Header Ads

Breaking News
recent

امریکا اور روس کا شام پر کیا موقف ہے ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان ملاقات کے تناظر میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ’’ امریکا اور روس کے درمیان مذاکرات سے کسی نتیجے پر پہنچنا قبل ازوقت ہو گا‘‘۔ ٹرمپ اور روس کے درمیان شام کے حوالے سے تعلق داری کوئی غیر مستحکم نہیں ہے۔اگرچہ کہ واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کو چلتا کرنے کے بعد سے ایک سیاسی طوفان برپا ہے۔ ٹرمپ اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن شام کے سوال پر امریکا کی خارجہ پالیسی کو بالکل درست سمت میں چلا رہے ہیں۔

ٹیلرسن جب گذشتہ ماہ ماسکو گئے اور صدر پوتین سے بند کمرے کی ملاقات کے بعد باہر نکلے تھے تو انھوں نے دو بڑی طاقتوں کے درمیان ’’کم ترین سطح کے اعتماد‘‘ پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا:’’ دنیا کی سب سے اہم دو جوہری طاقتیں اس طرح کے تعلقات نہیں رکھ سکتی ہیں‘‘۔ روسی پریس نے تو ٹرمپ، لاروف کی ہنستے مسکراتے تصاویر شائع کی ہیں لیکن اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو سے یہ بھی اپیل کی تھی کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کے رجیم اور اپنے قریبی اتحادی ایران کو بھی قابو کرے۔ صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں سرگئی لاروف کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’’ بہت بہت اچھی‘‘ قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی انھوں نے شام میں خوف ناک ہلاکتوں کا سلسلہ روکنے پر بھی زور دیا تھا۔

انھوں نے شام میں جاری بحران کے خاتمے میں پیش رفت کا بھی دعویٰ کیا تھا۔انھوں نے ملاقات کے فوری بعد کہا تھا:’’ ہم نے بہت بہت اچھی ملاقات کی ہے اور ہم شام میں ہلاکتوں اور اموات کو روکنے جا رہے ہیں‘‘۔ غوغا آرائی کا یہ تمام کھیل شام میں جاری خانہ جنگی کے فوجی اور سیاسی حل کی تلاش کی غرض سے پس پردہ چلنے والے عمل کا حصہ ہے مگر اس کا مقصد اس تمام عمل کی ایک طرح سے پردہ پوشی کرنا بھی ہے۔ امریکا کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھی عین اس وقت صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی ،جب لاروف نے یہ ملاقات کی تھی۔

امریکا اور روس شام کو واضح طور پر اپنے اپنے اثرورسوخ کے مطابق محفوظ پناہ گاہوں کی کارروائیوں کے لیے تقسیم کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس شام کے مشرق میں ان محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کے لیے پینٹاگان کے ایک منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔اس مقصد کے لیے مقامی فورسز کی مدد کی جا رہی ہے۔ اس کا ایک اضافی مقصد شام اور عراق کے درمیان سرحدی سکیورٹی کا بندوبست بھی ہو گا۔ روس ، ایران اور ترکی شام کے اسرائیل اور لبنان کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں میں چار محفوظ زونز قائم کر رہے ہیں۔ امریکی اور روسی حکام اسرائیل کو یہ ضمانت دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ روسی فوجی اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں کے نزدیک تعینات ہوں گے ، حزب اللہ کے جنگجو نہیں۔

امریکا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ روسی چیف آف اسٹاف جنرل ولیری گیراسیموف اور اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گیڈی آئزنکاٹ سے اس سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں اور ان کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ وہ نہ صرف سیف زونز پر گفتگو کر رہے ہیں بلکہ وہ ہر وقت مواصلاتی روابط استوار رکھنے کے لیے بھی بات چیت کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ امریکی اور روسی فورسز کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غیر ارادی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان سیاست اور سیاسی طوفان کے باوجود رابطہ ناگزیر ہو گا۔

