Header Ads

Breaking News
recent

انتہائی طاقت ور اینٹی بائیوٹک کی تیاری

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اینٹی بائیوٹک ادویات کا اندھا دھند اور بے ڈھنگا استعمال کیا جاتا ہے۔ انہیں کسی پیشہ ور ڈاکٹر کے مشورے سے مطلوبہ مقدار اور عرصے کے لیے استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں صحت، خوراک کے تحفظ اور ترقی کو درپیش سب سے بڑ ے چیلنجز میں سے ایک اینٹی بائیوٹک ادویات کی مزاحمت ہے۔ اس مزاحمت کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک متعدد امراض کے لیے کم مؤثر ہوتی جارہی ہیں. کیونکہ جراثیم ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ ان کے کم مؤثر یا غیر مؤثر ہونے کی ایک وجہ ان کا لاپرواہی سے استعمال بھی ہے۔

اس کے لیے افراد کے رویوں میں تبدیلی آنی چاہیے تا کہ وہ اینٹی بائیوٹک کا غلط استعمال نہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی ادویات کی تیاری کی کوششیں جاری ہیں جن کے خلاف جراثیم میں مزاحمت پیدا نہ ہو۔ اسی سلسلے میں سائنس دانوں کو ایک کامیابی ملی ہے اور وہ ایک اہم اینٹی بائیوٹک میں ایسی تبدیلیاں کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن سے وہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے خلاف زیادہ مؤثر ہو گئی ہیں۔ وینکو مائی سین گزشتہ 60 سال سے ڈاکٹروں کے نسخوں کی زینت بن رہی ہے لیکن اب بیکٹیریا میں اس اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا ہو گئی ہے۔ امریکا میں قائم سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سائنس دانوں نے اس دوا میں اہم تبدیلیاں کی ہیں جن کی وجہ سے بیکٹیریا کے لیے ان کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ 

محققین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وینکومائی سین کی نئی قسم کو اس ڈر کے بغیر مریضوں کو تجویز کر سکتے ہیں کہ اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہو گی۔ وینکو مائی سین کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے میں طویل عرصہ لگا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیکٹیریا کے لیے دوا کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا آسان نہیں تھا۔ وینکو مائی سین انفیکشن کے خلاف انتہائی مؤثر دوا ہے۔ مذکورہ ٹیم کی قبل ازیں کی جانے والی تحقیقات کے مطابق دوا میں دو طرح کی تبدیلیاں ممکن تھیں جن سے بیکٹیریا کی مزاحمت کا توڑ کیا جاسکتا تھا۔ اب مزید ایک اور تبدیلی کا پتا چلا ہے۔ سابقہ اور حالیہ تبدیلیوں کے بعد وینکومائی سین کے اثر میں ایک ہزار گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ یوں ڈاکٹروں کو اب اسے کم مقدار میں تجویز کرنے کی ضرورت ہو گی۔

نئی دوا کو ’اینٹرو کاکی بیکٹیریا‘ کے خلاف آزمایا گیا۔ نئی دوا نے پرانی دوا کی مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا کو مار ڈالا۔ اس بیکٹیریا کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کا مؤقف ہے کہ ادویات کے خلاف اس کی مزاحمت نسل انسانی کی صحت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ محققین کا کہنا کہ اب دوا تین طرح سے بیکٹیریا پر حملہ آور ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ایک سے بچ نکلیں تو دوسرا انہیں مار ڈالتا ہے۔

رضوان عطا

 

No comments:

Powered by Blogger.