Header Ads

Breaking News
recent

امریکہ کا جنگی جنون

امریکہ آج کے دور کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ اس کی فوج تقریباً 13 لاکھ
69 ہزار سے زائد جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ریزرو فوجیوں کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ امریکا کا دفاعی بجٹ سالانہ 585 ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ خفیہ اداروں کو بھی اربوں ڈالر دیئے جاتے ہیں۔ سی آئی اے کا بجٹ 16 ارب ڈالر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ سولہ خفیہ امریکی اداروں پر گذشتہ بارہ برسوں میں 52.6 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق خفیہ اداروں کو فراہم کیے جانے والے فنڈز بلیک فنڈز کہلاتے ہیں۔

امریکا کی 16 خفیہ ایجنسیوں میں ایک لاکھ 7ہزار 35 افراد ملازم ہیں بجٹ کب، کیسے اور کہاں خرچ کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات کسی کو معلوم نہیں کسی آپریشن کی کامیابی، ناکامی، یہاں تک کہ ہدف کے حصول کے متعلق بھی معلومات میسر نہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ سی آئی اے اور این ایس اے نے دیگر ممالک میں سائبر حملوں کی کاروائی شروع کر رکھی ہے۔ جس کے لیے خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران، چین، روس، کیوبا اور اسرائیل امریکی جاسوس اداروں کے ٹارگٹ جبکہ دیگر ممالک کے مقابلوں میں پاکستان سی آئی اے کی جاسوسی کا خاص ہدف ہے۔ اس وقت 39 ممالک میں امریکا کے 820 مستقل فوجی اڈے موجود ہیں جبکہ دنیا کے 150 ممالک میں امریکی فوجی کسی نہ کسی طرح متمکن ہیں۔ 
امریکی بحری بیڑے دنیا بھر میں اس کے مفادات کے تحفظ کے ضامن ہیں جبکہ میزائل ڈیفنس سسٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی تسلط کے تحفظ کا کام لیا جاتا ہے۔ 1775ء سے 1783ء تک امریکیوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد امریکا نے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بنایا اور آس پاس موجود کئی جزیروں اور چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضے شروع کر دیئے۔ 1861ء میں امریکا کو خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ پر قابو پانے کے بعد امریکا کے سامراجی عزائم کا آغاز ہوا۔ امریکا نے پہلی سامراجی جنگ اسپین کی کالونیاں کے حاصل کے لیے لڑی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکا نے براعظم سے باہر قدم رکھا اور فلپائن، گوام سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

اس کے بعد 1913ء تک فلپائن میں ہزاروں افراد کو امریکی قبضہ مضبوط کرنے کی غرض سے ہلاک کر دیا گیا۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا کر امریکا نے اپنے سامراجی عزائم کا اظہار کیا۔ امریکا نے 1946ء سے لے کر 1989ء کے عرصہ میں سرد جنگ کے دوران عالمی محاذ آرائی پر 100 کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقم صرف کی۔ آج امریکی معیشت اس قومی خزانے کے بے پناہ اصراف کے بعد سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اگر صرف 50 کھرب ڈالر سے کچھ زائد رقم کو بھی منظم طور پر خرچ کیا جاتا تو دنیا بھر میں غربت، بے گھری، بیماری، بھوک، جہالت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جا سکتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران وہائٹ ہائوس کے مکین امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے کہا تھا کہ ’’اگرجنگ عظیم میں اتحادی فوجوں کو فتح حاصل ہوتی ہے تو ہم اپنے آپ کو مستقل طور پر ایک ایسی فوجی طاقت میں ڈھال لیں گے جس کی بنیاد جنگوں کی معیشت پر ہو گی۔ ‘‘ کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر، نامور جغرافیہ دان اور معیست دان فلپ لی بیلن Philippe Lebillon نے جنگوں کی معیشت کو قدرے زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔ فلپ کہتے ہیں کہ ’’جنگوں کی معیشت ایک ایسا نظام ہے جو تشدد کو پروان چڑھانے اور باقی رکھنے کے لیے وسائل مہیا کرتا ہے۔ یہ نظام ان وسائل میں حرکت پذیری کو جنم دیتا ہے، پھر ان وسائل کو تشدد کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

جمیل خان

No comments:

Powered by Blogger.