امریکا اور روس کے اس منصوبے میں اردن کا ایک اہم کردار ہے۔ صدر ٹرمپ اور ولادی میر پوتین کے شاہ عبداللہ کے ساتھ شاندار تعلقات استوار ہیں۔ یہ تینوں لیڈر اور ان کے نائبین ِاوّل اردن کی شام کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں کیونکہ اس سرحد کو مختلف جنگجو گروپوں کی جانب سے خطرہ لاحق ہے ۔ اردن کے ایک اعلیٰ عہدہ دار کے بہ قول عمان کے سینیر سفارت کار واشنگٹن اور ماسکو کے سفارت کاروں کے ساتھ اردن کی سرحد سے شمال کی جا نب ایک محفوظ زون کے قیام کے لیے بات چیت کر رہے ہیں ۔ اس کا مقصد ہاشمی بادشاہت کو شام کے وسطی شمالی علاقے کی جانب سے آنے والے مہاجرین کے سیلاب کو روکنا ہے کیونکہ وہاں الرقہ اور دیر الزور کی جانب پیش قدمی کے لیے مختلف گروپوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور اردن مزید شامی مہاجرین کے بوجھ کو نہیں سہار سکتا۔اس تمام عمل یا کہانی کے کئی ایک کردار ہیں۔

ان میں سب سے پہلے کرد ملیشیا وائی پی جی کی قیادت میں شامی جمہوری فورسز ہیں۔ یہ عرب اور کرد فورسز ترکی کی مخالف ہیں اور ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ دمشق بھی وائی پی جی کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اس کرد ملیشیا کو اسلحے کی شکل میں مزید امداد مہیا کررہی ہے۔ دمشق اور وائی پی جی کے تعلقات بھی پیچیدگی کا شکار ہیں اور ان کے مفادات بھی باہم متصادم ہیں۔ البتہ سلفی جہادیوں کے خلاف لڑائی میں دونوں کا نصب العین مشترکہ ہے۔ روس بھی وائی پی جی کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کے مقاصد اور مفادات امریکا سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اس تحریک کا ایک مقصد ترکی اور روس کے درمیان ایران فائل کے معاملے پر میدان جنگ میں رعایتیں حاصل کرنا ہے۔ اگرچہ انقرہ ، ماسکو اور تہران نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام میں محفوظ زونز کے قیام اور بحران کے سیاسی حل کے لیے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں مگر سیف زونز کے قیام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ ، روس اور بعض متعلقہ عرب ممالک اردن اور خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان کام کی وجہ سے ترکی متاثر نظر آتا ہے۔

حتمی حل؟
شام میں جاری بحران کے حتمی حل کا ابھی فیصلہ ہونا ہے۔ ٹرمپ اور روس شام کے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان فرق فطری طور پر ایران ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک سخت طرز عمل اختیار کیا ہے اور وائٹ ہاؤس یہ بھی چاہتا ہے کہ پوتین ایران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کریں۔ ان تمام امور کو ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات نے مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور وہاں اصولیوں اور پاسداران انقلاب ایران کے درمیان ممکنہ دنگل سے شام کے بارے میں ٹرمپ ، پوتین کا حل مزید پیچیدگی کا شکار ہو جائے گا۔

ہمیں ٹرمپ اور پوتین کے درمیان جولائی میں جرمنی میں متوقع ملاقات کا انتظار کرنا ہو گا لیکن بین الاقوامی واقعات جس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں، اس کے پیش نظر تو ان دونوں لیڈروں کے درمیان اس سے پہلے بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔ آیندہ ہفتے سعودی عرب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تین تاریخی سربراہ ملاقاتوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان تینوں میں شامی تنازعے کے حل پر بات ہو گی۔ ایران کے خلاف تنقید کی سطح بہت بلند ہو گی اور سعودی مملکت اور اس کے اتحادی امریکا کو ایران کو شام سے نکال باہر کرنے کے لیے ہر ممکن امداد مہیا کرنے کی پیش کش کریں گے۔

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان نئے گرم جوش تعلقات کے بعد تو الریاض بھی شام کے تنازعے میں ایک اضافی کردار بن گیا ہے اور وہ ٹرمپ کے ذریعے صدر پوتین کو شام کے معاملے میں چیلنج کرنے جا رہا ہے۔ امریکی صدر ممکنہ طور پر پوتین کا ہاتھ اپنے سعودی شراکت داروں سے ملوا سکتے ہیں اور آیندہ ہفتوں کے دوران میں ٹرمپ ، الریاض اور ماسکو کی تکون منظرعام پر آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک

No comments:

Powered by Blogger.