Header Ads

Breaking News
recent

’ایف بی آئی نے آئی فون کا کوڈ کیسے توڑا‘

امریکی تحقیقاتی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ریاست
فلوریڈا کے شہر سان برنارڈینو کے ریجنل سینٹر پر حملہ کرنے والے حملہ آوروں کے آئی فون کو ’ڈی کوڈ ‘ کرنے کے حوالے سے ایک کمپنی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی 100 صفحات پر مشتمل سنسر شدہ دستاویزات جاری کردیں۔
جاری کیے گئے دستاویزات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایف بی آئی نے آئی فون کھولنے یا اس کا ’لاک‘ توڑنے کے لیے کس کی خدمات حاصل کیں اور اس پر کتنے اخراجات آئے۔ امریکی خبر رساں اداے ’اے پی‘کی رپورٹ کے مطابق یہ یہ ریکارڈز میڈیا اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس، وائس میڈیا اور یو ایس اے ٹوڈے کی پیرنٹ کمپنی گینیٹ کی جانب سے ایف بی آئی پر دائر مقدمے کے نتیجے میں جاری کیے گئے۔ ذرائع ابلاٖغ کے اداروں نے گزشتہ برس ستمبر میں ایف بی آئی پر یہ جاننے کے لیے مقدمہ کیا تھا کہ اس نے سان برناڈینو حملے میں ملوث سید رضوان فاروق کے آئی فون سے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے کس کی خدمات حاصل کیں کتنے پیسے خرچ کیے۔
خیال رہے کہ سید رضوان فاروق نے دسمبر 2015 میں ریاست فلوریڈا کے شہر سان برنارڈینو میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ حملہ کرکے 14 افراد کو قتل کردیا تھا۔
اس معاملے کی ابتدائی تحقیقات کے دوران کافی عرصے تک ایف بی آئی کا یہ موقف رہا تھا کہ حملہ آوروں کے فون ڈیٹا تک رسائی صرف موبائل فون بنانے والی کمپنی ’ایپل‘ ہی کر سکتی ہے کیوں کہ حملہ آور نے فون پر خفیہ کوڈ لگا رکھا ہے، لیکن بعد میں ایف بی آئی نے ایک نامعلوم تیسری پارٹی کی مدد سے اس فون کا خفیہ کوڈ کھول لیا یا توڑ دیا۔ ایف بی آئی نے اپنی رپورٹ میں وہ اہم معلومات سنسر کر دیں جن سے یہ معلوم ہوسکتا کہ آئی فون کا خفیہ کوڈ کھولنے یا اسے توڑنے کے لیے ایف بی آئی نے کتنے پیسے خرچ کیے، کتنے افراد کی خدمات حاصل کیں اور فون کو کیسے کھولا گیا۔ جاری کیے گئے دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی نے فون کھولنے یا توڑنے سے پہلے یہ کام سرانجام دینے والے کے ساتھ رازداری کا قانونی معاہدہ کیا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ موبائل فون کو ان لاک کرنے کے لیے خصوصی ڈیوائس تیار کرنے کی خواہاں کمپنیوں کی جانب سے ایف بی آئی سے کم سے کم کو کم سے کم تین بار رابطہ کیا گیا تا ہم ان میں سے کوئی بھی کمپنی اس حوالے سے جلد کوئی حل پیش نہ کر سکیں۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آئی نے اس حوالے سے وسیع پیمانے پر بولیاں بھی طلب نہیں کیں کیوں کہ اسے خدشہ تھا کہ ایف بی آئی کی ضروریات افشاء ہونے سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایف بی آئی کے خلاف گزشتہ برس مارچ میں اس وقت مقدمہ درج کیا گیا تھا جب ایف بی آئی نے اچانک اعلان کیا تھا کہ حملہ آور رضوان فاروق کا آئی فون کھولنے کے لیے اس نے تیسرے فریق سے ایک آلہ خدیدا ہے۔ ابلاغی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے مقدمے میں ایف بی آئی کے معلومات حاصل کرنے کے ذرائع کو چیلنج کیا گیا اور دلیل دی کہ ایف بی آئی کے پاس معلومات چھپانے کا کوئی بھی قانونی جواز موجود نہیں۔ میڈیا اداروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا فون ’ان لاک‘ کرنے والے نے حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے ، کیا وہ حکومت سے رقم وصول کرنے کا اہل ہے اور کیا وہ صرف عوامی مفاد کے لیے کام کرنے والا ہے۔ ایف بی آئی نے فون سے حاصل ہونے والا تمام ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرتب کیا گیا تھا اور ریکارڈ تک وہ ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

ایف بی آئی نے یہ بھی کہا کہ واقعے میں ملوث دونوں حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں اور دیگر کسی کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ خیال رہے کہ سان برنارڈینو میں قائم معذور افراد کے سینٹر پر دسمبر 2015 میں تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔ حملے کے بعد سان برنارڈینو پولیس چیف نے کہا تھا حملہ آور سید رضوان فاروق امریکی شہری تھا، پولیس نے سید فاروق اور ایک خاتون کو آپریشن کے بعد ہلاک کیا تھا، جسے بعد ازاں رضوان فاروق کی اہلیہ کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ ایف بی آئی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا رضوان فاروق اور تاشفین ملک کے کسی منظم دہشت گرد گروپ سے تعلق کے ثبوت نہیں ملے۔ ایف بی آئی رضوان فاروق کے آئی فون کو ڈی کوڈ کرکے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش میں تھی، اسی کیس میں ایک امریکی عدالت نے ایپل کمپنی کو موبائل فون ڈی کوڈ کرنے کا کہا تھا۔ ایپل نے امریکی عدالت کے حکم کے باوجود ایف بی آئی کو رضوان فاروق کی موبائل فون کے ڈیٹا تک رسائی دینے سے انکار کردیا تھا۔

No comments:

Powered by Blogger.