Header Ads

Breaking News
recent

ہماری ہیروئن کا عروج و زوال

انیس سو نواسی میں ایک اخبار میں یہ خادم ریڈیو مانیٹرنگ کرتا تھا۔ ایک روز
اچانک سے برما طویل آمرانہ گمنامی سے نمودار ہوا اور خبری ریڈار پر چھا گیا۔ برمی فوج نے رنگون میں جمہوریت نواز مظاہروں پر گولی چلا دی۔ درجنوں افراد ہلاک ، بیسیوں زخمی اور سیکڑوں گرفتار۔ برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے والی برمی قائدِ اعظم آنگ سان کی صاحبزادی سوچی گرفتار اور رنگون کے یونیورسٹی روڈ پر جھیل کے کنارے نو آبادیاتی دور کے بنے آبائی گھر میں نظر بند۔ حالانکہ وہ صرف چار ماہ کے لیے اپنے وطن آئی تھیں اور ان کا یہاں مستقل قیام کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

یوں دنیا میں نیلسن منڈیلا کے بعد دوسری طویل ترین قیدِ تنہائی ( چودہ برس ) کاٹنے والے ایک اور ضمیر کے قیدی کا ظہور محترمہ آنگ سان سوچی کی شکل میں ہوا اور وہ تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں جمہوریت اور بنیادی حقوق کا خواب دیکھنے والوں کی ہیروئن بن گئیں۔ انیس سو نوے میں برما کی فوجی جنتا نے انتخابات کرانے کا رسک لیا اور آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی ( این ایل ڈی ) نے اسی فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے جنتا کے ہاتھ پاؤں پھلا دیے۔ انیس سو باسٹھ سے اقتدار پر قابض فوجی ٹولے نے اس کا جواب انتخابی نتائج کو منسوخ اور این ایل ڈی کو کالعدم قرار کر کے دیا۔ اور آنگ سان سوچی کا رابطہ دنیا سے منقطع کردیا۔ دنیا نے اس کا کرارا جواب آنگ سان سوچی کو امن کا نوبیل انعام دے کر کیا۔

دن سال بن کر گذرتے گئے۔ بیچ میں کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کو جتوا کر جمہوری ڈرامہ رچانے والے انتخابات بھی آتے رہے۔ دو ہزار آٹھ میں ایسی ہی ایک سویلین کپڑوں والی فوجی حکومت نے نئے آئین کو بھی نافذ کیا۔ جس کے تحت مسلح افواج کو اسمبلی کی بیس فیصد نشتسوں پر اپنے نمایندے نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا۔ نئے صدر کے لیے ضروری قرار پایا کہ اس کی شادی کسی غیر ملکی سے نہ ہو اور اس کی مستقل رہائش برما کے اندر ہو۔ یہ سارا انتظام آنگ سان سوچی کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا جن کی شادی برطانوی اسکالر مائیکل ایرس سے ہوئی تھی اور جنھیں اہلیہ کی نظربندی کے بعد کبھی برما آ کر ملنے کی اجازت نہیں ملی اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ دونوں بچوں کو بھی ماں کی رہائی کے بعد ملاقات نصیب ہوئی۔
اس دردناک پس منظر کے ساتھ جب آنگ سان سوچی کو زبردست بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں برما کی سویلین مارکہ جنتا نے دو ہزار دس میں محدود نقل و حرکت کی اجازت دی اور آنگ سان سوچی کی جانب سے دو ہزار بارہ کے کٹھ پتلی انتخابات کے بائیکاٹ کے نتیجے میں برما کی حکومت مکمل عالمی تنہائی کی کگار پر پہنچ گئی تو پھر مذاکرات ہوئے اور یہ درمیانی راستہ نکالا گیا کہ ویسے تو سوچی اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی صورت میں آئین کے تحت ملک کی صدر نہیں بن سکتیں البتہ اسٹیٹ کونسلر کا عہدہ سنبھال سکتی ہیں یعنی غیر رسمی طور صدارت۔

