Header Ads

Breaking News
recent

دیوار چین کی تعمیر : چینی قوم کی محنت کی روشن دلیل

انسانی معاشرے کی تاریخ زمانہ قبل از تاریخ سے ہی خانہ بدوش حملہ آوروں اور متمدن انسانی آبادیوں کے درمیان آویزشوں اور چپقلشوں کی کہانی ہے۔ قدیم انسانی معاشرے کی ان ابتدائی چپقلشوں کا نشان، آج دنیا کے کسی ملک میں بھی اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہمارے ہمسایہ ملک چین میں ہے۔ عظیم دیوار چین انسانی معاشرے کی انہیں قدیم آویزشوں کی علامت ہے۔ یہ عظیم عجوبہ روزگار دیوار مہذب انسانی آبادیوں کو وحشی پن اورتاتاری خانہ بدوشوں کی یورشوں سے بچانے کے لیے تیسری صدی قبل از مسیح میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ شمالی چین کے پہاڑوں پر سے بل کھاتی ہوئی وسطی ایشیا کے دور دراز علاقوں تک چلی جاتی ہے۔

چین میں وحشی خانہ بدوش قبائل سے متمدن انسانی آبادیوں کی حفاظت کیلئے ایسی حفاظتی دیواروں کی تعمیر کی ابتدا چوتھی صدی قبل از مسیح میں ہوئی تھی۔ بعض مؤرخین کے نزدیک حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے کا آغاز چین کے شہروں کے گرد حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے سے ہوا۔ تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے عظیم ہَن شہنشاہ شی ہوانگ تی نے مختلف ریاستوں میں بنے ہوئے اس ملک کو اتحاد کی رسی میں پرو کر ایک مملکت میں بدل دیا۔ 221 ق م میں اسے سارے چین کا شہنشاہ تسلیم کر لیا گیا۔ اپنی مملکت کی شمالی سرحد کو وحشی اورتاتاری خانہ بدوشوں کے متواتر حملوں سے بچانے کے لیے اس نے 215 ق م میں ایک طویل دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس کام کیلئے شہنشاہ نے اپنی مملکت کے ہر تیسرے شہری کوجبری طورپر اس دیوار کی تعمیر پر لگا دیا۔ 

کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ سے زائد انسانوں نے مسلسل دس سال تک اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ اس دیوار کے متعلق حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر پر اٹھنے والے خرچ میں شہنشاہ کے خزانے کا تمام تر روپیہ صرف ہو گیا اگرچہ یہ دیوار صرف مٹی اورپتھروں اورجبری مشقت سے تعمیر کی گئی تھی اوراس دیوار کے صرف کچھ مشرقی حصے ہی اینٹوں سے تعمیرکئے گئے تھے۔ شہنشاہ شی ہوانگ تی اس دیوار کی تعمیر اور اتحاد چین کے علاوہ تانبے کا ایک نیا سکہ جاری کرنے ، ریشم کو رواج دینے، اوزان اورپیمانوں کو ایک معیار پر لانے، ایک بڑی نہر اور کئی بڑی بڑی شاہراہیں تعمیر کرنے کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس کے عہد میں 213 ق م میں وہ فرمان جاری کیا گیا جسے کتابوں کی آتش زنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس فرمان کے ذریعے شہنشاہ نے زراعت، طب اور کہانت کے علاوہ تمام علوم کے متعلق کتابیں تلف کر دینے کا حکم دیا تھا۔ ہن خاندانی بادشاہت کے بعد چین پرتھوڑی تھوڑی مدت کیلئے کئی اور حکمران خاندان برسراقتدار آئے مگر یہ سب اپنے دیگر داخلی امور میں اتنے الجھے رہے کہ اس خاندان کے کسی حکمران نے بھی اس عظیم حفاظتی دیوار کی تعمیر و مرمت پرتوجہ نہ دی اور صدیاں گزر گئیں۔

