Header Ads

Breaking News
recent

قدیم استنبول کی شاندار تعمیرات

قدیم استنبول تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے شمال میں ایک

چھوٹی سی خلیج ہے جس کو گولڈن ہارن یا شاخ زریں کہتے ہیں۔ مشرق اور جنوب میں بحیرۂ مارمرا اور آبنائے باسفورس ہیں جبکہ مغرب میں خشکی ہے۔ گولڈن ہارن آبنائے باسفورس سے ایک شاخ کی صورت میں دور تک خشکی میں چلی جاتی ہے جہاں پرایک دریا اس میں آن ملتا ہے یہی شاخ زریں قدیم استنبول کو جدید استنبول سے جدا کرتی ہے جدید استنبول شاخ زریں کے شمال اور شمال مغربی حصے سے لے کر بحیرۂ اسود تک جانے والی آبنائے باسفورس کے دونوں اطراف دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ استنبول کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا حصہ شاخ زریں کے شمال اور شمال مغربی حصے سے لے کر آبنائے باسفورس کے مغربی کنارے تک جو بحیرہ اسود کے قریب ساری یر تک جاتا ہے۔

اس حصہ میں غلطہ کارا کوئے بیشک تاش،سسلی اور باسفورس یونیورسٹی شامل ہے۔ دوسرا حصہ شاخ زریں کے شمالی مغرب سے لے کر قدیم استنبول تک جاتا ہے جس میں باکر کوئے اتاترک انٹرنیشنل ایئر پورٹ، ایوب سلطان فاتح ایمی نونو، بایزید غازی عثمان پاشا اور زیتون برنو شامل ہے۔ تیسرا حصہ استنبول کا ایشیائی حصہ ہے جو باسفورس کے مشرقی کنارے پر بے کوز کار تال اسکودار کاری کوئے چاملی جا پر مشتمل ہے ۔ غیر ملکیوں کے لیے دوسرا حصہ زیادہ پرکشش ہے ایمی نونو میں سرخ رنگ کی اومنی بسوں کا بہت بڑا اڈا ہے جس کے ساتھ ہی اندرون شہر چلنے والے بڑے بڑے اسٹیمروں اور بحری جہازوں کی بندرگاہ بھی ہے۔  ایمی نونو میں غلطہ پل کے قریب سلطان محمد چہارم کی والدہ ترہان سلطان کی مسجد ہے۔ ایمی نو نو سے اوپر کو چڑھتی ہوئی گلیوں سڑکوں کے اختتام پر سرکیجی کا علاقہ شروع ہوتا ہے ۔ اگر کسی کو اپنے قیامِ استنبول کے دوران سستے ہوٹلوں میں رہائش اور کھانا درکار ہو تو سرکیجی سے بہتر اور مناسب کوئی جگہ نہیں ہے لیکن اس بچت میں لٹنے کا احتمال بھی ہے۔

(اقتباس لاہور سے استنبول)
م ح سیاح


No comments:

Powered by Blogger.