Header Ads

Breaking News
recent

واشنگٹن کا افغان خواب

پاکستان اور افغانستان کے مابین متعدد مذاکراتی دور ہوتے رہے جن کا مقصد
افغانستان کی پیچیدہ صورت حال کا کوئی ممکنہ حل تلاش کرنے کی سعی تھا؛ تاہم ہر کوشش افغانستان میں امن واستحکام کی جانب پیش رفت کرنے یا پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے بجائے پیچیدگی کی ایک اور پرت کے اضافے پر منتج ہوئی۔ قطر مذاکرات سے مری امن عمل تک پاکستان کی تمام مساعی، جو امن ذرائع سے پرامن مذاکرات کی حمایت میں کی گئیں انہیں مزاحمت، دھوکے اور بعض صورتوں میں ان سٹیک ہولڈرز کی موت کی شکل میں جواب ملا، جن کی بحالی امن کے لیے شدید ضرورت تھی۔

افغان جنگ کی یہ ان کہی داستان امریکہ اور پاکستان کے درمیان عدم اعتماد کا نتیجہ ہے۔ جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور اس نے افغانستان کو دھواں دھار فضائی حملے کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر تیس ہزار سے زیادہ بم برسا دیے تو اسے زمین پر ایک اتحادی کی ضرورت محسوس ہوئی، ایسا اتحادی جس کے پاکستانی فوج یا اس کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ساتھ روابط نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے اس کا انتخاب سادہ تھا کہ وہ شمالی اتحاد کو ساتھ ملا کر افغانستان میں طاقت کی ایک مساوات قائم کرے اور یورپ و امریکہ میں مقیم افغانوں کو کابل لا کر حکومت بنائے۔
اس حکمت عملی کے کئی حصہ دار پہلو تھے: 
( 1) کابل کی اقلیتی حکومت جس کی بقا کا انحصار صرف امریکی حمایت پر تھا۔ اس کے ساتھ مستقل تعلق قائم رکھنا لازم تھا۔ 

(2) یہی اقلیتی حکومت ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی ایک بڑے آلہ کار کا کام دے سکتی تھی، اس لیے کہ یہ افغانستان میں ایرانی اثر ورسوخ کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے گی اور یہ اس حقیقت کے باوجود ہو گا کہ امریکی حمایت کے بغیر شمالی اتحاد جو ایک اقلیت کی نمائندگی کرتا ہے جو پشتونوں کی اکثریت والے قبائلی نظام میں اقتدار حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی انتظام سے ایک طرف امریکہ، ایران کو عراق میں اپنا دائرہ اثروسیع کرنے کی گنجائش دینے کے لیے اس کے ساتھ مذاکرات کا موقع پیدا کر سکتا تھا اور دوسری جانب وہ امریکہ ایران تعلقات کو معمول پر لانے کے امکان کا دروازہ بھی کھول سکتا تھا۔ 

(3) اس طرح امریکہ کو موقع مل گیا کہ افغان سرحد کے قریب لے جایا جائے۔ اس سے پاکستان پر یہ الٹا اثر ہو سکتا تھا کہ وہ فوجی، سیاسی اور اقتصادی ذرائع کے حوالے سے امریکی کوششوں سے وابستہ رہے۔
(4) افغانستان اور پاکستان میں بیک وقت جنگ کا مجموعی اثر، واشنگٹن میں جنگی اخراجات کا جواز پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا اور اس کے ساتھ ہی افغانستان میں جنگی اہداف کے حصول میں ناکامی کے لیے اسے ایک مستقبل سبب بھی گردانا جا سکے گا، اس لیے کہ بیک وقت دو جنگی محاذوں پر بروئے کار رہنے سے نہ صرف جنگی مقاصد میں پیچیدگی پیدا ہوگی بلکہ امریکی انتظامیہ کے لیے ضروری ہو جائے گا کہ وہ بیک وقت پاکستان اور افغانستان سے ڈیل کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی اختیار کرے۔ اس سے یہ بات بھی یقینی ہوجائے گی کہ پاکستان امریکہ کے بغیر افغانستان میں اپنا غیر ضروری اثرورسوخ قائم نہیں کر سکتا۔ 

(5) امریکہ کی طرف سے شمالی اتحاد کو افغان حکومت میں اپنا مرکزی پارٹنر بنانے سے افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے روس کے خدشات اور خوف کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ 

(6) اس سے بھارت کو افغانستان میں لانے میں مدد ملے گی بالخصوص اس وقت جب امریکہ، افغانستان میں طاقت کا تناسب تبدیل کرے گا۔

