Header Ads

Breaking News
recent

سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ؟


یوروپول کے سربراہ روب وین رائٹ کے مطابق جمعے کے دن سے ہونے والے
سائبر حملوں نے 150 ممالک میں دو لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔ یوروپول یورپی یونین میں قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ انہوں کے مطابق سائبر حملوں کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں وائرس کی مدد سے استعمال کنندگان کی فائلوں پر کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ادائیگیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان سائبر حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ برطانیہ اور روس بنے ہیں۔ حملہ رینسم ویئر کمپیوٹر وائرس کا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین انہیں مشترکہ حملے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بہت بڑا حملہ ہے۔ معروف اینٹی وائرس سافٹ ویئر ’’ایواسٹ‘‘ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا بھی یہی خیال ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کا تعلق ایک ہیکر گروپ سے ہے جس کا نام ’’دی شیڈو بروکرز‘‘ بتایا جاتا ہے۔ اس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹولز چرا کر نشر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ معروف کمپنی مائیکروسافٹ کمپنی نے کچھ عرصہ قبل میں اسی طرح کے حملے سے بچنے کے لیے پیکیج اور اپ ڈیٹ جاری کی تھی لیکن بہت سے کمپیوٹروں میں یہ انسٹال نہیں ہوئی۔ دنیا میں سائبر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اسے راز معلوم کرنے، رقم بٹورنے اور دشمن ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف ممالک ایک دوسرے پر ان حملوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ان میں روس، چین، امریکا اور ایران قابل ذکر ہیں۔ تاہم متعدد بار یہ کام انفرادی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔

عبدالحفیظ ظفر




No comments:

Powered by Blogger.