Header Ads

Breaking News
recent

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز كومی کو ان کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا ؟

امریکہ کے تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے
ڈائریکٹر جیمز كومی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس کا احساس نہ تو کانگریس کو تھا، نہ ہی كنزرویٹو حلقوں میں کسی کو گمان تھا۔ یہاں تک کہ خود ایف بی آئی کو بھی اس کا احساس نہیں تھا کہ انھیں برطرف کر دیا جائے گا۔ ایسے میں ٹرمپ کے اس قدم سے کئی طرح کے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ جس وقت اور جتنی جلد بازی میں جیمز كومی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔

صرف ایک ہفتہ قبل ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات پر بیان دیا تھا۔ اور اس ضمن میں ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روسی حکام کے مبینہ تعلقات پر خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مسٹر كومی 'عالمی خطرات' پر خطاب کے لیے ایک بار پھر کانگریس کے روبرو پیش ہونے والے تھے۔ مسٹر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم پر روس سے ساز باز کے الزام پر مسلسل ٹویٹ کرتے رہے ہیں اور وہ اسے 'افواہ' قرار دیتے ہیں اور اس کے متعلق تحقیقات کو 'ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسوں سے تیار کردہ چھلاوہ' کہتے ہیں۔

پہلے جس کی ہمت اور جرات کی تعریف کی گئی اچانک اسی شخص کو صدر نے خود ہی باہر جانے کا راستہ دکھا دیا۔ جبکہ اس معاملے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مسٹر كومی کو ہلیری کلنٹن کی ای میل اور غیر محفوظ سرور سے منسلک انکوائری کے متعلق خدشات کی وجہ سے برطرف کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی اس دلیل کو بہت سے لوگ ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔ بطور خاص ڈیموکریٹس کے لیے یہ دلیل ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ صدر ٹرمپ مسٹر كومی کے معاملے میں گذشتہ سال کو یاد کر سکتے ہیں جب انتخابات سے قبل انھوں نے ای میل سے منسلک تحقیقات کے لیے ان کی تعریف کی تھی۔

ٹرمپ نے ایک انتخابی ریلی میں کہا تھا: 'كومی نے ہلیری کلنٹن کے معاملے میں اپنی جرات کا ثبوت دیا ہے۔' اس وقت کومی ان کے لیے بہت بہادر تھے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ ایف بی آئی ڈائریکٹر سے ناخوش تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق وہ گذشتہ چند ہفتوں سے كومی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مناسب وجہ کی تلاش میں تھے۔
كومی کو عہدے سے اس وقت کیوں ہٹایا؟

اگر صدر ٹرمپ نے مسٹر كومی کو ای میل کی چھان بین کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا ہے تو ایسا انھوں نے اب کیوں کیا؟ آخر وائٹ ہاؤس ان سوالات کے جوابات کس طرح دے گا؟ کیا ان سوالات کو چھپا لیا جائے گا یا پھر وقت کے ساتھ یہ ختم ہو جائیں گے؟ مسٹر کومی کی برطرفی سے قبل وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹک سینیٹ کے اقلیتی لیڈر کے ایک پرانے قول کو پھیلانا شروع کر دیا۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کے متعلق ایف بی آئی ڈائریکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا: 'ہمیں اب ان پر اعتماد نہیں رہا۔'

بہت سے ڈیموکریٹس جو اب مسٹر كومی کی برطرفی کی مخالفت کر رہے ہیں وہ پہلے ان کے بارے میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مسٹر كومی امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کے روس سے مبینہ تعلقات کی تحقیقات کس طرح کر رہے تھے۔ انتخابات کے دوران ڈیموکریٹ امیدوار ہلیري کلنٹن کے ای میل اور ٹرمپ-روس تعلقات پر خاصی بحث ہوئی تھی۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں مبینہ روسی مداخلت کے متعلق شومر نے آزادانہ جانچ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

انتھونی زرکر
رپورٹر، شمالی امریکہ

No comments:

Powered by Blogger.