ یہ بھی ممکن نہیں کہ فوجی قیادت کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹوئیٹ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر جمہوریت سے بالاتر قدم قرار دیا جائے گا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں باہمی اختلافات کی وجہ سے اس وقت جمہوریت کے برخلاف جا رہی ہیں. تمام جماعتوں کو فوری طور پر اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 1 مئی 2017 کو شائع ہوا۔

No comments:

Powered by Blogger.