Header Ads

Breaking News
recent

ون روڈ‘ ون بیلٹ…ترقی کا منصوبہ


وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ان دنوں چین کے دورے پر ہیں‘ وفاقی وزراء اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ چینی قیادت سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ون بیلٹ اینڈ ون روڈ وژن کی حمایت کرتا ہے‘ چین ہمارا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، سی پیک میں چین کی جانب سے 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے ترقی و خوشحالی آئے گی‘ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ‘ وہ بھی بات چیت سے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ 


چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس دو طرفہ تعاون کو مستحکم بنانے کی مزید صلاحیت موجود ہے‘ چین پاکستان کے ساتھ سدا بہار تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کا فروغ چاہتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں سی پیک اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان بھاشا ڈیم‘ گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر میں تعاون سمیت 50 کروڑ ڈالر کے 6 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

معاشی ماہرین چین میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ آیندہ آنے والی چند دہائیوں میں چین دنیا کی معاشی سپر طاقت بن جائے گا۔ اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے چین عالمی سطح پر نئے تجارتی راستے تعمیر کر رہا ، اب اس نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ کا وژن پیش کیا ہے‘ اس منصوبے کے تحت چین کو ایشیا‘ افریقہ اور یورپ سے زمینی راستوں کے علاوہ سمندری راستوں سے آپس میں منسلک کیا جائے گا۔ یہ ترقی کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے چین اپنی معاشی ترقی اور تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے چین میں دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو فورم کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 130 ممالک سے 1500 مندوبین اور 29 سربراہان مملکت شریک ہو رہے ہیں۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو کے دو اہم حصے ہیں، ایک ’’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘‘ اور دوسرا ’’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ‘‘ ہے۔

21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔ خطے کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس تناظر میں یہاں چین اور بھارت دو بڑی معاشی قوت کی حیثیت سے ابھر رہی ہیں‘ ایک جانب چین پوری دنیا کی تجارت پر قبضہ کرنے کے لیے نئے نئے راستے تعمیر کر رہا تو دوسری جانب بھارت چین کو حریف تصور کرتے ہوئے اپنے الگ راستے تشکیل دے رہا ہے جن میں ایران میں چاہ بہار کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ون بیلٹ اینڈ ون روڈ فورم کے انعقاد پر چینی صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس منصوبے کی حمایت کر کے درست قدم اٹھایا۔ چین اس وقت پاکستان میں سی پیک منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے‘ چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہیں اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چینی توانائی کمپنیوں کے وفد سے ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ 

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وزارت پانی و بجلی اور پلاننگ کمیشن چینی حکام سے مل کر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام کریں گے جو 9سال میں مکمل ہوگا اس سے پاکستانی عوام کو سستی بجلی میسر ہو گی۔ ایک اندازے کے مطابق بھاشا ڈیم سے 40ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ چین پاکستان میں تجارتی راستوں کی تعمیر کے علاوہ توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں جس قدر گہری دلچسپی لے رہا اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ آیندہ چند سالوں میں پاکستان توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا جس سے یہاں اقتصادی اور صنعتی زونز کے قیام سے ترقی کا عمل تیز ہو جائے گا۔ 

سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا اس سے اقتصادی ترقی اور خطے سے غربت کے خاتمے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی راہداری پر عملداری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ‘ توانائی اور بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس خطے میں ہونے والی ترقی سے کتنے فوائد سمیٹتا ہے یہ ہمارے معاشی پالیسی سازوں کی کارکردگی کا بڑا امتحان ہے۔






No comments:

Powered by Blogger.