نومبر دو ہزار پندرہ کے انتخابات میں نینشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے فوج نواز ڈویلپمنٹ یونین پارٹی کی کھاٹ کھڑی کردی اور اکیاسی فیصد نشستیں جیت لیں۔مگر فوج نے داخلہ ، دفاع اور سرحدی امور کی اہم وزارتیں اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اور بحیثیت اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی نے وزارتِ خارجہ و تعلیم اور کئی انتظامی کمیٹیوں کی سربراہی اپنے پاس رکھی۔ وہ کابینہ کے اجلاسوں کی بھی صدارت کرتی ہیں اور تمام اہم فیصلے ان کی توثیق سے ہوتے ہیں۔ آنگ سان سوچی نے جس طرح جمہوریت اور انسانی حقوق کی لڑائی لڑی اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ برما میں تبدیلی کا عمل شروع ہو جاتا اور تبدیلی کی رفتار سست ہی سہی مگر دکھائی ضرور دیتی۔

لیکن پہلی بار دو ہزار بارہ میں اندازہ ہوا کہ آنگ سان سوچی شائد وہ نہیں رہیں جنھیں دنیا جمہوریت کی ہیروئن کے طور پر جانتی تھی۔ انیس سو بارہ میں جب روہنگیا مسلمانوں کی جبری نقل مکانی کا تازہ دور شروع ہوا تو مغربی صحافیوں کے اصرار کے باوجود سوچی نے اس معاملے پر کوئی بھی رائے دینے سے گریز کیا۔ لیکن سوچی کی جدوجہد اور سیاسی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کے چاہنے والوں نے سوچا کہ ایسے نازک معاملات پر سوچی کی خاموشی اس لیے قابلِ فہم ہے کیونکہ کسی بھی طرح کا جھکاؤ ان کے حق میں بہتر نہ ہو گا اور فوج اس جھکاؤ کو برما کی بودھ اکثریت کے دلوں میں سوچی کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کے سنہری موقع کے طور پر استعمال کرے گی۔

مارچ دو ہزار سولہ میں جب آنگ سانگ سوچی نے اسٹیٹ کونسلر کی ذمے داریاں سنبھالیں تو درجنوں سیاسی قیدی رہا ہوئے۔ برما کے مختلف علاقوں میں کئی عشروں سے مرکزی حکومت سے برسرِ پیکار مسلح ملیشیاؤں کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع ہوا۔ بنگلہ دیش سے متصل صوبہ رکھائن میں بودھ اکثریت اور روہنگیا اقلیت کے مابین نسلی کشیدگی کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی قیادت میں ایک مشاورتی کمیشن کی تشکیل کا اعلان ہوا۔امریکا نے برما کے خلاف برسوں سے عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا۔مگر پھر نئی حکومت کی بنیادی کمزوریاں سامنے آنے لگیں۔ آنگ سان سوچی کے اردگرد زیادہ تر وہ لوگ بطور مشیر نظر آنے لگے جنہوں نے سابق فوجی حکومتوں کا بھی حقِ نمک ادا کیا تھا۔

آنگ سان سوچی کو رنگون چھوڑ کر پہاڑوں کے درمیان گھرے نئے دارلحکومت نیپی ڈا منتقل ہونا پڑا۔ وہاں دس دس لین کی دو رویہ سڑکیں اور جدید فائیو اسٹار ہوٹل اور شاپنگ مالز تو ہیں مگر سرکاری ملازموں کے سوا کوئی بھی نہیں بستا۔سوچی کے سب سے قریبی مشیر کیا ٹنٹ سا کی ستر برس کی بیشتر زندگی فوجی جنتا کا سفارتی دفاع کرتے کرتے گذر گئی۔ کابینہ کے کئی وزرا کی تعلیمی اسناد جعلی ثابت ہونے سے سوچی کو پہلی بڑی سیاسی خفت اٹھانا پڑی۔ نسلی مسلح ملیشیاؤں سے شروع ہونے والے امن مذاکرات دو ماہ میں ہی معطل ہو گئے اور نومبر دو ہزار سولہ میں شان اور کاشان ملیشیائیں پھر سے متحرک ہو گئیں۔ہزاروں شان باشندوں نے سرحد پار چینی علاقے میں پناہ لے رکھی ہے۔

