Header Ads

Breaking News
recent

فیس بک انتظامیہ آپ کی پوسٹ کو کیسے مانیٹر کرتی ہے ؟

سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک کے حال ہی میں افشاں ہونے والے پالیسی دستاویزات کے بعد اسے تنقید کا سامنا ہے، کیوں کہ دستاویزات میں فیس بک کی کئی کمزوریاں دنیا کے سامنے آ گئیں۔ افشاں ہونے والے دستاویزات پتہ چلتا ہے کہ جہاں فیس بک انتظامیہ کے پاس لائیو ویڈیوز کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، وہیں ان کی جانب سے نفرت انگیز، دل آزاری کا سبب بننے والی ویڈیوز اور تصاویر کی روک تھام سمیت بڑھتی ہوئی ہراسمنٹ، روینج پورن اور سیکسزم کو روکنے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

فیس بک پالیسی کے دستاویزات سب سے پہلے برطانوی اخبار نے دیکھنے اور ان کا جائزہ لینے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم دیگر نشریاتی اداروں میں بھی پالیسی دستاویزات پر حیران کردینے والی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں۔ افشاں ہونے والے دستاویزات کے مطابق مارچ 2017 تک فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک ارب 94 کروڑ ہو چکی تھی، مگر اس وقت تک ان صارفین کے ہر طرح کے مواد کو مانیٹر کرنے کے لیے فیس بک کے پاس صرف 4 ہزار 500 ماڈریٹرز تھے۔ اگر ان ماڈریٹرز کو صارفین کے حوالے سے تقسیم کیا جائے تو ایک ماڈریٹر مجموعی پر 4 لاکھ 31 ہزار 111 فیس بک صارفین کی ہرطرح کی پوسٹیں اور مواد کو مانیٹر کرتا ہے۔

فیس بک پر حالیہ مہینوں میں لائیو ویڈیوز کے دوران قتل، خودکشی اور ریپ جیسے واقعات بڑھ جانے کے بعد بانی مارک زکر برگ نے مزید 3 ہزار ماڈریٹر بھرتی کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اگر آنے والے چند ہفتوں تک مزید ماڈریٹر بھرتی بھی کیے جاتے ہیں، تو تمام ماڈریٹرز کی تعداد بڑھ کر ساڑھے 7 ہزار ہو جائے گی، جس کے بعد ہر ماڈریٹر کے پاس 2 لاکھ 58 ہزار 677 صارفین کی ذمہ داری آجائے گی۔ فیس بک کو اس وقت ہر ہفتے دنیا بھر سے 65 لاکھ جعلی اکاؤنٹس کی شکایات موصول ہوتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس کی جانب سے صارفین کو بلیک میلنگ، جنسی تشدد، قتل، دہشت گردی، روینج پورن اورتذلیل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں شکایتیں موصول ہونے کے بعد فیس بک ماڈریٹر ہر ماہ جنسی تشدد، بلیک میلنگ، ریپ اور روینج پورن سے متعلق صرف 54 ہزار پوسٹوں اور مواد کا ہی جائزہ لے پاتے ہیں۔ مجموعی طور پر ہر ایک ماڈریٹر فیس بک صارف کی پوسٹ یا مواد کا صرف 10 سیکنڈ تک ہی جائزہ لے پاتا ہے، ان 10 سیکنڈز میں اسے اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ شیئر کی گئی پوسٹ پرتشدد ہے یا نہیں؟

No comments:

Powered by Blogger.