اس حکمت عملی کا پیغام واضح تھا کہ جب این ڈی ایس اور ''را'' پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کرائیں گے تو امریکہ انہیں دوسری طرح دیکھے گا، انہیں سٹرٹیجک ریز وائر کا درجہ دیا جائے گا اور انہیں حسب ضرورت پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ یہ حربہ پاکستانی آپشنز کو غیر موثر کرنے اور جنگ کا مرکز فاٹا، کے پی کے اور بلوچستان کی طرف لے جانے کے لیے اختیار کیا گیا۔ یہ وہ علاقے ہیں جن کی سرحدیں تین ممالک کے ساتھ ملتی ہیں۔ لیکن پاکستان نے امریکہ کی تمام توقعات کے برعکس اپنی جنگی حکمت عملی مضبوط بنیادوں پر مرتب کی، اپنی فوجی اور پیراملٹری فورسز میں اضافہ کیا اور زور دار آپریشن کے ذریعے صرف فاٹا میں 80 فیصد سے زیادہ علاقہ دہشت گردوں سے وگزار کرا لیا۔

 سوات کا پورا علاقہ کلیئر کروایا اور بلوچستان میں صورت حال کو قابو کرکے علیحدگی پسندوں کو مین سڑیم میں لانے کا عمل شروع کیا۔ سب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ پاکستانی عوام کے دل ودماغ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو گئے۔ تمام سیاسی فریق بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت میں یک جان ہو گئے اور ان میں اتفاق رائے پیدا ہوا کہ پاکستان میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
پاکستان کے اندر پاکستانی فورسز کی کامیابی کا یہ مطلب ہے کہ افغانستان میں امریکی اہداف پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ کم از کم یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ جنگ جیت گیا، اس حقیقت کہ باوجود کہ امریکی فوج نے افغانستان میں ہر لڑائی میں کامیابی حاصل کی لیکن وہ جنگ ہار گیا ہے۔ 

دوسرے اب طالبان کیساتھ مذاکرات پاکستان کی موجودگی کے بغیر کرنا پڑیں گے۔ اب ان میں دوسرے فریق حصہ لیں گے جیسے روس چین،  تیسرے، افغان حکومت اور افغان نیشنل فورسز کی کمزور حالت میں دہشت گردانہ حملے افغان حکومت کی قبولیت کے سلسلے میں حقیقی چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چوتھے، پاک افغان بارڈر ایک فلیش پوائنٹ بن جائے گا۔ پاکستان اپنے کنٹرول کے لیے جدوجہد کرے گا، افغان سرپرستی میں پاکستان کے اندر پرتشدد کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا اور بارڈر کا انتظام مضبوط بنائے گا، وہ بارڈر جس کے ذریعے مبینہ طور پر 104 ارب ڈالر مالیت کی منشیات افغانستان سے باہر نکلتی اور پاکستان سے گزرتی ہیں۔ افغانستان میں سترہ برس پر محیط جنگ کے دوران پاکستان کے 75000 افراد جاں بحق ہوئے جن میں بہت بڑی تعداد فوجی شہدا کی ہے۔ تاہم بالآخر ترازو پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ وہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر واقع بستیوں میں دستاویزات چیک کر رہا ہے۔

مستقبل کا ایجنڈا واضح ہے۔ پاکستان کے لیے بارڈر مینجمنٹ اولین ترجیح ہو گی۔ چنانچہ کابل حکومت کو پاکستانی بارڈر کے پار فائرنگ کرنے یا پاکستان کے اندر دہشت گردی کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا ہو گا کیونکہ اس بار اسے پاکستان کی طرف سے پوری قوت کے ساتھ جواب ملے گا۔ لہذا کابل میں اقتدار قائم رکھنے کے لیے اس کی حکومت کو امریکہ کی ایک ایسی نئی حکمت عملی درکار ہو گی جس کا مرکزی نکتہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا یا اسلام آباد کو پریشان کرنا نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے افغانستان کی اپنی پالیسی لازم ہے جس کی قیادت بھی افغان لیڈر شپ کرے۔ اگر افغانستان کو امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب بڑھنا ہے تو افغان حکومت کے علاوہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو تمام جنگو گروپوں کو راستہ دینا ہو گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ افغانستان اگلے بہت بڑے خطرے کی لپیٹ میں آجائے جو داعش ہے۔ 

ڈاکٹر ماریہ سلطان
بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

No comments:

Powered by Blogger.