Header Ads

Breaking News
recent

فیس بک کی حیران کن "ان دیکھی" دنیا ؟

فیس بک ڈیٹا جمع کرنے کے لحاظ سے دنیا کے بااثر ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں  کو معلوم ہے کہ اس کمپنی کے اندر کیا ہوتا ہے اور یہ کام کیسے کرتی ہے؟ دو برس قبل سربیا کے شہر بلغراد کے ولادان جوئلر اور ان کے دوستوں نے فیس بک کے اندرونی مکینزم کا کھوج لگانے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی ٹیم میں ڈیٹا ایکسپرٹ شامل ہیں اور وہ پروجیکٹ 'شیئر لیب' کے تحت فیس بک کی پرتیں الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'اگر فیس بک ملک ہوتی تو اس کی آبادی چین سے زیادہ ہوتی۔'

فیس بک کے پاس اپنے تقریباً دو ارب صارفین کا 300 پیٹا بائٹ (1 پیٹا بائیٹ = 1000 ٹیرابائیٹ) ڈیٹا محفوظ ہے اور صرف 2016 ہی میں اس کی آمدن 28 ارب ڈالر سے متجاوز تھی۔ تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم نہیں جانتے کہ فیس بک کام کیسے کرتی ہے، حالانکہ ہم صارف ہی اسے مفت میں یہ تمام ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں۔ 'ہم سب جب کوئی چیز اپ لوڈ کرتے ہیں یا لوگوں کو ٹیگ کرتے ہیں یا کسی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہیں تو دراصل ہم فیس بک کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔'

ہمارے ان تعاملات (انٹریکشن) کو فیس بک کے پیچیدہ ایلگوردم استعمال کر کے فیس بک کو چلاتے ہیں۔ جوئلر کے مطابق ہمارے رویے اسے ایک پروڈکٹ کی شکل میں ڈھال دیتے ہیں۔ لیکن اس سارے تانے بانے کا سرا ڈھونڈنا آسان کام نہیں۔ جوئلر کے مطابق : 'ہم نے تمام ان پُٹس کی نقشہ بندی کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے لائیکس، شیئرز، تلاش، اپ ڈیٹ سٹیٹس، تصاویر، دوست، نام شامل کرنے کے نقشے اور فلو چارٹ بنائے۔ یہ دیکھا کہ ہماری استعمال کردہ ڈیوائسز سے سے ہمارے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے، ہم فیس بک کو ایپس کے ذریعے کیا کیا اجازتیں دے رہے ہیں، مثلاً فون سٹیٹس، وائی فائی کنکشن اور آڈیو ریکارڈ کرنے کی اجازت۔'

یہ چیزیں تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا رخ ہیں، اس لیے جوئلر کی ٹیم نے یہ بھی دیکھا کہ فیس بک نے اب تک کون سی کمپنیاں خرید رکھی ہیں اور اس کے پیٹنٹ کیا کہانی سناتے ہیں۔ نتائج حیران کن تھے۔ ہم جو ڈیٹا دیتے ہیں ان کی مدد سے فیس بک ہمارے جنسی رویے، سیاسی ترجیحات، سماجی رتبے، سفر کے شیڈیول اور بہت سی دوسری بہت سی چیزوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتی ہے۔ فیس بک پر ہم جو لنک شیئر کرتے ہیں یا جن چیزوں کو لائیک کرتے ہیں، وہ صرف فیس بک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک بہت بڑے ایلگوردم کا حصہ بن جاتے ہیں جن میں انسٹاگرام، وٹس ایپ، اور دوسری ایسی سائٹیں شامل ہیں جو فیس بک کا لاگ ان استعمال کرتی ہیں۔

اس سارے عمل کے ذریعے فیس بک اپنے صارفین کے بارے میں دہشت زدہ کر دینے والی درستگی سے معلومات حاصل کرتی ہیں، مثلاً کیا ہمیں چائینیز کھانے پسند ہیں، ہمارے بچوں کی عمریں کیا ہیں یا پھر ہمیں گھر سے دفتر پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ جوئلر کا ایک اور فلو چارٹ بتاتا ہے کہ ہم فیس بک کو نادانستگی میں اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹیکسٹ میسج پڑھ سکے، ہماری اجازت کے بغیر فائلیں ڈاؤن لوڈ کرے اور یہ جان سکے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں۔
ان تمام چیزوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جوئلر کہتے ہیں: 'اگر آپ کُکیز، موبائل فون پر دی گئی اجازتوں، یا پھر (تصاویر) میٹا ڈیٹا کے بارے میں سوچیں۔ ان میں سے ہر چیز انتہائی دخل اندازی کرنے والی ہے۔'

فیس بک کہتی چلی آئی ہے کہ اس کے لیے صارفین کی پرائیویسی مقدم ہے۔ تاہم جوئلر کہتے ہیں کہ اس کے طویل مدتی مضمرات زیادہ تشویش ناک ہیں۔ یہ سارا ڈیٹا ایک ہی کمپنی کی مٹھی میں رہتا ہے۔ اگر فرض کیا کہ آج فیس بک چلانے والے قابلِ اعتماد ہیں، لیکن 20 سال بعد کیا ہو گا؟ اس وقت کمپنی چلانے والے لوگ کیسے ہوں گے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ شیئر لیب کا کام قابلِ قدر ہے۔ کورنیل ٹیک کی ڈاکٹر جولیا پاؤلز کہتی ہیں: 'میں نے اب تک جو کام دیکھے ہیں یہ ان میں سب سے جامع ہے۔ اس تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم صرف اپنے دوستوں سے رابطہ رکھنے کی خواہش میں کیا کچھ دے رہے ہیں۔'

ڈاکٹر پاولز کے مطابق: 'ہم نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تاریخی موازنہ نہیں کیا۔' وہ کہتی ہیں کہ ان کی طاقت ایسٹ انڈیا کمپنی یا پھر سٹینڈرڈ آئل کی اجارہ داری سے بھی 'کہیں بڑھ کر ہے،' اور فیس بک ہماری لوگوں میں مقبول ہونے کی نفسیات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ پاولز وہ نہیں سمجھتیں کہ شیئر لیب کے تحقیق سامنے آنے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں فیس بک چھوڑنا شروع کر دیں گے۔ تاہم جوئلر کے نقشے بھی فیس بک کی طاقت کی مکمل تصویر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے علاوہ بہت سے خفیہ ایلگوردم بھی کام نہ کر رہے ہوں۔ ان کے خیال میں 'اس کے باوجود یہ ہماری دنیا کی صورت گری کرنے والی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔'

بشکریہ بی بی سی اردو

جو ملر
نمائندہ برائے ٹیکنالوجی بزنس
 

No comments:

Powered by Blogger.