نو اکتوبر دو ہزار سولہ کو بنگلہ دیش سے متصل رکھائن کے سرحدی علاقے میں ایک شب خون کے دوران نو برمی پولیس والے ہلاک کر دیے گئے۔ ایک روہنگیا گروپ نے جس کا پہلے کسی نے نام نہیں سنا تھا اس حملے کی ذمے داری کا دعویٰ کیا۔ اس کا جواب برمی فوج نے اجتماعی سزا کی شکل میں دیا۔ املاک کو آگ لگائی گئی، ریپ، اغوا، بے دخلی۔ تازہ مرحلے میں مزید پچھتر ہزار روہنگیا کو سرحد پار چٹاگانگ کے پہاڑی علاقے میں دھکیل دیا گیا جہاں پہلے سے ہی پونے دو لاکھ پناہ گزیں برسوں سے موجود ہیں۔ رکھائن کے تمام بودھ دیہاتوں کے باہر بورڈ لگا دیے گئے۔ یہاں کوئی مسلمان داخل نہیں ہو سکتا ، لین دین نہیں کر سکتا املاک  نہیں رکھ سکتا۔ آنگ سانگ سوچی کے ترجمان نے فوجی کریک ڈاؤن کے دوران ہونے والی زیادتیوں کو افسانہ طرازی اور ریپ کی داستانوں کو من گھڑت قرار دیا۔ این ایل ڈی کے ترجمان ون تھین نے کہا کہ مسلم لابی روہنگیا کے حالات کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہے۔ ویسے بھی اسلام اور بودھ ازم ہر لحاظ سے مختلف ہیں۔

دو ہزار پندرہ کے انتخابات میں نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی نے ایک بھی مسلمان امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ حالانکہ روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ بھی برمی نژاد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شہری حقوق کی جدوجہد میں این ایل ڈی کے شانہ بشانہ رہی ہے۔ کونی ایک معروف مسلمان برمی وکیل تھے اور ان کا شمار آنگ سان سوچی کے بااعتماد مشیروں میں ہوتا تھا۔ کونی نے ہی آنگ سان کے لیے اسٹیٹ کونسلر کا عہدہ تخلیق کرنے کے لیے قانونی مسودہ تیار کیا۔ انتیس جنوری کو رنگون ایرپورٹ کے باہر انھیں گولی مار دی گئی۔ اس وقت ان کا نواسا گود میں تھا۔ آنگ سان سوچی نے شدت پسند بودھ تنظیموں کے ردِعمل کے خدشے کے پیشِ نظر نہ تو کوئی تعزیتی بیان جاری کیا نہ سوگوار خاندان سے رابطہ کیا۔ کوئی ایک ماہ بعد کونی کے لیے تعزیتی اجلاس میں پہلی بار آنگ سان نے سوگواری کے کلمات کہے۔

دسمبر دو ہزار سولہ میں ڈیسمنڈ توتو  اور مشرقی تیمور کے سابق صدر ہوزے راموس ہورتا سمیت ایک درجن سے زائد نوبیل انعام یافتہ شخصیات نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے نام ایک کھلے خط میں خبردار کیا کہ برما میں روہنگیا اقلیت کے خلاف تازہ فوجی آپریشن نسلی صفائی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی حدود چھو رہا ہے۔ چنانچہ سلامتی کونسل نے ایک حقائق جو کمیشن برما بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ آنگ سانگ سوچی کی جانب سے یہ کمیشن مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ کمیشن کی رائے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ہم رکھائن صوبے میں مظالم کی اطلاعات کی خود تحقیقات کر رہے ہیں اور ضروری اقدامات بھی کر رہے ہیں۔

ان دنوں آنگ سان سوچی یورپی ممالک کے دورے پر ہیں اور ہر جگہ انھیں برما میں انسانی حقوق کی تشویش ناک صورتحال پر میڈیائی سوالات کا سامنا ہے اور ہر جگہ انھیں گول مول جواب دے کر ٹالنا پڑ رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ آنگ سانگ سوچی کی اخلاقی طاقت کے سامنے برما سرنگوں تھا۔ آج آنگ سانگ سوچی خاموش سمجھوتے کے دیوتا کے سامنے سرنگوں ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی ہیروئن ہیں جو رنگون میں اپنی بند رہائش گاہ کے گیٹ پر کھڑی ہو کر ہزاروں کے مجمع کو تاریکی چھٹنے کی امید دلاتی تھیں۔ یقین نہیں آتا کہ انھوں نے اپنی نظربندی کے دوران ایک کتاب لکھی تھی جس کا عنوان تھا فریڈم فرام فئیر (خوف سے نجات )۔ یقین نہیں آتا کہ ضمیر کے اس قیدی کو دنیا نے امن کا نوبیل انعام دے کر خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ یقین نہیں آتا کہ ضمیر کا قیدی ایک دن اپنے ہی ضمیر کا قیدی بن جائے گا۔ مگر یہ بھی ہو گیا۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.