Header Ads

Breaking News
recent

نیٹو کی میٹنگ میں اگلی صف میں آنے کے لئے صدر ٹرمپ کا دھکا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی برسلز میں نیٹو کی میٹنگ میں شرکت سوشل میڈیا کا گرما گرم موضوع ہے۔ دنیا کی سب سے اچھی جمہوریت کے سربراہ کو وزیراعظم مونٹینگرو ڈسکو مارکو وچ کا اگلی صف میں کھڑا رہنا ایک آنکھ نہ بھایا ۔ 12 سال کے بچے کی طرح پہلے وہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینت ٹیل سٹال برگ کا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھے اور پہلے سے موجود صدر مارکو وچ کو دھکا مار کر ان کی جگہ لے لی۔ دنیا بھر میں وائرل ہونے والی تصویر میں صدر ٹرمپ اگلی صف میں فخریہ انداز میں کھڑے ہیں اور جی سیون ممالک کے وزرائے اعظم ان کی اس حرکت کو انجوائے کر رہے ہیں ،ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سب نے دیکھی تھی۔ ٹرمپ کا کہنی مارنا اور مارکو وچ کو پیچھے دھکیلنا عالمی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

اگلی صف میں پہنچتے ہی صدر نے اپنا سوٹ اور ٹائی درست کی، سینہ پھلایا اور کچھ ایسا انداز اپنایا جیسا میسولینی سے مخصوص سے ہے۔ میسو لینی کے کھڑے ہونے کا یہی انداز تھا۔ کھسیانے مارکووچ نے پہلے تو رپورٹروں سے نظریں چرانے کی کوشش کی ، بعد میں کہنے لگے ۔۔’’بے شک یہ قدرتی سی بات ہے کہ امریکی صدر کو پہلی صف میں ہی کھڑا ہونا چاہئے۔ یہ تو ایسی کوئی بات نہیں‘‘ یہ صورتحال بہت دلچسپ ہے۔ عالمی میڈیا مارکو وچ پر تنقید کے نشتر برسانے میں مصروف ہیں ۔ مانٹینگرو سابق یوگو سلاویہ کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے ،اسے شائد اگلے ماہ نیٹو کی ممبر شپ مل جائے ۔ اس چھوٹی سے ریاست کے وزیراعظم کے لیے امریکی صدر کا دھکا بھی شاید قابل فخر ہے اور باعث مسکراہٹ ہے۔ ادھر اپنے پہلے خطاب میں امریکی صدر نے نیٹو پر خوب غصہ اتارا ۔ ان کا اصل غصہ نیٹو کی جانب سے نئے ہیڈ کوارٹر کی تعمیر سے متعلق ہے جسے انہوں نے فنڈز کا ضیاع قرار دیا ۔
 

No comments:

Powered by Blogger.