Header Ads

Breaking News
recent

پرتشدد گئو رکشک ہندوؤں کو جھوٹا ثابت کر رہے ہیں

یہ بھیڑ مذہبی اشتعال انگیزوں کے پیچھے چلنے لگتی ہے، یہ بھیڑ کسی بھی ایسی
تنظیم کے ساتھ ہو سکتی ہے جو ان میں اشتعال اور کشیدگی پیدا کر دے۔ پھر اس بھیڑ سے تباہ کن کام کرائے جا سکتے ہیں۔‘ 'ہمارے ملک میں اس بھیڑ میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کا استعمال بھی ہو رہا ہے، مستقبل میں اس بھیڑ کا استعمال سارے قومی اور انسانی اقدار کی تباہی کے لیے اور جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ' یہ اقتباس ہندی کے معروف مصنف ہری شنکر پرسائی کی دہائیوں پرانی تحریر 'آوارہ بھیڑ کے خطرے' سے ماخوذ ہے۔ پرسائی کی لکھی بہت سی باتیں نوسٹرا ڈیمس کی پیشن گوئی سے بھی زیادہ درست نظر آتی ہیں۔

سنہ 1984 میں سکھوں کا قتل عام کرنے والی بھیڑ ہو یا گجرات کا فسادی ہجوم، ہم نے بھیڑ کا خوفناک چہرہ بار بار دیکھا ہے لیکن اس کے خطروں کو بالکل نہیں سمجھا ہے۔ انڈیا میں فسادات کی تاریخ پرانی ہے، فسادات بھڑکتے رہے ہیں اور چند دنوں میں کئی جانیں لے کر پرسکون ہو جاتے ہیں۔ کئی بار تحریکیں پر تشدد ہو جاتی ہیں، جیسے گذشتہ سال کی جاٹ تحریک۔ کوئی چنگاری اڑتی ہے، شعلہ بھڑكتا ہے، کوئی فوری وجہ ہوتی ہے، پرانی نفرت تشدد کی شکل میں پھوٹ نکلتی ہے لیکن پھر سب آہستہ آہستہ معمول پر آ جاتا ہے۔ اس وقت ملک میں فسادات نہیں ہو رہے ہیں لیکن جو ہو رہا ہے وہ شاید زیادہ خطرناک ہے۔ فسادات واقعہ ہے، مگر ابھی جو چل رہا ہے وہ ایک مسلسل عمل ہے اور یہ دھیرے دھیرے معمول پر آنے والی چیز نہیں ہے۔ اخلاق احمد، مظلوم، عنایت اللہ اور پہلو خان جیسے ناموں کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ انھیں جس ہجوم نے مارا ہے وہ فسادی نہیں ہیں بلکہ ان کا ایک قابل فخر نام 'گئو ركشك' یا گائے کا محافظ ہے۔
ان کی باتیں سنیے۔ ان کے خیال میں وہ ایک بڑا اہم اور عظیم کام کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اب تک بیکار گھومنے والے لوگوں کو ان کی زندگی کا عظیم ترین مقصد مل گیا ہے، جب ان کا موازنہ بھگت سنگھ سے ہونے لگے تو وہ اپنی زندگی کو قابل ستائش کیوں نہ سمجھیں؟ مذہب، قوم اور گئو ماتا کی حفاظت کے بڑے اصولوں سرشار ان لوگوں کو اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لیے آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ ابتدائی کامیابیوں اور خاموش شاباش کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ صحیح راہ پر ہیں۔ مذہب اور اقتدار کی شہ پر پنپنے والی یہ بھیڑ خود کو قانون اور انصاف سے ماورا تصور کرتی ہے۔ جب انھیں بزعم خود فوری سزا سنانے کے حقوق حاصل ہوں تو وہ پولیس یا عدالتوں کی پرواہ کیوں کریں، یا ان سے کیوں ڈریں؟ گئو ركشكوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بات تو دور، اقتدار میں بیٹھے اور یہاں تک کہ اپوزیشن کے کسی لیڈر نے پورا منہ کھول کر اس خونی بھیڑ کی مذمت بھی نہیں کی۔

بہت دباؤ ہو تو کہا جاتا ہے کہ گئو ركشک ہونا چاہیے لیکن کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ قتل کرنے کو 'قانون ہاتھ میں لینا' کہنا پرتشدد سازش میں شامل ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ کیا ملک کے ہندوؤں کو یہ احساس ہے کہ پر تشدد گئو ركشک میں کوئی برائی نہیں ہے؟ کیا ایسا صرف اس لیے ہے کہ وہ اس کے شکار نہیں ہونے والوں میں شامل نہیں؟ کیا ان کی نظر میں گائے کی جان انسانی جان کے برابر اور کئی بار اس سے زیادہ قیمتی ہے؟

وہ شاید اس رجحان کو نہیں سمجھ رہے ہیں جو گئو ركشكوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ یہی پر تشدد ہجوم کبھی افریقی نسل کے شہریوں پر، کبھی دلتوں (پسماندہ ہندوؤں) پر، کبھی قبائلیوں پر، کبھی خواتین پر حملے کرے گی۔ جس آئین اور قانون کے تحت ہندوؤں کو اپنی حفاظت کا بھروسہ ہے، کیا وہ گئو ركشكوں کو اس سے بالاتر نہیں بنا رہے ہیں؟ کبھی نفرت کے جنون میں تو کبھی نادانی میں۔
ان کی حوصلہ افزائی میں تو کوئی مشکل پیش نہیں آئی لیکن انھیں روکنا تقریبا ناممکن ہو جائے گا۔ اس کی مثال پڑوس میں ہے، جب مجاہدین اسلام کی حفاظت کا عظیم کام کر رہے تھے، معاشرے کے ایک طبقے میں ان کی بڑی عزت تھی، اب وہی دہشت گرد کہے جا رہے ہیں لیکن کیا مجال ہے کہ وہ کسی کے سمجھانے سے سمجھ جائیں۔ بہت سے لوگ اس بات پر ناراض ہو سکتے ہیں کہ ہندوؤں کا موازنہ مسلمانوں سے نہ کیا جائے، لیکن ہندو مذہب کو امن پسند اور غیر متشدد کہنے والوں کو یہ روز افزوں پر تشدد بھیڑ جھوٹا ثابت کر رہی ہے۔

راجیش پریہ درشی
ڈیجیٹل ایڈیٹر، بی بی سی ہندی

No comments:

Powered by Blogger.