1234ء میں چن خاندانی باشاہت کو چنگیز خان نے اقتدار سے محروم کر کے چین میں منگول خاندان کی بنیاد رکھی۔ چنگیز خان کی تاتاری افواج عظیم دیوار چین ہی کو روند کر شمالی سرحد سے چین میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ چودہ سو سال میں پہلا واقعہ تھا جب صحرائے گوبی سے آنے والے خانہ بدوشوں نے اتنے وسیع پیمانے پرمتمدن انسانی آبادیوں پراپنا اقتدار قائم کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شمالی سرحد کی حفاظتی دیوار کی شکست و ریخت بھی تھی۔ 1368ء میں منگ خاندان نے تاتاریوں کو چین سے نکال دیا اورشمالی سرحد کو پھرسے مضبوط بنایا۔ 1420ء میں اسی خاندان کے شہنشاہ ینگ لو نے عظیم دیوار چین کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا۔ اس نو تعمیر شدہ دیوارکی بلندی 22 فٹ سے 26 فٹ (6.7سے8میٹر) رہ جاتی ہے۔

دیوار زیادہ تر پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے اور اس کے درمیانی خلا کو مٹی اوراینٹ روڑے سے پر کیا گیا ہے۔ جس پر پھراینٹوں کا فرش بچھایا گیا ہے دیوار کی شمالی طرف گنگرہ دار مورچے رکھے گئے ہیں اورتقریباً ً590 فٹ یا 180 میٹر کے بعد نگہبانی کے لیے ایک چوکور مینار تعمیر کیا گیا ہے جس میں وقفوں کے بعد محرابی طاقچے رکھے گئے ہیں۔ انہیں میناروں کی چھتوں پرمشاہدے کے لیے بالاخانے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ اہم دروں خاص طورپر پیکنگ کے شمال میں کاروانوں کی گزر گاہوں کے قریب دیوارکی دوگنا یاسہ گنا شاخیں تعمیر کی گئی ہیں جن سے یہ مقامات وحشیوں کے حملہ سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ 

اپنی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ یہ دیوارتقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً چار کروڑ 72 لاکھ کیوبک فٹ مٹی اور تقریباً ایک کروڑ 57 لاکھ کیوبک فٹ پتھر اوراینٹیں صرف ہوئی ہیں۔ تاریخ عالم میں انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی یہ سب سے بڑی دیوار اورسب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے۔ زمین کا یہ واحد انسانی تعمیر شدہ شاہکار ہے جسے چاند اور مریخ جیسے دور دراز کے سیاروں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بنیادی طورپر دیوار چین فوجی (دفاعی) مقاصد کے لیے تعمیر کیا گیا ایک شاہکار ہے مگر اس کی تعمیر کے کئی اور بھی مقاصد ہیں جیسے پہاڑی علاقوں میں رسل و رسائل کا یہ بڑا ذریعہ ہے بہ صورت دیگران پہاڑی علاقوں میں رسل و رسائل ایک مشکل کام ہے۔ ایک شاہرہ کے طور پر اس دیوار کی کشادگی اتنی ہے کہ اس پر سے پانچ یا چھ گھڑ سوار ایک ساتھ گزر سکتے ہیں۔

فوجی انجینئرنگ کے اس عظیم شاہکار میں دیگر تعمیرات عالم میں پائے جانے والے جومالیاتی پہلو یا جمالیاتی آراستگی کا بہت کم خیال رکھا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ اپنے خوب صورت زمینی منظر میں بڑی بھلی معلوم دیتی ہے بلکہ ایک طرح سے ایک عظیم جمالیاتی شاہکار نظرآتی ہے۔ چینیوں کے اس خیال کی ایک زندہ مثال بھی ہے کہ انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی ہرعمارت اس خطے کے قدرتی اصولوں کی تابع ہوتی ہے جس پر وہ تعمیر کی گئی ہے۔ شاید اسی اصول کے تابع ہونے کی وجہ سے پہاڑی چوٹیوں پربل کھاتی ہوئی یہ عظیم دیوار چین کے روایتی اژدھے کا روپ دھار لیتی ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.