Header Ads

Breaking News
recent

صدر ٹرمپ کے سو دن : کيا کھويا، کيا پايا ؟

امریکی صدر جمہوری انتخابات کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں لیکن ناقدین کے خیال
میں ان کے بعض اقدامات غیر جمہوری اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہیں۔ انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں بھی ناقدین کی ہاں میں ہاں ملانے لگی ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انسانی حقوق کی 100 خلاف ورزیوں کی فہرست ترتیب دی گئی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم کے مطابق یہ صدارت کے ابتدائی 100 دنوں میں کی گئیں۔ اس بارے میں تنظیم کی امریکی شاخ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارگریٹ ہوانگ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملک کی 55 سالہ تاریخ میں جس قدر خوف و ہراس اس وقت ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتیں الفاظ کی حد تک ہی سہی لیکن انسانی حقوق کو امریکہ کے قومی مفاد کے مطابق قرار دیتی تھیں لیکن موجودہ صدر انسانی حقوق کے معاملے کو قابل غور نہیں سمجھتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کی مذمت کرنے سے بھی گریز کیا ہے اور بظاہر نسل پرستی اور تعصب کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کی پردہ پوشی کی کوشش بھی کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان کے بعض اقدامات امریکہ میں سیاہ فاموں سے ان کے متعصبانہ رویے کا عندیہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے جیف سیشنز کو اٹارنی جنرل کے طور پر منتخب کیا۔ قبل ازیں امریکی سینیٹ کی کمیٹی سیشنز کی جانب سے نسل پرستانہ آرا کے اظہار کی متعدد اطلاعات پر انہیں وفاقی جج بنانے پر اعتراض اٹھا چکی تھی۔ 

عہدہ سنبھالنے کے بعد سیشنز نے مقامی پولیس کی طرف سے سیاہ فاموں سے کی جانے والی زیادتیوں کی نگرانی کے عمل کو روک دیا ۔ اسی طرح صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتے بعد ٹرمپ نے سات عرب ممالک کے باشندوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگا دی۔ اس کی وجہ سے امریکہ میں مقیم بہت سے خاندان منقسم ہو گئے اور بین الاقوامی سطح پر سخت رد عمل بھی ظاہر ہوا۔ وفاقی عدالت نے اسے غیر آئینی گردانا اور اس پر سے پابندی اٹھا لی۔ اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مؤقف پر اڑے رہے اور ایک بار پھر ویسی ہی کوشش کی جسے امریکی عدلیہ نے دوبارہ ناکام بنا دیا۔ امریکی انتظامیہ نے ملک میں مہاجرین کی سالانہ آمد کو ایک لاکھ 10 ہزار سے کم کر کے 50 ہزارکر دیا ہے۔

ڈونلڈٹرمپ ملک میں موجود شامی مہاجرین کو واپس بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ میکسیکو کے مہاجرین کو نکالنے اور میکسیکو کی سرحد کے قریب اربوں ڈالر کے خرچ سے دیوار بنانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں تا کہ بلا اجازت نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ ایمنسٹی کے مطابق امریکی صدر نے امیگریشن اور کسٹمز کے محکموں کے اختیارات اسی مقصد کے تحت بڑھا دیئے ہیں۔ امریکا میں صحافیوں اور حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو بھی امریکی صدر کے اقدامات اور ان کے بیانات سے شکایت ہے۔ وہ ملک کے بڑے صحافتی اداروں کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کر چکے ہیں اور انہیں ’’امریکی عوام کا دشمن‘‘ کہہ چکے ہیں۔

صحافی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ٹرمپ کو آزادی صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکی مسلمانوں کو بھی ٹرمپ سے شکایت ہے۔ ان کی جانب سے جن ممالک کے باشندوں کو روکنے کی کوشش کی گئی وہ مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ انہوں نے ہوائی جہاز پر سفر کے دوران جن چند ممالک کے مسافروں پر لیپ ٹاپ کے استعمال پر پابندی لگائی ان میں شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک شامل تھے۔ سائنس دان اور ماحولیات کی بہتری کے لیے کام کرنے والے بھی ٹرمپ سے نالاں ہیں۔ انہوں نے ماحول کے تحفظ کے لیے قائم امریکی ادارے کی فنڈنگ میں خاصی کمی کردی ہے۔

اسی طرح انہوں نے شعبہ تعلیم کے بجٹ میں نو بلین ڈالر کی کمی کی ہے جس سے کم آمدن والے خاندان خاص طور پر متاثر ہوں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے عورتوں کے بارے میں متعصبانہ اور غیرمحتاط زبان استعمال کرنے کی شکایت عام ہے ۔ اسی لیے عورتوں کی بڑی تعداد نے عہدہ سنبھالتے ہی ٹرمپ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ ان کی جانب سے محکمہ صحت میں کی جانے والی کٹوتیوں سے عورتوں اور لڑکیوں کو ملنے والی صحت کی سہولیات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رضوان عطا

No comments:

Powered by Blogger.